تاثیر،۷ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ:۷ دسمبر ۲۰۲۳۔ خدابخش لائبریری میںصوفی پریم کتھاپر ایک لکچر کاانعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے کہا کہ آج کی اہم ترین ضرورت ہے کہ گنگا جمنی تہذیب کی روایت کو،اور کمپوزٹ کلچر کو اور مضبوط کیا جائے تاکہ لوگوں کے دلوں کو قریب لائیں۔صوفیوں نے اس سلسلہ میں قابل ذکر کام کیا ہے۔صوفی کتھائیں اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔
خدابخش لائبریری نے لیکچرس، نمائش، اچھی کتابوں کی اشاعت سے صوفی اور بھکتی ، کمپوزٹ کلچر جس کی دین ہے اس پر کئی لیکچرس کرائے، کتابیں چھپیں، ہندوستان میں تصوف،تصوف پر نادر مخطوطات کا تعارف،ہندو تہواروں کی حقیقت، اکبر کے عہد میں ہندومت، ہندوؤں کے عقائد، خدا بخش میں ہندوپانڈولیپیاں، ہندی کی سب سے پرانی ڈکشنری، ہندو دھرم بہار میں چند ایسے کام ہیں جن کی یہ جھلکیاں ہیں۔آج اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے بلجیم کی ریسرچ اسکالر مس انالیزاکو لکچر کے لئے مدعو کیا گیاہے۔
مس انالیزا،ریسرچ اسکالر۔گینٹ یونیورسٹی،بلجیم نے صوفی پریم کتھاؤں پر لکچر دیتے ہوئے کہا کہ چوہویں صدی عیسوی میں بہت سارے صوفی مصنفوں نے پریم کتھائیں لکھی ہیں جن میں بدماوت، چتراولی ، مدھومالتی قابل ذکر ہیں۔میرا یہ لکچر عثمان کی لکھی چتراولی کے تحقیق پر مبنی ہے جس کی تلاش میں میں اس لائبریری میںآئی ہون اور اس اس مخطوطہ کا مطالعہ کیا ہے۔چتراولی اودھی زبان میں لکھی گئی صوفی پریم کتھا ہے۔یہ پریم کتھائیں عشق مجازی سے شروع ہوتی ہیں اور خدا سے محبت کرنے کا سبق دیتی ہیں۔ان کتھاؤن میں مقامی زبان اور ماحول کی بھر پور عکاسی ملتی ہے۔چتراولی پر بہت کم کام ہوا ہے۔اس کا ایک اردو ترجمہ انڈیا آفس لائبریری کے کتب خانہ میں موجود ہے۔جو ہنوز غیر مطبوعہ ہے۔اس میں text کے ساتھ Miniature paintings بھی شامل ہیں۔چتراولی کا آغاز حمد و نعت سے شروع ہوتا ہے۔اس میں خدا کو ایک مصور کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اس کی بنیاد چشتی فلسفہ پر رکھی گئی ہے۔یہ کائنات خدا کا آئینہ ہے اور اس کا جمال اس میں reflect ہوتا ہے۔اس کے مصنف نے حمد و نعت کے بعد اپنے شہر غازی پور کا تذکرہ کیا ہے۔جس میں یہاں کے رہنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں اور سماج کے ہر طبقہ کا ذکر ملتا ہے۔چتراولی کے علاوہ چندائن ، پدماوت اور مدھومالتی بھی ایسی ہی پریم کتھائیں ہیں۔ان پریم کتھاؤں نے سماج کو بدلنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

