ورلڈ کپ کے بعد سفید گیند کرکٹ کی کپتانی چھوڑ سکتے ہیں بابر اعظم

تاثیر،۱۱  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 11 نومبر: پاکستان کے کپتان بابر اعظم بھارت سے واپسی کے بعد سفید گیند کرکٹ کی کپتانی سے مستعفی ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے لیے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنا ناممکن ہے، اگر وہ ا?ج انگلینڈ کے خلاف جیتنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو بھی ان کے ا?خری چار میں پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔
جیو نیوز کے مطابق بابر اپنے مستقبل کے حوالے سے پاکستان کے سابق کرکٹر اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ اور اپنے قریبی لوگوں سے مشورے لے رہے ہیں۔
جیو نیوز کے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ بابر کا بطور کپتان برقرار رہنے کا فیصلہ لوگوں سے ملنے والے مشوروں پر ہوگا اور ان کے کچھ قریبی ساتھیوں نے انہیں تینوں فارمیٹس میں کپتانی چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔
اعظم نے جمعہ کو ایڈن گارڈنز، کولکاتا میں ٹریننگ کے دوران راجہ سے صلاح مانگی ہے۔ کپتان برقرار رہنے کا فیصلہ ان کی وطن واپسی پر کیا جائے گا۔ تاہم، بابر خاص طور پر اپنے والد سے ملنے والے مشورے کو اہمیت دیتے ہیں۔انگلینڈ کے خلاف پاکستان کے ا?خری گروپ مرحلے کے مقابلے سے قبل جمعہ کو پری میچ پریس کانفرنس کے دوران جب بابر سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی کپتانی کے بارے میں کب فیصلہ کریں گے، تو انہوں نے جواب دیا، ’’کپتانی کے بارے میں – جیسا کہ میں نے کہا،ایک بار جب ہم پاکستان واپس جائیں گے یا اس میچ کے بعد، ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ لیکن فی الحال، میں اس پر توجہ نہیں دے رہا ہوں، میری توجہ اگلے میچ پر ہے۔‘‘انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ کپتانی نے ورلڈ کپ میں ان کی فارم کو متاثر کیا ہے، کیونکہ انہیں بورڈ پر رن بنانے کے لیے جد و جہد کرنا پڑا ہے۔
بابر نے کہا، ’’ میں گزشتہ تین سال سے اپنی ٹیم کی کپتانی کر رہا ہوں اور مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا، یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ میں نے ورلڈ کپ میں ویسا مظاہرہ نہیں کیا جیسا مجھے کرنا چاہیے تھا۔ اسی لیے لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں دباومیں ہوں۔ میں کسی دباو میں نہیں ہوں، میں یہ گزشتہ 2.5 یا 3 سال سے کر رہا ہوں، میں ہی پرفارم کر رہا تھا اور میں ہی کپتان تھا۔‘‘
انگلینڈ اور پاکستان ہفتے کو مشہور ایڈن گارڈنز میں ا?منے سامنے ہوں گے۔