تاثیر،۴ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 4 نومبر: عام آدمی پارٹی کی چیف ترجمان پرینکا ککڑ نے سنیچر کو میڈیا رپورٹس کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی میں پڑوسی ریاست ہریانہ کا سب سے بڑا کردار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہریانہ فضائی آلودگی کی پوری طرح نگرانی بھی نہیں کرتا ہے۔جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں، پرینکا نے میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے سب سے زیادہ آلودہ اضلاع میں سے 20 ہریانہ اور دو پنجاب کے ہیں۔ ان میں سرفہرست شہر ہنومان گڑھ، فتح آباد، حصار، جھیل، فرید آباد اور گریٹر نوئیڈا ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جمعہ کو اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کہا تھا کہ غازی آباد میں اترتے ہی ان کی آنکھیں جلنے لگیں۔ پرینکا نے کہا کہ یہ ساری آلودگی ہریانہ کی ہے۔ ہریانہ فضائی آلودگی کی پوری طرح نگرانی بھی نہیں کرتا ہے۔ ہریانہ کا رقبہ تقریباً 45 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس میں صرف 29 مقامات پر فضائی آلودگی کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس دہلی میں تعلیم یافتہ حکومت ہے۔ دہلی میں تقریباً 37 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مانیٹرنگ سینٹر ہے اور کل 40 مانیٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسائل کا حل تلاش کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ جمعہ کو، غازی آباد کے لونی میں ایک افسر کے گھر کے سامنے اے کیو آئی مانیٹر نصب کیا گیا تھا۔ ریڈنگ کم رکھنے کے لیے واٹر کینن کا مسلسل استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے باوجود وہاں کی آلودگی دہلی سے زیادہ تھی۔پرینکا ککڑ نے کہا کہ پنجاب میں پرالی کا مرکز دہلی سے تقریباً 500 کلومیٹر دور ہے جبکہ ہریانہ کا مرکز 129 کلومیٹر دور ہے۔ ہوا کی رفتار بھی کم ہے۔ اس لیے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ دہلی میں آلودگی کہاں سے آ رہی ہے۔ ہریانہ حکومت سے یہ سوال پوچھنا فطری ہے کہ وہ پرالی کی آلودگی کو کم کیوں نہیں کر پا رہی ہے جبکہ پنجاب نے صرف ایک سال میں ایسا کر دیا ہے۔
ہریانہ حکومت نے پرالی کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں یا اس نے کس صنعت کے ساتھ معاہدہ کیا ہے تاکہ وہ پرالی کو خرید سکیں؟ پنجاب حکومت نے بھٹنڈہ میں 9 مراکز بنائے ہیں جہاں پر پرالی کو اکٹھا کرکے صنعت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

