تاثیر،۲۴ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
ننھے منے بچوں نے اپنی فنکاری اور پرزنٹیشن کے ذریعہ سامعین کو محظوظ کیا
بچوں کی بہتر تعلیم کے لئے اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی توجہ ضروری: ظفیر عالم
پٹنہ ،24 دسمبر، (پریس ریلیز): الحراسکول نیو عظیم آباد کالونی ، پٹنہ کے زیر اہتمام آج رنگا رنگ سالانہ تقریب کا انعقادکیا گیا ۔ مقامی کمہرار گمٹی واقع پرمیشور ہال میں منعقد اس پرو گرام میںبڑی تعداد میں طلبا و طالبات، گارجین حضرات، اساتذہ ،علاقے کے ذمہ داران و معزز مہمانان نے شرکت کی ۔ ننھے منے بچوں نے اپنی فنکاری کے ذریعہ سامعین کو گھنٹوں محظوظ کرتے رہے۔سالانہ تقریب کی مناسبت سےطلبا وطالبات نے اپنی فنکاری اور پرزنٹیشن کے ذریعہ تہذیب و ثقافت پر یکے بعد دیگرے پرو گرام پیش کئے ۔ حمدونعت، اخلاقی واصلاحی سبق آموز مکالمے، والدین کی عظمت پر معنی خیزنظم،موبائل سے بچوں کے نقصانات پر ڈرامہ،عربی نظم، ہندی انگریزی اور اردو میں تقاریر، دلچسپ ترانے، بیعت بازی سمیت درجنوں پرو گرام پیش کئے گئے۔بچوں نے مہاتما گاندھی، مولانا ابو الکلام آزاد، سبھاش چندر بوس،جھانسی کی رانی، اشفاق اللہ خان جیسے مجاہدین آزادی کا کردار بھی پیش کیا ۔جس کو حاضرین کی جانب سے کافی سراہا گیا ۔پروگرام کا افتتاح شکیب انجم (کلاس 1) کی قرآن کی تلاوت سے ہوا
۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اسکول کے ڈائریکٹر ظفیر عالم نے پرو گرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ا سکول کی یہ کوشش رہتی ہے کہ بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافتی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھیں تاکہ بچوں کی ذہنی وجسمانی نشونماءبہتر ڈھنگ سے ہو۔ اس سالانہ تقریب کیلئے ہمارے ٹیچرس نےبچوں پر مہینوں سے محنت کی ہےجو کہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ اسکول میں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے ۔چونکہ بچوں کی بہتر تعلیم سے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے ۔مگر اس میں جتنی ذمہ داری اسکول اور اساتذہ کی ہو تی ہے اتنی ہی ذمہ داری والدین کو بھی نبھانا چاہئے ۔ اکثر والدین کو یہ لگتا ہے کہ بچے کو اسکول میں داخل کرانے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم ہو گئی ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے اسکول میں داخل کرانے کے بعد والدین کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے ،انہیں بچے کی ہر چیز پر نظر رکھنی چاہئے ۔اسکول میں اساتذہ بچوں پر جتنا وقت دیتے ہیں ،گھر میں والدین پر بھی فرض ہے کہ وہ بھی اپنا قیمتی وقت بچوں کو دیں اور اسکول میں کیا پڑھایا گیا ہے،کیا ہومورک دیا گیا ہے، اس کی پوچھ گچھ کریں اور روزانہ ڈائری چیک کریں ۔ اس سےنہ صرف بچوں میں پڑھائی کے تئیں ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے بلکہ تعلیم میں بھی شفافیت آتی ہے۔چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسکول وقت پر چھوڑنا اور وقت پر اسکول سے واپس لے جانے کی اہم ذمہ داری والدین کی ہو تی ہے ۔ لیکن مجھے افسوس تب ہو تا ہے جب بچے وقت پر اسکول نہیں پہنچتے اور چھٹی ہونے کے گھنٹوں بعدبچے والدین کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیرنٹس اور ٹیچر میٹنگ جو کہ طلبا وطالبات کی کارکردگی پر غور و خوض کیلئے بلائی جاتی ہے ، اس میں بھی بیشتر گارجین حضرات پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ جس سےبچوں کی تعلیم متاثر ہو تی ہے ۔ اس سلسلے میں والدین کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔ جناب ظفیر عالم نے اعلان کیا کہ ویژن ایجو کیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام زیڈ ویزن کلاسیز چلائے جا رہے ہیں جس میںنویں سے لے کر 12ویں تک کے بچوں کی تیاری کرائی جار ہی ہے ۔ اس لئے طلبا وطالبات کو اب دوسری جگہ جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔تقریب کی نظامت فوزان احمد (کلاس8)، وانیہ منتشا (کلاس8)، رابعہ فاطمہ (کلاس 9) وغیرہ نے کی۔ اس موقع پر محمد اظہر الدین، محمد اخلاق، صبیحہ تبسم ، مشکور عالم، مولانا عزیز الرحمن قاسمی، نیہا نشاط، انجلی کماری، خوشی رضا، نرگس پروین ، زیبا پر وین، زبیریہ ، کشف ، زینب ،مسیرہ،عفت ،رفعت، گل افشاں، شاہدہ ، رخسانہ سمیت اسکول کے تمام ٹیچرس موجود تھے۔

