انکساری کے بغیر صحتمند معاشرے کا تصور بے معنی ہے

تاثیر،۲۸ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی انسان پر اپنا فضل فرماتے ہیں یا اس کو اپنی نعمت سے نوازتے ہیں تو اس کو چاہئے کہ عاجزی و انکساری اختیارکرے، لیکن بہت سے لوگ مالی، سماجی، سیاسی اور علمی اعتبار سے کسی مقام پر پہنچنے کے بعد عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کے بجائے غرور اور تکبر کے راستے پر چل نکلتے ہیں۔ یہ لوگ خود کو بر تر اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ظلم، تشدد، قتل و غارت گری اور جنسی ا ستحصال کا ایک بڑا سبب طاقت، اقتدار اور دولت پر گھمنڈ ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کو دنیا جہان کی نعمتوں سے نوازتے ہیں تو اس کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اپنی حقیقت و حیثیت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔ لیکن انسانوںکی بڑی تعداد اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اپناحق سمجھ کر اپنے خالق کو فراموش کر دیتی ہے۔ یہ گھمنڈ کئی مرتبہ انسان کو اس سطح پر بھی لے جاتا ہے کہ وہ حق بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور اگر اس کو کسی اچھی بات کی تلقین کی جائے تو وہ اس کوبھی نظر انداز کر دیتا ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے واقعے کا مختلف مقامات پر بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اس واقعے کو پڑھنے کے بعد یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابلیس غرور اور تکبر کی وجہ سے ہی راندۂ درگاہ ہوا تھا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرعون کی ناکامی اور برے انجام کا بھی ذکر کیا اور بتلایا کہ وہ اور اس کےگروہ کے لوگ زمین پر تکبر کیا کرتے تھے ۔ تکبر کی وجہ سے ہی اس نے دین کی دعوت کو مسترد کیا تھا۔ نتیجتاََ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو دنیا میں غرق آب کر دیا اور آخرت کے دن کی رسوائی کو بھی اس کا مقدر بنا دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں قارون کے حشر کا بھی ذکر کیا ہے، جس کو بے شمار خزانوں سے نوازا گیا تھا لیکن وہ ان خزانوں کی نسبت اللہ تبارک و تعالیٰ کاشکر ادا کرنے کے بجائے اپنے علم اور ہنر پر تکبّر کیا کرتا تھا۔ بستی کے اہلِ علم اس کو سیدھے راستے کی طرف آنے کی تلقین کرتے رہے، لیکن اس نے گھمنڈکے راستے کو اختیار کیے رکھا ۔ نتیجہ کے طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ نےگھر اور خزانے سمیت اس کوزمین میں دھنسا کر بڑی عبرتناک سزا دی۔سورہ قصص میں قارون کے واقعے کو بیان کرنے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا کہ آخرت میں بھی کامیابی اور سرفرازی انھی لوگوں کو حاصل ہو گی، جو زمین پر غرور اور تکبر کاراستہ اختیار نہیں کریں گے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ کہف میں دو زمینداروں کا ذکر کیا ،جن میں سے بڑا زمیندار اللہ تبارک و تعالیٰ سے ملاقات کے بارے میں بے یقینی کا شکار تھا جبکہ چھوٹا ز میندار اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرنے والا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑے زمیندار کی بداعتقادی کی وجہ سے اس کی زمین اور جاگیر کو تباہ و برباد کر کے اس کو آنے والے لوگوں کے لیے عبرت کی علامت بنادیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسانوں کو اکڑ کر چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 37 میں ارشاد ہوا: ’’ اور مت چل زمین میں اکڑ کر بے شک تو ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا زمین کو اور ہرگز نہیں تو پہنچ سکے گا پہاڑوں کی چوٹی تک لمبا ہو کر ۔‘‘
قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیث طیبہ میں بھی تکبر کی بڑے سخت انداز میں مذمت کی گئی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حارثہ بن وہب خزاعیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمارہے تھے کہ میں تمھیں جنتی آدمی کے متعلق نہ بتادوں ؟ وہ دیکھنے میں کمزور، ناتواں ہوتا ہے،لیکن اللہ کے یہاں اس کا مرتبہ یہ ہے کہ کسی بات پر اگر وہ اللہ کی قسم کھالے تو اللہ اسے ضرور پورا کر دیتا ہے۔ اور کیا میں تمھیں دو زخ والوں کےمتعلق نہ بتادوں ؟ ہر بد خو، بھاری جسم والا اور تکبر کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت حارثہ بن وہبؓ ہی سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمھیں اہلِ جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں ؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا: ہرا جڈ، مال اکٹھا کر کےاسے خرچ نہیں کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والااہلِ جہنم ہے۔ جامع ترمذی میں حضرت ثوبانؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو مر گیا اور تین چیزوں یعنی تکبر، مالِ غنیمت میں خیانت اور قرض سے بری رہا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ جامع ترمذی میں حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا ،جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی گھمنڈ ہو گا اور جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔‘‘
قرآن شریف میں مذکور واقعات ان تمام احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تکبر کو کس قدر نا پسند فرماتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں زندگی کے جملہ معاملات میں تکبر سے احتراز کرنا چاہیے اور ہمیشہ عاجزی اور انکساری والارویہ اپنانا چاہیے۔ اگر ہم غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ معاشرے میںانتشار اور فساد کی بڑی وجہ تکبر اور غرور بھی ہے ۔ تکبر کی وجہ سے ہی معاشرے میں اشتعال اور انتقام کا جنون پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم عاجزی اور انکساری والا رویہ اختیار کریں تو یقیناََ معاشرے میں پیار، محبت، اخوت اور خیر خواہی کا چلن عام ہو سکتا اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو تکبر سے محفوظ فرماتےہوئے عاجزی و انکساری کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔بصورت دیگر عاجزی و انکساری کے بغیر صحتمند معاشرے کا تصور بھی بے معنی ہے۔
*******************