حضرت محمدؐصرف مسلمانوں کے لئے نہیں پوری دنیا کے لئے رحمت بناکر بھیجے گئے

تاثیر،۲۷  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

پروفیسر ایس این سنہا، پروفیسر رام پریہ شرما، پروفیسر ودیاپتی چودھری، ڈاکٹر احمد عبدالحئی، پروفیسر ابوذرکمال الدین، ڈاکٹر آصف رضا اور ڈاکٹر اقبال احمد کا جلسہ سیرت النبیؐ سے خطاب

پٹنہ27نومبر(پریس ریلیز): پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال کی میلاد کمیٹی کی جانب سے اتوار کی رات آر ایس بی آڈیٹوریم میں 74واں جلسۂ سیرۃ النبی کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت بہار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایس این سنہا نے کی جبکہ نظامت کے فرائض تابش، ہما، شگفتہ، عظمیٰ، علی، عارف، شفقت، رضیہ رونق، رضیہ تبسم اور دیگر طلبا و طالبات نے مشترکہ طور سے انجام دیے۔
وائس چانسلر پروفیسر ایس این سنہا نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پیغمبر محمدﷺ امن و انسانیت کے سب سے بڑے مبلغ تھے جن کی پوری زندگی انسانی فلاح ، عالمی بھائی چارہ اور امن و سماجی خیرسگالی کے لئے وقف تھی۔ ان کی سیرت پڑھنے اور سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی مثالی زندگی اور پیغام پوری انسانیت کے لئے قابل عمل اور قابل تقلید ہے۔
بھاگلپور یونیورسٹی کے ہندی اور سنسکرت کے شعبہ صدر پروفیسر ڈاکٹر رام پریہ شرما نے جلسہ سیرۃ النبی سے خطاب کرتے ہوئے وید، رامائن کے مختلف شلوکوں کے ذریعہ حضرت محمد کا تفصیلی طور پر تعارف کرایا اور کہا کہ حضرت محمدؐ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے پوری انسانیت کی خدمت کی۔ انسانی فلاح کو انہوں نے اپنی اوّلین ترجیح مانا تھا اور اسی کو اپنے رب کی رضا کا سب سے اچھا راستہ خود بھی منتخب کیا اور پوری دنیا کو بھی پیغام دیا۔ ماہر اسلامیات پروفیسر ڈاکٹر ابوذر کمال الدین نے قرآن اور حدیث کے ذریعہ حضرت محمدﷺ کی زندگی پر روشنی ڈالی۔

پی ایم سی ایچ کے پرنسپل ڈاکٹر پروفیسر ودیاپتی چودھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ایم سی ایچ احاطہ کے لیے جلسہ سیرت النبیؐ کا انعقاد قابل فخر اور قابل قدر ہے جہاں بڑی تعداد میں طلبا و طالبات کے جوش و خروش کو دیکھ کر انہیں قلبی سکون وا طمینان ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر حضرت محمدﷺ انسانیت کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔وہ بے حد امن پسند تھے جن کا امن پسندی اور سچائی و ایمانداری کے معاملے میں کوئی ثانی نہیں۔ وہ دوست و دشمن سب سے پیار کرتے تھے۔ سچائی اور عدم تشدد کی راہ انہوں نے پوری دنیا کو دکھائی۔ ان کی تعلیمات پر عمل میں موجودہ عالمی بحران کا بھی حل موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ڈاکٹروں کا فریضہ ہے کہ درد سے کراہتی انسانیت کی خدمت کریں۔ دراصل جلسہ سیرت النبیؐ میں آپ سب کے قدم سے ہال سمیت پورے پی ایم سی ایچ احاطہ کی رونق بڑھی ہے اور یہ سرزمین پاک ہوگئی ہے۔ امن و بھائی چارہ کا پیغام عام کئے جانے اور تعلیمات نبویؐ کو ہر شخص تک پہنچانے کی شدید ضرورت ہے۔ ہم سب کو مل جل کر آگے بڑھنا ہوگا اور ہر طبقہ کی خدمت کرنی ہوگی۔ سماج کے سب سے کمزور طبقے اور فرد پر خاص توجہ دینی ہوگی جیسا حضرت محمدﷺ نے اپنی زندگی میں کرکے دکھایا ہے۔ جلسہ سیرت النبیؐ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد عبدالحئی نے کہا کہ 1925ء میں پٹنہ میڈیکل کالج کا قیام عمل میں آیا اور محض دو سال بعد 100سال مکمل ہونے پر صد سالہ جشن منایا جائے گا۔ ان کے والد 1927ء میں یہاں سکنڈ ایئر کے طالب علم تھے۔ پی ایم سی ایچ میں قیام کے بعد سے ہی جلسہ سیرت النبیؐ کے انعقاد کی بہترین روایت چل رہی ہے لیکن ریکارڈ کے مطابق یہ جلسہ 74واں ہے۔ سال کے 365دن 24 گھنٹے ہم ڈاکٹر لوگ صحت خدمات میں سرگرم رہ کر لوگوں خے جسم کا علاج کرتے ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ جلسہ سیرت النبیؐ منعقد کرکے روح کا علاج بھی کرتے ہیں جو انسانی بقا کے لیے بے حد ضروری ہے اور روح کے علاج سے ہی جسم کا علاج بھی مکمل ہوتا ہے۔ تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر سید ابوذرکمال الدین نے کلیدی خطبہ دیا اور تعلیمات نبویؐ پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ جلسہ سے ڈاکٹر محمد اقبال احمد، ڈاکٹر آصف رضا، ڈاکٹر فرحان عثمانی، ڈاکٹر نفیس فاطمہ، ڈاکٹر شکیل احمد اور دیگر نامور شخصیتوں نے بھی خطاب کیا جبکہ بہار اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر یونس حسین حکیم، نامور دانشور ایم ٹی کیفی، ظفیر احمد، ڈاکٹر سجاد حیدر، ڈاکٹر سجاد احسن، پروفیسر آئی ایس ٹھاکر، ڈاکٹر سرفراز عالم، ڈاکٹر ایم جی رائی، ڈاکٹر شفقت عارفین، ڈاکٹر سمیر رحمان بھی شریک تھے۔