غزہ سے 400سے زائد افراد مصر منتقل

تاثیر،۲  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

غزہ،2نومبر:غزہ سے 76 زخمی فلسطینی اور 335 غیر ملکی مصر میں داخل ہوئے، یہ 7 اکتوبرکو حماس حملے کے نتیجے میں محصور علاقے میں اسرائیلی فورسز کی جارحیت کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے اس طرح کی پہلی منتقلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جبالیہ میں اسرائیل کے حملے کے نتیجے میں 50 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہونے کے ایک روز بعد غزہ کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ کو بدھ کے روز ایک اور دھماکے نے ہلا کر رکھ دیا۔رفح سرحد کے ایک حکام کا کہنا تھا کہ ایمبولینس کے ذریعے 76 زخمی غزہ سے مصر منتقل ہوئے اور غیر ملکی پاسپورٹ کے حامل 335 افراد کو 6 بسوں کے ذریعے منتقل کیا گیا، جو غزہ میں گزشتہ ماہ حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے ’مکمل محاصرے‘ کے نتیجے میں پھنس گئے تھے۔مصری انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ 90 زخمی فلسطینیوں اور 545 غیر ملکی اور دوہری شہریت کے حامل افراد کو سرحد پار کرنے کی اجازت دیں گے۔ایک سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ رفح سرحد ا?ج (جمعرات) دوبارہ کھولی جائے گی تاکہ دوہری شہریت کے حامل افراد اور غیر ملکیوں کو راستہ فراہم کیا جا سکے۔غیر ملکیوں میں ا?سٹریا کے 31 شہری، 4 اطالوی، 5 فرانسیسی اور جرمنی کے متعدد شہری شامل ہیں۔منگل کو امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کانگریس کو بتایا کہ تقریبا ایک ہزار افراد بشمول 400 امریکی شہری اور ان کے قریبی رشتہ دار غزہ میں پھنسے ہیں اور انخلا کے منتظر ہیں۔اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے منگل کو جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں حماس کے کمانڈر ابراہیم بیاری کو مار دیا جس کا’ 7 اکتوبر کے حملے کو منظم کرنے میں اہم کردار تھا’۔اسرائیلی صدر بنجمن نیتن یاہو نے تقریر میں کہا تھا کہ ’ہم ایک سخت جنگ میں ہیں، میں اسرائیل کے لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم اپنا کام مکمل کریں گیاور فتح حاصل ہوجانے تک آگے بڑھتے رہیں گے۔جینیوا میں، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے جبالیہ کیمپ پر فضائی حملے کو جنگی جرم نہیں کہا جاسکتا۔