تاثیر،۱۱ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
عوام ہونے لگے متحرک، بڑھی سیاسی جماعتوں کی بے چینی
چھپرہ (نقیب احمد)
جن سوراج کے بانی اور سیاسی مشیر پرشانت کشور کی پد یاترا شمالی بہار کے دس اضلاع میں مکمل ہو چکی ہے اور گیارہویں ضلع مدھوبنی کے دیہاتوں میں جاری ہے۔اب تک وہ 32 سب ڈویژنوں،188 بلاکس اور 87 اسمبلی حلقوں کے تقریباً 4200 گاؤں میں پد یاترا کر چکے ہیں اور لوگوں سے براہ راست رابطہ کیا ہے اور ان کے مسائل کو سمجھا ہے۔عوام سے اس طرح کا براہ راست رابطہ تاریخ میں ایسا پہلا واقعہ ہے۔یہ باتیں جن سوراج کے چیف ترجمان کلدیپ مہاسیٹھ نے تنظیم کے ذریعے منعقد دیپوتسو ملن تقریب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف پرشانت کشور کی اس پد یاترا نے گاؤں کے لوگوں اور عام شہریوں کو مسحور کیا ہے وہیں دوسری طرف اس نے سیاسی جماعتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔پہلے سے قائم سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے تناؤ محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔دراصل پرشانت کشور گاؤں گاؤں پیدل گئے،لوگوں سے ملے،ان کے مسائل سنے،ان کے حالات کا جائیزہ لیا اور ان کی حالت زار کا ذمہ دار لیڈروں کو ٹھہرایا۔اس کے علاوہ ووٹر کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔اس دوران پرشانت کشور نے میٹنگیں بھی کیں۔جس میں لوگوں سے کھل کر بات کی اور بہت ہی صاف گوئی سے اپنی باتیں رکھیں۔کلدہپ نے کہا کہ ان کی باتوں کا مثبت اثر ہوا ہے اور سبھی سیاسی جماعتوں میں خوف پیدا ہو گیا ہے۔دارالحکومت میں کہرام مچ گیا ہے۔لیڈروں نے تجزیہ کرنا شروع کر دیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ کس طرح پرشانت کشور نے گزشتہ سال سارن ٹیچرس حلقہ سے آزاد امیدوار آفاق احمد کو جن سوراج کی حمایت دے کر تمام لیڈروں کو شکست دی ہے۔لوگوں کو ذات پات اور مذہبی سیاست سے اوپر اٹھ کر بہار اور بہاریوں کی تقدیر اور شبیہ کو بدلنے کے لیے ووٹ دینا چاہیے اور ایک خوبصورت عوامی حکمرانی کے خواب کو پورا کرنا چاہیے۔اس موقع پر کلدیپ کے علاوہ ترجمان آنند موہن سنگھ اور نیلیش کمار موجود تھے۔

