پانچ ریاستوں میں انتخابی مہم کا شور پچھلے کچھ دنوں سے کافی بڑھ گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی زور دار ریلیاں شروع ہو گئی ہیں۔ امت شاہ سے لے کر جے پی نڈا تک نےبی جے پی کو کامیاب بنانے کے لئے انتخابی ریاستوں میں مورچہ سنبھال لیا ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی سے لے کر پرینکا گاندھی تک پورے اعتماد کے ساتھ میدان میں ہیں۔ پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور علاقائی لیڈر بھی اپنے اپنے طور پر کوششیں کر رہے ہیں۔ایس پی، جے ڈی یو، بی ایس پی اور عام آدمی پارٹی بھی مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں ا پنی زمین تلاش کر رہی ہیں،لیکن ان تینوں ریاستوں میں بنیادی طور پر مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ ان پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے جو نتائج آئیں گے، ان کے اثرات اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے۔ ابھی اسمبلی انتخابات کی بات کریں تو سب سے پہلے 7 نومبر کو میزورم میں ووٹنگ ہونے والی ہے، 7 اور 17 نومبر کو چھتیس گڑھ میں دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے، 17 نومبر کو ہی مدھیہ پردیش میں 17 ووٹ ڈالے جائیں گے، راجستھان میں 25 نومبر کو اور تلنگانہ میں 30 کو ووٹنگ ہوگی ۔سبھی پانچ ریاستوں کے نتائج 3 دسمبر کو آئیں گے۔ جہاں 7 نومبر کو ووٹنگ ہے وہاں انتخابی مہم کا شور آج شام تھم جائے گا۔
اِدھر بی جے پی کے انتخابی چانکیہ یعنی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے پہلے ہی بہار میں آکر سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے۔ امت شاہ کل اتوارکو بہار کے مظفر پور پہنچے اورپتاہی ہوائی اڈے کے میدان میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کیا۔خطاب کا انداز حسب روایت جارحانہ تھا۔بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور آر جے ڈی صدر لالو یادو دونوں ہی ان کے نشانے پر تھے۔امت شاہ اپنے خطاب کے دوران بی جے پی حکومت کی حصولیابیوں کو گنایا ساتھ ہی بار بار آر جے ڈی کے مبینہ جنگل راج کی یاد دلاتے ہوئے جلسہ گاہ میں موجود اپنے حامیوں میں ’’ سیاسی ہندتو‘‘ کا احساس جگاتے رہے۔ انھوںنے اپنے خطاب میں ایودھیا کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لالو، نتیش اور کانگریس رام جنم بھومی کو لٹکاتے رہے۔ مودی جی نے بھومی پوجن کیا ۔شاندار مندر بنوایا۔22 جنوری کو رام للا کی پران پرتیشٹھا ہونے والی ہے۔ مظفر پور کے لوگو، آپ بھی پران پرتشٹھا سماروہ میں شرکت کیجئے۔ انھوںنے کہا کہ آج جب میں شمالی بہار آیا ہوں تو 2024 میں 40 میں سے 40 سیٹیں مودی کی جھولی میں ڈال دیجئے۔ بہار میں 2025 میں بی جے پی کی حکومت بننی ہے۔ وزیر داخلہ نے اجلاس میں آئے لوگوں سے پوچھا کہ کشمیر ہمارا ہے یا نہیں؟ آرٹیکل 370 کو ہٹانا چاہئے تھا یا نہیں؟ بہت سے لوگوں نے مخالفت کی تھی۔ کہا تھا کہ خون کی ندیاں بہیں گی۔خون کی ندیاں چھوڑو، کنکڑیاں پھینکنے کی بھی کسی میں ہمت نہیں تھی۔ نریندر مودی نے سرجیکل اسٹرائیک کرکے سب کو سیدھا کردیا۔ چاند پر ترنگا لہرایا۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت بنائی گئی۔ خواتین کو ریزرویشن دیا۔ 26 ہزار غریبوں کو گھر دئیے۔ ہماری حکومت نے 9 سالوں میں بہار کو ترقی کے لیے 6 لاکھ کروڑ روپے دیے۔ بہار میں دو بندے بھارت ٹرینیں دیں۔ گیا ہوائی اڈے کی جدید کاری کی۔مودی جی نے کل اعلان کیا تھا کہ پانچ سال تک غریبوں کو مزید مدد دی جائے گی۔
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر حملہ کرتے ہوئے امت شاہ بار بار انھیں پلٹو رام کہتے رہے۔انھوں نے کہا کہ جب بھی آپ نے آشیرواد دیا، پلٹو رام نے مینڈیٹ کو دھوکہ دیا۔ شاہ نے عوام سے سوال کیا کہ آپ نے لالو کے جنگل راج کے خلاف ووٹ دیا یا نہیں؟ اس پلٹو رام نے وزیر اعظم بننے کے لیے بہار کے مینڈیٹ کو دھوکہ دیا۔ نتیش کمار نے بہار میں جنگل راج دینے کا کام کیا ہے۔آج نتیش کمار اسی لالو یادو سے مل گئے ،جن کے خلاف الکشن لڑ کر وہ سیاست میں آئے اور کامیاب ہوئے۔کانگریس اور آر جے ڈی پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خاندانی دکانیں چلا رہے ہیں۔ ایک کو وزیراعظم اور دوسرے کو وزیراعلیٰ بننا ہے۔ بہار میں ذات پر مبنی سروے پر بھی طنز کیا اور کہا یہ سروے محض ایک چھلاوا ہے۔ نتیش اور لالو نے کبھی بھی پسماندہ طبقات کا احترام نہیں کیا۔ انھوں نے پوچھا کیا لالو جی اعلان کریں گے کہ اپوزیشن اتحاد کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا ؟ کیا وہ پسماندہ طبقے کو موقع دیں گے؟ ان لوگوں نے ہمیشہ خوشامد کی سیاست کی ہے۔ پورا بہار بدمعاشوں کا اڈہ بن چکا ہے۔ جبکہ اس بار جی۔20 کا انعقاد نریندر مودی کی قیادت میں کیا گیا ۔ دہلی کے منشور کو متفقہ طور پر قبول کرکے تمام ممالک نے نریندر مودی کو عزت بخشی ہے۔
دریں اثناسیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا خطاب تعلیم ، روزگار، صحت، زراعت، سڑک، بجلی اورپانی کے ساتھ ساتھ زندگی کے حاشئے پر جی رہے لوگوں کے لئے بنیادی ضرورتوں سے توجہ ہٹاکر بہار کی سیاست کو ’’ہندتو وادی‘‘ ایجنڈے سے جوڑنے کی کوشش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح نتیش حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق ریاست میں روزگار کے دروازے کھولے ہیں ، اسی طرح مرکزی حکومت کو بھی اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے ترجیحی بنیاد پر ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت سے جوڑنے اور ان کی توانائیوں کا صحیح استعمال کرنا چاہئے۔ہمارے سیاسی رہنماؤں کو نہ صرف یہ تسلیم کرنا چاہئے بلکہ اعلانیہ طور پر یہ کہنا بھی چاہئے کہ ملک میں پھیل رہی مجرمانہ سرگرمیوں کی بنیادی وجہ حد سے بڑھی ہوئی بے روزگاری ہے۔

