تاثیر،۸ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ، 08 نومبر:بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے منگل کے روزدیے گئے بیان پر بدھ کے روزمعافی مانگ لی ہے۔ نتیش نے منگل کے روز اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں جس طرح سے مرد اورخاتون کے جسمانی تعلقات کو بیان کیا اس سے پورے ملک میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ان کی گالی گلوچ پر بہار اسمبلی میں اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے جم کرہنگامہ کیا۔آج نتیش کمار جیسے ہی ایوان میں داخل ہوئے وہ بولنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے الفاظ پر افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے رہے ہیں لیکن بی جے پی ایم ایل اے کا ہنگامہ جاری ہے۔ نتیش کی موجودگی میں اپوزیشن لیڈر وجے سنہا نے کہا کہ نتیش کمار ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ایسے وزیر اعلیٰ کو فوراً استعفیٰ د ے دینا چاہئے۔ دوسری طرف نتیش کمار کہہ رہے تھے کہ یہ لوگ (بی جے پی والے) نعرے لگا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو شرم ا?نی چاہیے۔ میں اپنے ا?پ سے شرمندہ ہوں۔ میں معافی مانگ رہا ہوں۔ میں خود پر تنقید کر رہا ہوں۔ اس دوران نتیش کمار یہ بھی بتاتے رہے کہ وہ ا?بادی کنٹرول پر بول رہے ہیں اور بہار میں کتنا اچھا کام ہوا ہے۔ اگر خواتین تعلیم یافتہ ہوئیں تو شرح پیدائش میں کمی آئی ہے۔ نتیش کی تقریر کے دوران بھی ایوان میں زبردست ہنگامہ اور شور مچ گیا۔ اس کے بعد اسمبلی اسپیکر اودھ بہاری چودھری نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔ جیسے ہی آج صبح 11 بجے اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی ، بی جے پی ایم ایل اے نے ہنگامہ کرنا شروع کردیا۔ بی جے پی ایم ایل اے نتیش کمار شرم کرو کے نعرے لگانے لگے۔ قائد حزب اختلاف وجے کمار سنہا نے کہا کہ ایک ذہنی وزیر اعلیٰ نے پورے ملک میں بہارکی توہین کی ہے۔ کیا کوئی سمجھدار شخص ایسی باتیں کہہ سکتا ہے جیسا کہ نتیش کمار نے کہا ہے ؟ وجے سنہا نے کہا کہ ایسے شخص کا وزیر اعلیٰ کی کرسی پر برقرار رہنا قابل قبول نہیں ہے۔ نتیش کمار کو فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ پارلیمانی امور کے وزیر وجے کمار چودھری نے اپوزیشن ایم ایل اے کے ہنگامے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اپنے الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا ہے لیکن بی جے پی ایم ایل اے نے ہنگامہ جاری رکھا۔

