تصویر کا رخ الٹا بھی ہو سکتا ہے

تاثیر،۲ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

حال ہی میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں انتخابات ہوئے ہیں۔ آج سب کی نظریں ان پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر ہیں۔آج نتائج آنے والے ہیں ۔ میزورم کو چھوڑ کر باقی چار ریاستوں میںآج یعنی 03 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہونی ہے۔یعنی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم (پانچ ریاستوں) میں ہونے والے انتخابات کے بعد پورا ملک نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔ میزورم کے علاوہ ان تمام ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی آج ہونی ہے۔ اس سے پہلے میزورم میں بھی ووٹوں کی گنتی 03 دسمبر کو ہی ہونی تھی، لیکن الیکشن کمیشن نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے میزورم میں انتخابی نتائج کی تاریخ تبدیل کر دی ہے۔ اب  وہاں کے ووٹوں کی گنتی کل یعنی 4 دسمبر کو ہوگی۔
  مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان اور تلنگانہ کے انتخابی نتائج آج تو آئیں گے ہی ساتھ ہی ایگزٹ پول کے تجزیہ کے ساتھ ہی مذکورہ ریاستوں کی انتخابی تصویر بھی واضح ہو جائے گی۔اِدھر یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ ان انتخابی نتائج کا ملک کی سیاست اور اگلے سال ہونے والے عام انتخابات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج 2018 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بالکل برعکس تھے۔ مثال کے طور پر راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کی حکومتیں بنیں، لیکن لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے راجستھان کی تمام 25 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے کانگریس کا صفایا کردیا، جب کہ کانگریس کو چھتیس گڑھ میں 11 میں سے دو اور 29 میں سے صرف ایک سیٹ پر شکست ہوئی۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کو ایک سیٹ مل سکی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بار منظرنامہ کچھ بدلا ہے۔ اس بار یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا اگلے عام انتخابات پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔حالانکہ ایک بات تو واضح ہے کہ ملک کی سیاسی تصویر ضرور بدلی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔  کانگریس کی قیادت میں 28 جماعتوں کے اپوزیشن اتحاد’’انڈیا‘‘نے شکل اختیار کر لی ہے ۔ پانچ اسمبلیوں کے انتخابی نتائج کے بعد اس کی سرگرمیاں ضرور بڑھ جائیں گی۔ جب کہ مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت بھی نتائج کے مطابق خود کو ’’الیکٹورل موڈ‘‘ میں ضرور ڈالے گی۔
لوک سبھا میں پانچ ریاستوں کے حصہ کے بارے میں انتخابی نتائج سے پہلے ہی قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔واضح ہو کہ 2019 انتخابات کی بنیاد پر موجودہ لوک سبھا میں ان پانچ ریاستوں کی حصہ داری بھی سب کے ذہن میں ہیں۔ راجستھان: کل سیٹیں: 25، بی جے پی-24، آر ایل پی-01، مدھیہ پردیش: کل سیٹیں: 29، بی جے پی-28، کانگریس-01، چھتیس گڑھ: کل سیٹیں: 11، بی جے پی-09، کانگریس-02، تلنگانہ: کل نشستیں: 17، BRS-09، بی جے پی-04، کانگریس03، -01
 میزورم: کل نشستیں: 01، میزو نیشنل فرنٹ-01اے آئی ایم آئی ایم۔01 ہے۔ چرچا ہے کہ اس بار لوک سبھا انتخابات کی تصویر کچھ الگ ہی ہوگی۔ اس بار کے انتخابات این ڈی اے بنام ’’انڈیا ‘‘ ہونے والا ہے۔ ایسے میں یہ طے ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں اگر بی جے پی زیادہ سیٹوں پر کامیاب ہوتی ہے تو جیت جاتی ہے تو بہت ساری تبدیلیوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
  سیاسی مبصرین کی مانیں تو اگر بی جے پی حالیہ اسمبلی انتخابات جیتتی ہے تو برانڈ مودی مضبوط ہو جائے گا، مرکز کی عوامی فلاحی اسکیموں کو منظوری دی جائے گی، شکست سے مایوس اپوزیشن میں پھوٹ پڑ سکتی ہے، کرناٹک، ہماچل میں شکست کے بعد مایوس کیڈر کو توانائی ملے گی، بی جے پی کے لیے عام انتخابات میں مینڈیٹ کے حق میں ہونے کا بیان دینا آسان ہوگا، پارٹی بلدیاتی چہرے کا اعلان کیے بغیر الیکشن جیتنے کی حکمت عملی جاری رکھے گی، لوک سبھا انتخابات میں عوام کے لیے عوامی وعدوں کی بارش ہوگی۔اس کے بر خلاف اگر کانگریس جیت گئی تو’’انڈیا‘‘ کی اہمیت بڑھے گی۔ہندی بیلٹ میں الیکشن جیتنے سے ملک کی سیاست میں کانگریس کی اہمیت بڑھے گی،کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کا قد پارٹی سے باہر بھی بڑھے گا، راہل کی قبولیت بڑھے گی، اتحاد کے مستقبل کے بارے میں خدشات ختم ہونے کے ساتھ، دوسری جماعتیں بھی اس میں شامل ہونے کے لیے بے چین ہو سکتی ہیں، سوالیہ نشان ہٹانے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ پی ایم مودی کا متبادل کون سا ہے؟  اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم میں کانگریس کی سودے بازی کی طاقت بڑھ سکتی ہے، اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو دیگر ریاستوں میں کانگریس کی طاقت بڑھے گی اور اسمبلی انتخابات کی طرز پر گارنٹی پروگرام لوک سبھا انتخابات میں بھی آزمائے جا سکتے ہیں۔
چند سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ تلنگانہ کے نتائج کا اثر بھی قومی سیاست پر پورا پورا پڑے گا۔بی آر ایس کے’’کے‘‘وہاں اقتدار کی ہیٹ ٹرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چندر شیکھر راؤ (کے سی آر)ایک ’’غیر کانگریس، غیر بی جے پی‘‘ اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔ اگر وہ حکومت نہیں بنا پاتے ہیں تو وہ اس تصور کو چھوڑ کر این ڈی اے کی طرف راغب ہو سکتے ہیں اور اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو قومی پلیٹ فارم پر اپنی پارٹی کو وسعت دینے کی ان کی کوششیں تیز ہو جائیں گی۔ عام انتخابات میں کے سی آر این ڈی اے اور’’انڈیا‘‘ دونوں کے ساتھ سودے بازی کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ جیت اور ہار کا اثر عام انتخابات میں اوڈیشہ میں بی جے ڈی اور آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس کے جھکاؤ پر بھی نظر آئے گا۔ فی الحال، دونوں پارٹیاں قومی سیاست میں بالواسطہ طور پر این ڈی اے کی حمایت کرتی نظر آرہی ہیں، مگر آج کے بعد سے تصویر کا رخ الٹا بھی ہو سکتا ہے۔
 *****