تاثیر،۱۱ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی،11نومبر:اسرائیل اور حماس جنگ کے درمیان ڈبلیو ایچ او یعنی عالمی ادارہ صحت نے ایک بڑا انکشاف کیاہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈنام گیبریئس نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں اوسطاً ہر 10 منٹ میں ایک بچے کی موت ہورہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کے کسی بھی علاقے میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ ہم ا? پ کو بتادیں کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا ہے۔ فضائی حملے کے بعد اسرائیل اب غزہ میں زمینی حملہ کر رہا ہے اور حماس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے مزید کہا کہ غزہ کے 36 اسپتالوں میں سے نصف اور اس کے بنیادی مراکز صحت کا دو تہائی کام نہیں کر رہے ہیں اور جو کام کر رہے ہیں وہ اپنی صلاحیت سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہو ہزاروں بے گھر افراد اسپتالوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ ان کے خاندان پیرہجوم اسکولوں میں پھنسے ہوئے ہیں، کھانے اور پانی کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ غزہ میں اب تک11ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ گیبریئس نے مزید کہا کہ غزہ میں اوسطاً ہر 10 منٹ میں ایک بچے کی موت ریکارڈ کی جارہی ہے۔7 اکتوبر سے عالمی ادارہ صحت نے غزہ کے ہیلتھ کیئر سسٹم پر 250 سے زائد حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اسپتالوں پر 25 حملوں کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نیاسپتالوں کے نیچے سرنگوں میں ہتھیار چھپا رکھے ہیں جب کہ حماس ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اسرائیل نے جنوبی غزہ میں ایک اسپتال کے قیام کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ اردن نے کہا کہ اسرائیل یو اے ای، آئی سی آر سی اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ فیلڈ اسپتال اور تیرتے ہوئے اسپتال کے جہازوں کے قیام کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل نے اجلاس کے آغاز میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (UNRWA) کے ساتھ کام کرنے والے 101 افراد کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور غزہ میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی یاد میں چند لمحوں کے لیے خاموشی اختیار کی۔

