دہلی پھر آلودگی کی زد میں

تاثیر،۶  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

راجدھانی دہلی کی ہوا آلودگی کی وجہ سے زہریلی ہو گئی ہے۔ پیر کو دہلی کا اوسط اے آئی کیو (ایئر کوالٹی انڈیکس)470  ریکارڈ کیا گیا۔جبکہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق  اے آئی کیو کا صفر سے 50 کے درمیان ہونا محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مطابق اوسطاََ اے آئی کیو 25
ہونا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس وقت دہلی کی ہوا ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ طے شدہ حد سے 20 گنا زیادہ آلودہ ہے۔ایسے میںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نومبر آتے آتےدہلی این سی آر کی ہوا اتنی زہریلی اور حالات یکایک اتنے خراب کیسے ہو جاتے ہیں؟ ہر سال کی طرح اس بار بھی نومبر تک دہلی این سی آرمیں ایک بار پھر آلودگی تیزی سے بڑھنے لگی ہے۔ کھانسی، زکام اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل ظاہر ہونے لگے ہیں۔حالانکہ دہلی حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کئی اہم فیصلے کئے ہیں، لیکن فی الحال آلودگی کے معاملے میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ ایسے وقت میں لوگوں کے ذہنوں میں اس سوال کا اٹھنا فطری ہے کہ ہر سال نومبر تک این سی آر کی ہوا زہریلی ہو جاتی ہے تو وقت رہتے اس سے نمٹنے کی تدابیر کیوں نہیں کی جاتی ہیں؟ متاثرہ علاقوں کے عوام کو کیوں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے ؟
ابھی حقیقت حال یہ ہے کہ دہلی کی ہوا اس وقت انتہائی خراب کیٹیگری میں پہنچ گئی ہے۔ دارالحکومت کا اے آئی کیو  جمعہ کو 1346 ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دہلی کے لودھی روڈ علاقے میں 438، جہانگیر پوری میں 491، آر کے پورم علاقے میں 486 اور آئی جی آئی ایئرپورٹ (ٹی۔3) کے آس پاس  اے کیو آئی  473 ریکارڈ کیا گیا۔اسی طرح این سی آر کے علاقہ نوئیڈا کی بات کی جائے ، تو یہاں سیکٹر 125 میں اے کیو آئی 400، سیکٹر 62 میں 483، سیکٹر 1 میں 413 اور سیکٹر 116 میں 415 تک پہنچ گیا ہے، جو ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ دہلی این سی آر میں آلودگی کی وجوہات میں گاڑیوں سے کاربن کا اخراج، تعمیراتی کاموں سے نکلنے والی دھول، صنعتی آلودگی، پٹاخے اور لینڈ فلڈ کی آگ وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن پنجاب، اتر پردیش، ہریانہ جیسی ریاستوں میں ہر سال نومبر میں جلائی جانے والی پرالی بھی اس آلودگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ موسم سرما میں ہوا مستحکم رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے دھول اور آلودگی جمع ہو کر اس کے ذرات ماحول میں ایئر لاک کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے اور کچھ ہی دیر میں وہ سموگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہی وہ صورتحال ہے ، جس کی وجہ سےدہلی پچھلے 5 سالوں سے ملک کا سب سے آلودہ شہر بنا ہوا ہے۔
  آلودگی کی صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے دہلی حکومت نے شہر میں جی آر اے پی۔3 نافذ کیا ہے۔اس ضابطے کے تحت سرکاری منصوبوں کے علاوہ کسی بھی قسم کی تعمیر یا انہدام پر روک لگا دی گئی ہے۔ ساتھ ہی دہلی حکومت نے بی ایس۔3 زمرہ کی پٹرول اور بی ایس ۔4 زمرہ کی ڈیزل گاڑیوں  کے داخلے پر مکمل پابندی عائدکر دی ہے۔ شہر میں صرف سی این جی او ر بی ایس۔6  گاڑیاں ہی داخل ہو رہی ہیں۔ آلودگی کے پیش نظر دہلی حکومت نے   نجی اور سرکاری سکولوں میں پرائمری سطح کے تمام اسکولوں میں 10 نومبر تک کے لئے چھٹی دیدی ہے۔ آلودگی کو کم کرنے کے لیے کئی مقامات پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے گاڑیوں کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ایک ہزار نجی سی این جی بسیں کرایہ پر لینے کا کام چل رہا ہے۔دیوالی کے اگلے دن سے ایک ہفتے کے لیے طاق-جفت فارمولے کو نافذ کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ زہریلی ہوا کے بارے میں، کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ سی اے کیو ایم نے دہلی-این سی آر کی ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اور نجی دفاتر کے 50 فیصد ملازمین کو دفتر میں بلائیں۔ باقی 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
  زہر آلود ہوا کی وجہ سے دہلی این سی آر کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سانس لینے میں دشواری، کھانسی، آنکھوں میں جلن اور جلد سے متعلق امراض کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق دہلی این سی آر کی سڑکیں سموکنگ زون بن چکی ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ  خراب ہوا کے معیار کی وجہ سے مختلف قسم کے کینسر کا اندیشہ رہتا ہے۔ فضائی آلودگی نظام تنفس کو نقصان پہنچاتی ہے اور دل کے دورے اور برین اسٹروک کو فروغ دیتی ہے۔ حاملہ خواتین اور بچوں کو آلودگی سے سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ آلودگی سے سب سے زیادہ خطرہ حاملہ خواتین اور بچوں کو ہوتا ہے۔ ہوا کا خراب معیار حاملہ خواتین کے رحم میں بڑھنے والے بچے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کیو بڑھتا ہے، چھوٹے بچوں کی دماغی نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے۔  ان کی ذہنی طاقت کم ہونے لگتی ہے۔
  دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی کے تجزیہ کے مطابق، راجدھانی میں یکم سے 15 نومبر تک آلودگی عروج پر ہوتی ہے، کیونکہ اس دوران پنجاب اور ہریانہ میں پرا لی جلانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے کا بھی یہ ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے 20۔15 دنوں تک دہلی این سی آر بہت نازک دور سے گزرنے والا ہے۔چنانچہ ڈاکٹروں نے دہلی این سی آر میں پھیلنے والی زہریلی آلودگی کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑنے کی وارننگ جاری کی ہے۔ ڈاکٹروں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبح سویرے یا شام دیر گئے باہر جانے سے گریز کریں کیونکہ اس وقت آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم این۔90  ماسک استعمال کریں۔ اس کے علاوہ گھر سے صرف اس صورت میں نکلیں جب بالکل ضروری ہو۔