بہار کے عوام اس ذہنیت سے واقف ہیں

 

ایک خاص ذہنیت کےحامل سیاسی تجزیہ کا ر ایک بار پھر اس بات کو شد و مد کے ساتھ اٹھانے میں لگے ہیں کہ بہار کی سیاست میں ایک بار پھر انقلابی تبدیلی آنے والی ہے۔ایک طرف بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بار بار یہ وضاحت کر تے رہے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کی تمام حلیف جماعتیں متحد ہیںاور سب کچھ بہتر ڈھنگ سے چل رہا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کار ہیں کہ نتیش کمار کی بات پر یقین کرنےکے لئے تیار نہیں ہیں ۔ حالانکہ نتیش کمار بھی یہ بات میڈیا کے رو برو کہہ چکے ہیں کہ ہم جو کچھ کرتے ہیںاس کے بر عکس خبریں چھاپی جاتی ہیں۔
افواہ اڑانے کے فن میں مہارت رکھےنے والے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہار کی سیاست میں پھر سے کوئی بڑا الٹ پھیر ہونے والا ہے۔اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا‘‘ میں جس طرح بہار کے سی ایم نتیش کو کو خاص توجہ نہیں دی گئی ہے، اس کے بعد سے بہار کے سیاسی ماحول میں بدلاؤ نظر آنے لگا ہے۔ خاص طور پر سی ایم نتیش کمار کے رویے میں بڑا فرق نظر آرہا ہے۔ اگرچہ وہ انڈیا الائنس سے کسی قسم کی ناراضگی سے انکار کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ انڈیا اتحاد سے بد دل ضرور ہو گئے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تجربہ کار لیڈر دباؤ کی سیاست کو برداشت نہیں کرتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ لالو یادو کی ایک ہی خواہش ہے، وہ اپنے بیٹے تیجسوی کو سی ایم بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کو لے کر نتیش کمار پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔اس طرح کے الزامات بی جے پی کی جانب سے بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ وزیر اعلیٰ بہار کیا واقعی آر جے ڈی کے رہنماؤں کے دباؤ سے پریشان ہیں ؟ اس سوال کا جواب سنجیدگی کے ساتھ ڈھونڈنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک خاص قسم کے سیاسی تجزیہ کاروں کے کرشمائی ذہن کی اُپج ہے۔
’’ان کا ‘‘کہنا ہے کہ یہ کوئی نہیں جان سکتا کہ نتیش کمار کب کیا کرتے ہیں۔ بہار کی سیاست میں انہوں نے کئی مواقع پر اپنے فیصلوں سے حیران کیا ہے۔ چاہے وہ عظیم اتحاد کو چھوڑ کر این ڈی اے میں شامل ہونے کا فیصلہ ہو یا پھر این ڈی اے سے آر جے ڈی کی قیادت والے عظیم اتحاد میں واپسی کا فیصلہ ہو۔ نتیش کمار نے ہر بار اپنے انداز میں سیاست کی ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے اہم وجوہات بھی بتائی ہیں۔ تاہم اب ایک بار پھر نتیش کمار کو بدلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا‘‘ میں خصوصی ذمہ داری کا نہیں ملنا ہے۔ ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ نتیش کمار کو اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کا امیدوار قرار دیا جائےلیکن، ایسانہیں ہو پا رہا ہے۔ یہاں تک کہ نتیش کمار کو ا بھی تک اپوزیشن اتحاد کا کوآرڈینیٹر نہیں بنایا گیا ہے ۔اس وجہ سے نتیش کمار عظیم اتحاد کی حکومت میں خود کو قیدی محسوس کر رہے ہیں۔ تجزیہ کا روں کو یہ یاد ہے کہ ایسے کئی مواقع آئے ہیں، جب آر جے ڈی لیڈروں نے نتیش کمار کے خلاف بیان دیا ہے۔بیان دینے والوں کوپارٹی سپریمو لالو یادو نے کبھی روکنے کی کوشش نہیں کی۔اس طرح کی حرکتیں نتیش کمار کو قطعی پسند نہیں ہیں۔اسی وجہ سے وہ کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔
بات صرف یہیں پر آکر ختم نہیں ہوتی ہے۔ اس کے آگے بھی بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے۔وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ لالو پرساد یادو کی اب بس ایک ہی خواہش رہ گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے بیٹے تیجسوی کو جلد سے جلد وزیراعلیٰ کی کرسی پر دیکھنا۔ اس سلسلے میں آر جے ڈی کی طرف سے ایک طرح سے دباؤ کی سیاست ہو رہی ہے۔ حالانکہ نتیش کمار نے خود اعلان کیا ہے کہ 2025 کے انتخابات تیجسوی یادو کی قیادت میں لڑے جائیں گے۔اس کے باوجود’’ وہ لوگ ‘‘ اپنی حرکتوں سے باز ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں۔
اپنے من کی بات جبراََ دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرنے والوں کی نظر جے ڈی یو کے صدر للن سنگھ کے ذریعہ اپنے عہدے سے دست بردار ہونے کی پیش کش پر بھی ہے۔ رائے عامہ ہموار کرنے کے فن میں مہارت رکھنے والے اس پیش کش کو بھی نتیش کمار کی پریشانی کا سبب مان رہے ہیں۔حالانکہ جے ڈی یو میں پھوٹ اور پارٹی صدر للن سنگھ کو ہٹانے کے بارے میں بی جے پی لیڈر سشیل مودی کے بیان پر نتیش کمار صاف صاف کہہ چکے ہیں’’ ہم اس بات پر توجہ نہیں دینے والے ہیں کہ کون کیا کہتا ہے۔ آج کل کچھ لوگ جو کچھ ذہن میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں، تاکہ فائدہ ہو جائے،لیکن اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔‘‘ اس کے باوجود سیاسی تجزیہ کار قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ نتیش کمار 29 دسمبر کو دہلی میں ہونے والی جے ڈی یو کی ایگزیکٹو میٹنگ کے بعد اپنا کوئی بڑا قدم اٹھا سکتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ بہار میں کھر ماس کے دوران یا اس کے بعد کوئی بڑا واقعہ ہو جائے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بھی قیاس لگایا جا رہا کہ نتیش کمار گزشتہ لوک سبھا انتخابات کی طرح 2024 کے انتخابات میں بھی 17 سیٹیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کی پارٹی کو پچھلی بار سے کم سیٹیں ملتی ہیں تو جے ڈی یو میں پھوٹ یقینی ہے۔ بی جے پی نے جے ڈی یو کوٹہ کی 17 سیٹیں پہلے ہی خالی رکھی ہیں۔ اور اس امید پر خالی رکھی گئی ہیں کہ اپوزین اتحاد ’’انڈیا‘‘ میں سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں جے ڈی یو کے بہت سے ممبران پارلیمنٹ بی جے پی کی طرف بھاگیں گے۔مگر عظیم اتحاد سے وابستہ ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تجزیہ کاری ایک خاص ذہنیت کی نمائندگی کرتی ہے۔بہار کے عوام اس ذہنیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔
*********