’منڈل بنام کمنڈل ‘ کی نشاۃ ثانیہ

تاثیر،۷  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

بہار قانون ساز اسمبلی کے سرمائی اجلاس کا کل دوسرا دن (7 نومبر) بہار کی سیاست کے لئے ایک تاریخ ساز دن تھا۔ بہار اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی ریاست میں ذات پات کی بنیادپر کرائے گئے سروے کی اقتصادی رپورٹ ایوان کی میز پر پیش کر کے ریاست میں سیاست کی ایک نئی پاری کا آغاز کیا گیا۔2024 کے لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد کی سیاست کو ذہن میں رکھ کرائے گئے سروے  کے ذریعہ جو اقتصادی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ ہر گز چونکا نے والے نہیں ہیں۔یہ اعداد و شمار پہلے سے ہی غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں بالخصوس بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد اور موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ذہن میں تھے۔اور اسی وجہ سے ذات پر مبنی سروے کرانے کا دباؤ بہت دنوں سے بنائے جانے کا سلسلہ جاری تھا۔
  بہار قانون ساز اسمبلی کی کارروائی کل جیسے ہی شروع ہوئی سروے رپورٹ کے نام پر ہنگامہ شروع ہو گیا۔ ہنگامہ اتنا ہوا کہ تھوڑی دیر کے لئے کارروائی روکنی پڑی ۔اس کے بعد ایوان کی کارروائی 12 بجے دوبارہ شروع ہوئی۔ اس دوران ذات پر مبنی سروے رپورٹ ایک ایک کاپی سبھی ایم ایل ایز کو تقسیم کی گئی ۔رپورٹ کے ذریعہ یہ بتایا گیا ہے بہار میں کس طبقے کی آمدنی کتنی ہے۔رپورٹ کے مطابق بہار میں غریبوں کی کل تعداد 94,42,786 ہے۔ ان لوگوں کی ماہانہ آمدنی صرف چھ ہزار روپے تک ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق بہار کے 34 فیصد خاندانوں کی ماہانہ آمدنی صرف 6 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنرل کیٹیگری میں تقریباً 25 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 ہزار روپے تک ہے۔ جب کہ23 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 سے 10 ہزار کے درمیان ہے۔ 19فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 10 ہزار سے 20 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ 16 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 20 ہزار سے 50 ہزار روپے کے درمیان ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ 9 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے زیادہ ہے۔
اسی طرح پسماندہ طبقے کی 33 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6000 روپے تک ہے۔  پسماندہ طبقے کی 29 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 سے 10 ہزار روپے کے درمیان ہے۔پسماندہ طبقے کی 18 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 10 سے 20 ہزار روپے کے درمیان ہے۔اس کے ساتھ ساتھ 10 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 20 سے 50 ہزار روپے ہے۔پسماندہ طبقے کی 4 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے زیادہ ہے۔انتہائی پسماندہ طبقے کی بات کریں تو 33 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 ہزار روپے تک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 32 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 سے 10 ہزار روپے کے درمیان ہے۔  انتہائی پسماندہ طبقے کی 18 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 10 سے 20 ہزار روپے ہے۔  2 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے زائد ہے۔ اگر ہم درج فہرست ذات کے زمرے کی بات کریں تو 42 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 ہزار روپے تک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 29 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 سے 10 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 15 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 10 سے 20 ہزار روپے ہے۔ 5 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 20 سے 50 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ ایک فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے زائد ہے۔ درج فہرست قبائل کی 42 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 ہزار روپے تک ہے۔ درج فہرست قبائل کی 25 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 6 سے 10 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ 16 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 10 سے 20 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ 8 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 20 سے 50 ہزار روپے کے درمیان ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ 2.53 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے زیادہ ہے۔
سروے رپورٹ کے پیش کئے گئے اعداد و شمار کے بعد سے ہی عوام کا ایک بڑا طبقہ خوش ہے۔ وہیں حکمراں عظیم اتحاد سے وابستہ پارٹیوں کے لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر جب از سر نو فلاحی منصوبے بنائے جائیں گے تو ہر ضرورتمند کے گھر میں ترقی کی روشنی پہنچے گی، لیکن کمل کا پھول تھوڑا مرجھایا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔بی جے پی کے رہنما اس رپورٹ کو لگاتار کوس رہے ہیں۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس رپورٹ کے تیر سے آر جے ڈی، جے ڈی یو، کانگریس اور دیگر حلیف جماعتوں نے کئی شکار کئے ہیں۔اعداد و شمار کے منظر عام پر آنے کے بعد سے بہار میں ریزرویشن کا کوٹہ بڑھانے کی مانگ زور و شور سے اٹھنے لگی ہے۔
آبادی کے تناسب کے مطابق ہے، جس کا انکشاف سروے رپورٹ میں کیا گیا ہے،ریاست میں ریزرویشن کے کوٹہ میں اضافہ  کرنے کا مطا لبہ کوئی غیر فطری نہیں ہے۔ عظیم اتحاد کے لوگ بہت پہلے سے ہی ’’جس کی جتنی بھاگیداری، اس کی اتنی حصہ داری‘‘ جیسا نعرہ لگانا شروع کر دیا ہے۔اس درمیان اب یہ سوال بھی گشت کرنے لگا ہے کہ کیا اس رپورٹ کے بعد ترقی کی دوڑ میں پیچھے چھوٹ گئے طبقات کے لئے مزید فلاحی منصوبے شروع کئے جائیں گے ؟ اس شعبے کے ماہرین کے مطابق، سروے رپورٹ یقینی طور پر سیاسی جماعتوں کو مجبور کرے گی کہ وہ معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے مزید فلاحی اسکیموں کا اعلان کریں اور شروع کریں۔  او بی سی، ای بی سی، ایس سی اور ایس ٹی ریاست کی کل آبادی کا 85 فیصد ہیں، کوئی سیاسی پارٹی ان کی فلاح و بہبود کو قطعی نظر انداز نہیں کر سکتی ہے۔
بی جے پی اور اس سے وابستہ لیڈروں کے اپنے اپنے دعوے ضرو ر ہو سکتے ہیں، لیکن سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس رپورٹ کے ذریعہ سامنے آئے اعداد و شمار سے بہار کی سیاست کا منظر نامہ ضرور بدلے گا۔ان کا کہنا ہے کہ 7 نومبر، 2023  کے بعد سے بہار کی سیاست میں ایک انقلابی تبدیلی آنے کا امکان ہے، جو’’ منڈل بنام کمنڈل‘‘ کی نشاۃ ثانیہ بھی ہوسکتی ہے۔
****************