تاثیر،۱۰ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
تین ریاستوں میں زبردست جیت کے بعد بی جے پی نے اگلے لوک سبھا انتخابات کے لیے ایک نیا چناوی نعرہ گڑھا ہے۔ وہ نعرہ ہے ’اگلی بار 400 پار‘۔ بی جے پی لیڈروں کو پوری امید ہے کہ اپوزیشن اتحاد’’انڈیا‘‘ کے انتخابی ایشوزکی تین ریاستوں میں جس طرح ہوا نکلی ہے، اس کا فائدہ ہندی بولنے والی دیگر ریاستوں میںبھی انھیں مل سکتا ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں تقریباً پانچ مہینے باقی ہیں۔جن تین ریاستوں میں بی جے پی نے اس ماہ کامیابی کا پرچم لہرایا ہے، ان میں65 لو ک سبھا سیٹیں ہیں، جن میں سے ابھی بی جے پی کے پاس61 سیٹیں ہیں۔ ہندی بولنے والی ریاستوں بہار، یوپی، راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، دہلی، ہریانہ، جھارکھنڈ،ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں 193 سیٹیں ہیں۔ ان ریاستوں میں 177 سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ان ریاستوں میں نہ صرف اپنی سیٹیں برقرار رکھے بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ بھی کرے۔ حالانکہ ملک کی 11 ریاستوں میں بی جے پی کے لئےاپنی سیٹوں میں اضافے کی گنجائش بہت کم ہے۔اگر ہم اسمبلی انتخابات کے اثرات کا جائزہ لیں تو بی جے پی صرف یوپی اور بہار میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے۔مگر قطعی اکثریت کے لیے پارٹی کو بنگال، آسام، مہاراشٹر اور گجرات میں بھی اپنی 2019 کی کارکردگی کو دہرانا ہوگا۔ 2019 کے انتخابات میں، بی جے پی نے بنگال میں 18 سیٹیں، مہاراشٹر میں 23 سیٹیں اور گجرات کی تمام 26 سیٹیںجیتی تھیں۔
گزشتہ دو لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نریندر مودی کے چہرے کے سہارے میدان میں اترتی رہی ہے۔ اس وجہ سے اسےمسلسل دو نوں مرتبہ قطعی اکثریت بھی ملی۔مگر مودی لہر کے باوجود کئی بڑی ریاستیں ایسی ہیں، جہاں بی جے پی کا کھاتہ بھی نہیں کھلا ہے۔ بی جے پی اگر کشمیر سے بہار تک شمالی بھارت کی تمام سیٹیں جیت جاتی ہے تو اسے 245 سیٹیں ملیں گی۔ ایسا معجزہ بھارت کی سیاست میں ممکن نہیں ہے۔ 400 کا ہندسہ عبور کرنے کے لیے پارٹی کو کیرالہ، تمل ناڈو، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بھی 10۔10 سیٹیں درکار ہوں گی، جو کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان ریاستوں کی کل 118 سیٹوں میں سے بی جے پی کے پاس صرف چار سیٹیں ہیں، جو تلنگانہ میں ملی تھیں۔ بی جے پی کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں کرناٹک میں بھی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں بی جے پی نے 28 میں سے 25 سیٹیں جنوبی بھارت کی ریاست میں جیتی تھیں۔ اس بار پارٹی نے جے ڈی ایس کے ساتھ انتخابی معاہدہ کیا ہے۔ معاہدے کی وجہ سے بی جے پی کو 4 سیٹیں جے ڈی ایس کو دینی ہوں گی۔ یعنی بی جے پی کو اچھی کارکردگی کے لیے اپنے کھاتے کی تمام 24 سیٹیں جیتنی ہوں گی، جو بہت آسان نہیں ہے۔ کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ریاست کی سیاست میں کانگریس کی مداخلت بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ بہار میں بھی عظیم اتحاد میں شامل آر جے ڈی اور جے ڈی یو بھی کمزور نہیں ہیں۔ وہاں بی جے پی کے لیے اپنی سیٹوں کا بڑھانا بھی ایک چیلنج ہے۔ 2014 کے انتخابات میں بی جے پی اپنے بل بوتے زیادہ سے زیادہ 22 سیٹیں جیت سکی تھی۔
بی جے پی کے پاس اوڈیشہ سے صرف 8 لوک سبھا ممبر ہیں۔ بی جے ڈی کے پاس 20 سیٹیں ہیں۔ اس مشرقی ریاست میں بھی بی جے پی کے لیے توسیع کی بے پناہ گنجائش ہے، مگر نوین پٹنائک کی شبیہ کے سامنے زیادہ توقع کرنا آسان نہیں ہے۔ خوابوں کو پورا کرنے کے لئے بنگال میں بھی بی جے پی کو 19 سیٹوں کے اپنے پرانے رکارڈ کوآگے بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔ آندھرا پردیش، کیرالہ اور تمل ناڈو میں بی جے پی کا کھاتہ نہیں کھلا تھا۔وہاں این ڈی اے پارٹنر اے آئی ڈی ایم کے اب بی جے پی کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کی کل 25 لوک سبھا سیٹوں میں سے اب تک 11 علاقوں پر بی جے پی قابض ہے۔ علاقائی پارٹیوں کی مضبوط موجودگی کی وجہ سے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگاکہ بی جے پی کتنی سیٹیں جیتتی ہے۔جبکہ 400 کا ہندسہ عبور کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تمام 25 سیٹیں جیتنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ خود بی جے پی کو گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، مہاراشٹرا اور کرناٹک کی سیٹوں کو اپوزیشن کے ہاتھوں میں جانے سے بچانا ہوگا۔
2024 سے پہلے بی جے پی کو بہت سارے چیلنجوں سے گزرنا ہے۔ پنجاب میں اسے عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے ساتھ شرومنی اکالی دل سے بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی بار کشمیر میں انتخابات ہوں گے۔ ہماچل میں کانگریس کی حکومت آچکی ہے۔ کرناٹک بی جے پی کے ہاتھ سے نکل چکاہے۔ بہار میں نتیش کمار کے ساتھ اتحاد ٹوٹ چکاہے۔ ساتھ آئے نئے اتحادیوں کا اثر پوری ریاست میں نہیں ہے۔ مہاراشٹر میں اتحادی بدل چکے ہیں۔ مہاراشٹر میں، بی جے پی این سی پی (اجیت پوارگروپ) اور شیو سینا (شندے گروپ) کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے گی۔ 48 سیٹوں والے مہاراشٹر میں بی جے پی کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ سیٹیں بانٹنی ہوں گی۔ بی جے پی نے یوپی میں بھی نئے اتحادیوں کا انتخاب کیا ہے۔اس نے 2019 کے انتخابات میں 303 سیٹیں جیتی تھیں۔ اگر پارٹی 2024 کے انتخابات میں دس فیصد سیٹیں بھی بڑھا لیتی ہے تو مانا جائے گا کہ مودی کا جادو چل گیا ہے۔ اس کے لیے بی جے پی کو کرناٹک کے علاوہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں 70 سیٹیں حاصل کرنی ہوں گی۔تبھی ’اگلی بار 400 پار‘ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔
***************

