تاثیر،۴ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
کٹھمنڈو،4نومبر:نیپال میں ایک دور افتادہ علاقے میں رات گئے آنے والے زلزلے میں تقریباً 132 افراد ہلاک ہو گئے، امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا گیا ہے۔خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 5.6 کی شدت کا یہ زلزلہ نیپال کے انتہائی مغرب میں گزشتہ شب آیا، امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس کی گہرائی 18 کلومیٹر (11 میل) تھی۔زلزلے کے جھٹکے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی تک محسوس کیے گئے، سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں مقامی لوگ اندھیرے میں مکانات اور عمارتوں کے ملبے سے زندہ بچ جانے والے لوگوں کو نکالتے نظر ا?ئے، ا?س پاس ایمرجنسی گاڑیوں کے سائرن بجتے بھی سنائی دیے۔کرنالی صوبے کی پولیس کے ترجمان گوپال چندر بھٹارائی نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 132 تک پہنچ گئی ہے اور تقریباً 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ اضلاع دور افتادہ علاقے میں ہونے کی وجہ سے معلومات حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے، ریسکیو کے کاموں میں مدد کے لیے نیپالی سیکورٹی فورسز کو بڑے پیمانے پر تعینات کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں لیکن ہم متبادل راستوں سے علاقے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، ضلعی ہسپتال زخمیوں کو لانے والے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔خیال رہے کہ نیپال ایک اہم جیولوجیکل فالٹ لائن پر واقع ہے جہاں زلزلے ا?نا معمول کی بات ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان نارائن پرساد بھٹارائی نے کہا کہ ہمارے پاس معلومات ہیں کہ زلزلے کی وجہ سے 2 اضلاع میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔نیپالی وزیراعظم پشپا کمال نے زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ 2015 میں نیپال میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک اور 22 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے جبکہ 50 لاکھ سے زائد گھر تباہ ہو گئے تھے۔اس زلزلے کے سبب تقریباً 8 ہزار اسکولوں کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے، اس کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ بچے کلاس رومز سے محروم ہوگئے تھے۔

