نتیش حکومت کا فیصلہ حق بجانب

تاثیر،۸  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

بہار میں ذات کی بنیاد پر شہریوں کے سروے کے بعد نتیش حکومت نے ریاست میں ریزرویشن کا دائرہ 15 فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ آبادی میں ذاتوں کے تناسب سے ملازمتوں اور تعلیم میں نمائندگی کے تعین کے لیے کیا گیا ہے۔  2019 میں 103 ویں آئینی ترمیم کے تحت اقتصادی طور پر کمزور اونچی ذاتوں (ای ڈبلیو ایس) کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کے بعد، سپریم کورٹ کی جانب  سے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ 50 فیصد کوٹہ کی حد کو پہلے ہی عبور کر لیا گیا تھا۔ اب نتیش حکومت کے فیصلے کے بعد بہار میں ریزرویشن کی حد 75 فیصد ہو جائے گی۔ اس سروے رپورٹ کو گزشتہ 7 نومبرکو اسمبلی کی میز پر رکھنے کے بعد سی ایم نتیش کمار نے اعلان کیا کہ سرمائی اجلاس کے دوران ہی ایوان میں ریزرویشن کی حد بڑھانے کا بل پیش کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ اس وقت بہار میں ای ڈبلیو ایس کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور ای بی سی کو 50 فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔  اس فارمولے کے تحت ایس سی کے لیے 16 فیصد، ایس ٹی کے لیے 1 فیصد، او بی سی کے لئے 30 فیصد (پسماندہ طبقات کے لئے 12  اور انتہائی پسماندہ طبقات کے لیے 18 فیصد) اور پسماندہ طبقات کی خواتین کے لیے 3 فیصد ریزرویشن کا انتظام ہے۔ اس طرح کل ریزرویشن 50 فیصدہے۔ نئے فارمولے میں ایس سی کے لیے 20 فیصد، ایس ٹی کے لیے 2 فیصد اور او بی سی کے لیے 43 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ اس طرح کل ریزرویشن 50 سے بڑھ کر 65 فیصد ہوجائے گا۔ای ڈبلیو ایس کا 10 فیصد ریزرویشن اس سےالگ ہے۔ یعنی بہار میں نئے فارمولے کے تحت کل 75 فیصد ریزرویشن ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ ریزرویشن اندرا ساہنی کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے سے طے شدہ 50 فیصد کی حد کا ڈیڑھ گنا ہو جائےگا۔ ظاہر ہے، اس بات کا پورا امکان ہے کہ ریزرویشن کے نئے نظام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ممکن ہے کہ نتیش حکومت نئے ریزرویشن فارمولے کو عدالتی نظرثانی کے دائرہ سے باہر رکھنے کے لیے آئین کے نویں شیڈول کا راستہ اختیار کرے۔ بہار اسمبلی کے رواں سرمائی اجلاس میں اس سے متعلق تصویر بھی واضح ہو جائے گی۔
واضح ہو کہ آئین کے نویں شیڈول کا سہارا لیکر تمل ناڈو نے اپنے یہاں ریزرویشن کی حد کو 50 فیصد سے زیادہ رکھنے کافیصلہ کیا ہے۔ یہ وہی نویں شیڈول ہے، جسے پہلی آئینی ترمیم 1951 کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 31 اے اور 31 بی بی کے تحت اس میں شامل قوانین کو جوڈیشل ریویو کے دائرہ سے باہر رکھا گیا ہے، یعنی انہیں عدالتی نظرثانی سے تحفظ حاصل ہے۔یعنی ، جو قوانین آئین کے نویں شیڈول میں شامل ہیں، ان کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا، یعنی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ان کا جائزہ نہیں لے سکتی۔  یہی وجہ ہے کہ ریزرویشن سے متعلق قوانین کو آئین کے نویں شیڈول میں شامل کرنے کا اکثر مطالبہ کیا جاتا ہے۔یہاں یہ بات بے موضوع نہیں ہوگی کہ 12 مارچ، 1951 کو پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار لینڈ ریفارمز ایکٹ کو آرٹیکل 14 کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کو پلٹنے کے لیے مرکز میں اس وقت کی پنڈت جواہر لال نہرو حکومت نے نویں شیڈول کو آئین میں شامل کر کے اسے عدالتی نظرثانی کے دائرہ سے باہر نکالا تھا ۔ فی الحال نویں شیڈول میں کل 283 قوانین ہیں، جنہیں وقتاً فوقتاً آئینی ترامیم کے ذریعے اس میں شامل کیا گیا ہے۔
قانون کےماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نویں شیڈول میں شامل قوانین کا بھی جائزہ لے سکتی ہے۔ اگر متعلقہ قانون آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے یا آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے تو سپریم کورٹ اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جنوری 2007 میں اس وقت کے چیف جسٹس وائی کے سبروال کی قیادت میں نو ججوں کی آئینی بنچ نے نویں شیڈول کے بارے میں تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ عدالت نے یہ واضح کیا تھا کہ کسی قانون کو نویں شیڈول میں ڈالنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے عدالتی نظرثانی یا آئینی جواز کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا ہے۔ اگر متعلقہ قانون بنیادی حقوق کے خلاف ہے تو اعلیٰ عدالتیں اسے منسوخ کر سکتی ہیں۔
  اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ ہے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے ذریعہ دی گئی دلیل۔ ستمبر 2022 میں معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کے لئے ریزرویشن کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران، مرکزی حکومت نے دلیل دی تھی کہ زیادہ سے زیادہ ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ مرکزی حکومت کا کہنا تھا کہ ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، یہ قاعدہ اہم ہے، لیکن اسے اتنا مقدس نہیں بنایا جا سکتا کہ یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کی طرح ہو جائے۔ ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کو آئین کی بنیادی روح کے مطابق قرار دیتے ہوئے مرکز نے یہی دلیل دی تھی کہ تمہید میں معاشی انصاف کا بھی ذکر ہے اور 103ویں آئینی ترمیم اس کو یقینی بناتی ہے۔بہر حال بہار میں ذات کی بنیاد پر شہریوں کے سروے کے بعد نتیش حکومت نے ریاست میں ریزرویشن کا دائرہ 15 فیصد بڑھا کر 75 فیصد کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ اسی دلیل کی بنیاد پر حق بجانب ہے کہ جس دلیل کے ذریعہ مرکزی حکومت نے ای ڈبلیو ایس کے لئے ریزرویشن کا دائرہ 10 فیصد بڑھانے کی وکالت کی تھی۔
******************