تاثیر،۳۰ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ، 30 دسمبر:ایک بار پھر ا?ر جے ڈی ایم ایل اے فتح بہادر سنگھ ہندو دیوی دیوتاو?ں پرقابل اعتراض تبصرہ کیا ہے۔ اس بارانہوں نے سرسوتی کو لے کر ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برہمن کتابوں میں سرسوتی کو برہما کی بیٹی بتایا گیا ہے۔ پھر برہما نے اس سے شادی کی۔ اس دوران ایم ایل اے نے بی جے پی کو بھی نشانہ بنایا۔ اس سے قبل فتح بہادر نے درگا کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔یہ باتیں فتح بہادر سنگھ نے اورنگ آباد میں کہیں۔ وہ داؤد نگر میں محکمہ آبپاشی کے گیسٹ ہاو?س میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے، اس دوران فتح بہادر نے یہ بھی کہا کہ اسکولوں میں سرسوتی کے بجائے ساوتری بائی پھولے کی تصویر آویزاں کی جانی چاہیے۔ دعائیں ساوتری بائی کے لیے ہونی چاہیے اور حکومت ہند کو بھی بھارت رتن دینا چاہیے۔ یہی نہیں خواتین کا دن بھی ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔
فتح بہادر کے اس بیان کے بعد جوابی حملے شروع ہو گئے۔ گری راج سنگھ نے فتح بہادر سے کہا کہ ہندو دیوتاو?ں کو گالی دینا ا?سان ہے، اگر ان میں ہمت ہے تو وہ دوسرے مذاہب پر تبصرہ کرنے کی کوشش کریں۔ منوج جھا نے اسے اظہار رائے کی ا?زادی قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس طرح کے بیانات دیتے ہوئے حد نہیں پار کرنی چاہیے۔ درگا کے بعد بہار کی سیاست ایک بار پھر سرسوتی کو لے کر دیے گئے متنازعہ بیانات سے بھڑک اٹھی ہے۔

