! بی جے پی ایک بار پھر ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی

تاثیر،۱۸ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

  پٹنہ، بنگلورو اور ممبئی کے بعد اب’’اپوزیشن انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس‘‘  یعنی انڈیا کولیشن کا چوتھا اجلاس آج دہلی میں ہونے جا رہا ہے۔اپوزیشن اتحاد کے لیڈروں کا آنا جاری ہے۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی اور آ ر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو،بہار کے سی ایم نتیش کما نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو سمیت کئی اپوزیشن رہنما دہلی پہنچ گئے ۔ اِدھر   دہلی روانہ ہونے سے پہلے لالو یادو نے کل پٹنہ ایئرپورٹ پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا۔ بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے کہ نریندر مودی 2024 میں لگاتار تیسری بار حکومت بنائیں گے۔ اس سوال پر آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو نے کہا کہ نریندر مودی کیا  ہیں؟ ہم سب مل کر الیکشن لڑیں گے اور اس بار ان کو ہٹائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 19 دسمبر کو میٹنگ ہے اور اس میٹنگ کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔
لالو یادو سمیت انڈیا الائنس کے تمام رہنما 2024 کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی 2024 کے انتخابات میں مسلسل تیسری بار حکومت بنائے گی، جب کہ اپوزیشن اپنی جیت کا دعویٰ کر رہی ہے۔  دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے درمیان اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ آج ہونے والی میٹنگ گزشتہ تین اجلاسوں کے مقابلے مختلف ہے۔ تیسری میٹنگ کے بعد سے اس میٹنگ میں ایک لمبا وقفہ ہے۔پانچ ریاستوں کے انتخابات میں’’انڈیا‘‘ کی اتحادی جماعتوں کے درمیان تناؤ کھل کر سامنے آیا تھا، ایسے میں سب کی نظریں آج کی میٹنگ پر لگی ہوئی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے پہلے ہی یہ میٹنگ بلائی تھی، لیکن نتیش کمار، ہیمنت سورین،  ممتا بنرجی اور اکھلیش یادو کے انکار کے بعد میٹنگ کو ملتوی کرنا پڑا تھا۔ نئی تاریخ کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ، کانگریس نے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کو ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ میٹنگ میں تمام لیڈروں کی شرکت کو یقینی بنائیں۔لالو پرساد کی خصوصی پہل سے بیشتر اپوزیشن لیڈر دہلی پہنچ چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام لیڈروں کے مشورے سے میٹنگ کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔
انڈیا الائنس کی اس میٹنگ کے بارے میں لالو یادو کا کہنا ہے کہ تمام پارٹیوں کے لیڈر بیٹھ کر 2024 کے انتخابات کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ لالو یادو نے میٹنگ کے ایجنڈے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں دی، لیکن مانا جا رہا ہے کہ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بحث اس کے مرکز میں ہوگی۔ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے ساتھ ریاست وار ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔ کرناٹک اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات کے خطوط پر اپوزیشن کی حکمت عملی یہ ہے کہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کم از کم دو سے تین ماہ قبل کر دیا جائے۔ ایسے میں اس حوالے سے بات چیت بھی ممکن ہے۔ تیسری میٹنگ میں اتحاد کے لوگو اور جھنڈے پر بھی بات ہوئی تھی۔ اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ انڈیا الائنس کے دہلی اجلاس میں لوگو اور جھنڈا بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔
اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کنوینر، ترجمان اور جنرل سیکرٹری پر اتفاق رائے پیدا کرنا بھی کے حلیف جماعتوں کے رہنماؤں کے سامنے فوری چیلنج ہے ۔ ایک طرف حلیف جماعتوں کے درمیان اختلافات ایک پیچیدہ ایشو ہے تو دوسری طرف راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی حالیہ جیت نے بھی اپوزیشن جماعتوں پر متحد ہونے کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔ایسے میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور دراوڑ منیترا کڑ گم (ڈی ایم کے) جیسی کچھ پارٹیاں کانگریس کے ساتھ سیٹ شیئرنگ کو حتمی شکل دے سکتی ہیں۔ سننے میں آ رہا کہ ایس پی اتر پردیش میں کانگریس کو 8 سیٹیں دینے کے لیے تیار ہے، لیکن کانگریس مزید سیٹیں چاہتی ہے۔ ایس پی لیڈر شیو پال یادو کا کہنا ہے  کہ سیٹوں کی تقسیم یا وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار طے کرنے میں کوئی دقت نہیں آئے گی۔اپوزیشن اتحاد کے بیشتر لیڈر وں کا دعویٰ ہے کہ ’’انڈیا‘‘ اس اتحاد پوری مضبوطی کے ساتھ چناؤ لڑے گا اور بی جے پی کو ملک سے ہٹائے گا۔ حالانکہ، مغربی بنگال، کیرالہ، پنجاب اور دہلی اتحاد کے شراکت داروں کے درمیان ہنوز تعطل بر قرار ہے۔ کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ تاہم، ریاستی انتخابات کے دوران ذات پر مبنی مردم شماری جیسے ایشو کو رائے دہندوں نے شاید توجہ نہیں دی، ایسی صورت حال میں ’’انڈیا‘‘کے لیڈر نئی حکمت عملی پر غور و فکرکر سکتے ہیں۔
  ہندی پٹی میں مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے کانگریس کی پوزیشن اتحاد کے اندر کمزور ہوگئی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کا کہنا ہے کہ وہ مثبت ایجنڈے کے ساتھ بی جے پی کا مقابلہ کرنےکے لیے ایک  قدم آگے بڑھیں گے۔ اور عوام کے مسائل کو اجاگر کریں گے۔ سال 2024 کے عام انتخابات میں صرف چند ماہ رہ گئے ہیں۔اپوزیشن اتحاد کے پاس وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں شاندار مظاہرہ کر رہی بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے انتخابی بیانیے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے بہت کم وقت ہے۔ اپوزیشن اتحاد پہلی میٹنگ 23 جون کو پٹنہ، دوسری میٹنگ 17-18 جولائی کو بنگلورو اور تیسری میٹنگ 31 اگست سے یکم ستمبر کے درمیان ممبئی میں ہوئی تھی۔ اس میں 27 پارٹیوں نے متحد ہو کر آئندہ لوک سبھا الیکشن لڑنے کا عہد تو کیا تھا، لیکن کئی اہم امور پر کوئی گفتگو نہیں ہو پائی تھی۔ اس صورتحال کے مد نظر سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی آج ہونے والی میٹنگ ہی یہ طے کرے گی کہ اپوزیشن اتحاد کا مستقبل کیسا ہوگا۔ اگر حکمراں جماعت کے جواب میں ایک متبادل مشترکہ پروگرام لانے میں اپوزیشن اتحاد کامیاب نہیں رہا تو شاید آج کے بعد میٹنگ اپوزیشن اتحاد ’’ انڈیا‘‘ کوئی میٹنگ نہیں ہو سکے گی اور یہ طے ہو جائے گا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی ایک بار پھر ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی۔
***************************