آل انڈیا کانگریس نے اپنا 139واں یوم تاسیس بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا۔

تاثیر،۲۸ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

پرچم کشائی سے پروگرام کا افتتاح، صدرِ پارٹی کے ہاتھوں ضلع کے 30 سینئر لیڈران اعزاز سے نوازے گئے۔
ارریہ :- ( مشتاق احمد صدیقی ) آل انڈیا کانگریس پارٹی نے اپنا 139واں یوم تاسیس اپنے دفترگاندھی آشرم ارریہ میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا، اس موقع پر سب سے پہلے سابق ایم ایل اے اور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر ذاکر انور نے پارٹی کے پرچم کو لہرا کر پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنان نے اجتماعی طور پر کیک کاٹا۔ضلع کانگریس صدر ذاکر انور کی پارٹی نے کل تیس کانگریسی عمائدین اور سینئر کانگریس لیڈروں کو گلدستے دیے کر اور ان کی شال پوشی کرکے انہیں اعزازسی نوازا۔اس موقع پر ضلع صدر ذاکر انور نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس پارٹی نے اپنے ملک کی آزادی اور اس کی ترقی میں جس بہتر کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے اور جواہم کردارادا کیا ہے، تاریخ اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور ثقافت کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مرکز کی مودی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ اپنی ناکامی چھپانے کےلئے مذہب کے نام پر ذات پات نفرت کا ماحول بنا رہی ہے۔ذاکر انور نے کہا کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا خاتمہ یقینی ہے۔آج ملک میں ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا کر کے عوام کو پریشان کر رہی ہے، اس غریب دشمن حکومت نے آج تک غریبوں کو دھوکہ دینے کا کام کیا ہے، آج ملک میں غربت، مہنگائی اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہے، لیکن مرکزی حکومت صرف ووٹ کی سیاست کرتی ہے۔اس موقع پر مہیلا کانگریس کی سینئر لیڈر افسانہ حسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک صرف کانگریس کے ہاتھ میں ہی محفوظ رہےگا، جو سب کو ساتھ لے کر چلنا جانتی ہے۔ ان کے علاوہ دیگر کانگریسی رہنماؤں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر افسانہ حسن کی قیادت میں ضلع بھر سے خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی۔  اس موقع پر کانگریس کے سینئر قائدین آنجہانی اخلاق الرحمٰن قدوئی، روی لال ساہ، اور اندر لال ساہ کو دو منٹ کی خاموشی رکھ کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر بھولا شنکر تیواری، انور راج، اندو مشرا، جیوتی دیوی پاسوان، اویس یاسین، معصوم رضا، ظفر الحسن، خالد حسین، رینو دیوی سنگھ، کرن کماری، عابد انصاری، پون کشیپ، چمپا دیوی، غالب، تنویر عالم، تپن تیواری سمیت بڑی تعداد میں دیگر لوگ موجود تھے۔