روہت شرما لگاتار نو میچ جیتے، پھر بھی خطاب سے دور

تاثیر،۱۳  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی ، 13نومبر:ٹیم انڈیا ورلڈ کپ 2023 میں اب تک ایک بھی میچ نہیں ہاری ہے۔ ٹیم اپنے سبھی 9 میچ جیت کر سیمی فائنل میں پہنچ گئی ہے۔ اب روہت شرما کی کپتانی میں ٹیم سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے ٹکرائے گی۔ یہ میچ 15 نومبر کو ممبئی کے وان کھیڑے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ یہ ورلڈ کپ کا 13 واں سیزن ہے۔ ٹیم انڈیا اب تک دو بار 1983 اور 2011 میں خطاب جیت چکی ہے۔ 1983 میں کپل دیو کی کپتانی میں ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس کے بعد ایم ایس دھونی کی قیادت میں ٹیم انڈیا نے 2011 میں فائنل میں سری لنکا کو شکست دی تھی۔ ہندوستانی ٹیم نے 1983 میں 6 اور 2011 میں 7 میچ جیت کر ورلڈ کپ کا خطاب جیت لیا تھا۔ ایسے میں کئی شائقین کے ذہنوں میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ روہت شرما لگاتار 9 میچ جیتنے کے باوجود اب تک خطاب کیوں نہیں جیت سکے؟ آئیے آپ کو اس بارے میں بتاتے ہیں۔ 1983 کے ورلڈ کپ میں کل 8 ٹیموں نے حصہ لیا تھا اور انہیں 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہر ٹیم کو اپنے گروپ کی ہر ٹیم کیخلاف 2 میچ کھیلنے تھے۔ اس طرح ہندوستانی ٹیم کو گروپ راؤنڈ میں کل 6 میچ کھیلنے پڑے۔ٹیم نے 6 میں سے 4 میچ جیتے جبکہ 2 میں شکست ہوئی۔ پھر سیمی فائنل میں ٹیم انڈیا نے انگلینڈ کو شکست دی اور فائنل میں ٹیم انڈیا نے ویسٹ انڈیز کو شکست دی۔ ہندوستانی ٹیم نے کل 6 میچ جیتے۔ اب 2011 کے ورلڈ کپ کی بات کریں تو ٹورنامنٹ میں 14 ٹیمیں شامل تھیں۔ سات سات ٹیموں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس طرح ہندوستانی ٹیم نے گروپ راؤنڈ میں 6 میچ کھیلے اور 4 میں کامیابی حاصل کی۔ پھر کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا، سیمی فائنل میں پاکستان اور فائنل میں سری لنکا کو شکست دی۔ اس طرح ہندوستانی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں کل 7 میچ جیتے۔ اب بات کرتے ہیں ورلڈ کپ 2023 کی۔ اس بار کل 10 ٹیمیں اتریں اور اس بار کوئی گروپ بھی نہیں بنایا گیا۔ ہر ٹیم کو سبھی سے مقابلہ کرنا ہے۔ یعنی گروپ راؤنڈ میں ہر ٹیم کو 9-9 میچز کھیلنے تھے۔ اس کے بعد سیمی فائنل اور فائنل۔ یعنی ٹیم انڈیا کو چمپئن بننے کے لیے 11 میچ جیتنے ہوں گے۔ ورلڈ کپ 2023 کی بات کریں تو آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ دوسرے سیمی فائنل میں 16 نومبر کو ایڈن گارڈنز، کولکاتہ میں آمنے سامنے ہوں گے۔ کنگارو ٹیم اب تک 5 خطاب جیت چکی ہے۔ دوسری جانب جنوبی افریقی ٹیم ابھی تک فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ سیمی فائنل میں پہنچنے والی 4 ٹیموں کی بات کریں تو ہندوستان اور آسٹریلیا ون ڈے ورلڈ کپ کا خطاب اپنے نام کر چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ ابھی تک اپنے پہلے خطاب کے منتظر ہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ کوئی نیا چمپئن ملتا ہے یا نہیں۔