تاثیر،۳۰ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
کوٹا ،30؍نومبر:تعلیم کے کاشی شہر کوٹا میں بدھ کی رات کوچنگ کے ایک اور طالب علم نے خودکشی کر لی۔ جس کی شناخت اتر پردیش کے اوریا ضلع کی نشا یادو کے طور پر ہوئی ہے۔ نشا یہاں NEET کے داخلہ امتحان کی تیاری کے لیے کوچنگ لے رہی تھی۔ کوٹا میں ایک سال کے اندر اب تک 29 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ دو دن پہلے مغربی بنگال کے رہنے والے فرید حسین نے بھی خودکشی کر لی تھی، وہ بھی یہاں NEET کے داخلہ امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔نشا یادو نے بدھ کو اپنے والد سے بات کی تھی۔ باپ نے دوبارہ فون کیا تو بیٹی نشا نے فون نہیں اٹھایا۔ اس کے بعد والد نے دوبارہ فون کیا اور ہاسٹل کے عملے کو بیٹی سے بات کرنے کو کہا لیکن نشا نے دروازہ نہیں کھولا اور یہیں سے ہاسٹل کے عملے اور والد کا شک مزید گہرا ہو گیا اور تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔خودکشی کرنے والے متوفی کی عمر تقریباً 21 سال بتائی جاتی ہے۔ ہاسٹل کے عملے کی اطلاع پر جواہر نگر تھانہ پولیس موقع پر پہنچی اور کمرے کا گیٹ توڑا۔ نشا لٹک رہی تھی۔ ہاسٹل میں 19 کمرے ہیں۔ یہاں تقریباً 12 طالبات رہتی ہیں، نشا کی خودکشی سے ہر کوئی حیران ہے۔کچھ دن پہلے والد نے ہاسٹل شفٹ کیا تھا۔اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نشا یادو کوٹہ شہر کے مہاویر نگر فرسٹ علاقے میں واقع ایک ہاسٹل میں رہتی تھی اور یہیں اس نے خودکشی کرلی۔ اس سے پہلے نشا یادو کوٹہ شہر کے اندرا وہار علاقے میں رہتی تھیں اور 18 نومبر کو ہی اس نے اندرا وہار چھوڑ کر مہاویر نگر فرسٹ کے ایک ہاسٹل میں کمرہ لے لیا تھا۔اس دوران اس کے والد خود اس کے ساتھ تھے۔باپ 23 نومبر کو کوٹہ سے اپنی بیٹی سے ملنے اور اسے ہاسٹل شفٹ کرانے گئے تھے۔ فی الحال خودکشی کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس نے نشا کی لاش کوٹا کے ایم بی ایس اسپتال کے مردہ خانے میں رکھوا دی۔ لواحقین کے آنے کے بعد پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

