تاثیر،۳ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
اسلام آباد،3نومبر:سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر الیکشن کمیشن نے صدرِ مملکت سے مشاورت کے بعد عام انتخابات کی تاریخ کا نوٹی فکیشن عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل نے صدرِ مملکت کی دستخط شدہ کاپی بھی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ عاصم علی رانا کے مطابق جمعے کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رْکنی بینچ نے 90 روز میں الیکشن کرانے کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔چیف جسٹس نے حکم نامے میں لکھا کہ سپریم کورٹ کے پاس اس معاملے پر اختیارِ سماعت نہیں ہے۔ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان کا معاملہ غیر ضروری طور پر اس عدالت میں لایا گیا۔حکم نامے کے مطابق عدالت نے الیکشن کمیشن اور صدرِ پاکستان کو سہولت فراہم کی کہ وہ ا?ئین کے اندر رہ کر اس معاملے کو حل کریں۔خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف سمیت متعدد درخواست گزاروں نے نوے روز میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ ا?ف پاکستان میں درخواستیں دائر کی تھیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے جمعرات کو عدالت کو ا?گاہ کیا تھا کہ کمیشن 11 فروری کو عام انتخابات کا انعقاد کرائے گا جس پر سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پہلے صدرِ پاکستان سے مشاورت کی جائے۔بعدازاں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں وفد نے ایوانِ صدر میں صدر ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد ا?ٹھ فروری کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہو گیا تھا۔چیف جسٹس نے حکم نامے میں مزید لکھا کہ عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا۔ تحریکِ عدم اعتماد کے بعد اسمبلی تحلیل کی گئی جو غیر ا?ئینی تھی۔ تحریکِ عدم اعتماد ا?نے کے بعد وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے مترادف تھا۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عوام کو منتخب نمائندوں سے دْور نہیں رکھا جا سکتا۔ اْمید کرتے ہیں کہ ا?ئینی ادارے مستقبل میں سمجھ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ سپریم کورٹ نے سیاسی معاملے پر ازخود نوٹس لیا۔اْن کا کہنا تھا کہ ا?ج سے 15 برس قبل ایک غیر ا?ئینی عمل کیا گیا اور ا?ئین سے تجاوز کیا گیا۔ اس کے اثرات نہ صرف معاشرے بلکہ ملک پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

