تعلیم کے فروغ اور اتحادامت کے لئے کوششیں تیز کرنے کی اشد ضرورت: حضرت امیر شریعت

تاثیر،۵ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

ریاست اڈیشہ کے شہرکٹک میں امارت شرعیہ کی سالانہ مجلس شوریٰ میں کئی اہم تجاویز کی منظوری

امارت شرعیہ بہا،اڈیشہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ کی سالانہ مجلس شوریٰ3 ؍دسمبر 2023ء کو ملک کی ریاست اڈیشہ کے قدیم شہر کٹک میں’’ ہوٹل پنتھ نواس بخشی بازار‘‘ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی،جس میںبہاراڈیشہ وجھارکھنڈ اورملک کی دیگر ریاستوں سے بڑی تعداد میںاراکین شوریٰ نے شرکت کی، اورزیر بحث ایجنڈوں پر گفت وشنید کے بعد آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کیا، اجلاس کی صدارت امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر وسکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے فرمائی، اس موقع پر حضرت امیر شریعت مدظلہ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایاکہ ملک کے موجودہ حالات میں ہم سب کو حکمت اوردوراندیشی سے کام کرنا ہوگا اوراس کے لیے اجتماعی قوت کے ساتھ ذہنی، فکری ہم آہنگی کو بروئے کار لانا ہوگا،تعلیم کے حصول اور اس میں اختصاص پر توجہ دینی ہوگی، اسلام اورمسلمانوں کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنہ کاعلمی انداز میں جواب دینا ہوگا، اس کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ امارت شرعیہ میں ریسرچ کا ایک شعبہ قائم کیاجائے ،جس میں مختلف فنون کے ماہرین کی ٹیم کام کرے ،آپ نے مزید فرمایاکہ امات شرعیہ کا نظام کارباہمی تعاون سے چل رہاہے، اس کو مزید قو ت بخشنے کے لیے آپ سب کا تعان درکارہے ،ملک اور ملت کی موجودہ صورت حال میں امارت شرعیہ سے وابستہ تمام افراد بالخصوص اراکین شوریٰ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہے،ہم سب کو احساس ذمہ داری کے ساتھ کارواں کو آگے لیکر بڑھنا ہوگا،آپ نے اخلاص ،مسلسل جدوجہداور عزم وحوصلہ کے ساتھ زندگی گذارنے کی لوگوں سے اپیل کی اورفرمایاکہ کلمہ واحدہ کی بنیاد پر اتحاد کی راہیں تلاش کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
حضرت مولانا محمد شمشادرحمانی قاسمی صاحب نائب امیر شریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ نے فرمایاکہ اس وقت نت نئے سماجی فتنے پھیل رہے ہیں ، مسلم عورتوں کو سودی کاروبار سے جوڑنے کے لیے سرکاری سطح پر رقمیں فراہم کی جارہی ہیں اور عدم ادائے گی کی صورت میں انہیں ذلیل کیاجاتاہے ، اس کے تدارک کے لیے ہم سب کو متبادل حل تلاش کرناہوگا،اورشرعی طریقے پر انہیںمیراث میں حصہ داربناناہوگا،آپ نے اجتماعی قرض(سموہ لون)کے ذریعہ خواتین میں پیدا کئے جانے والے فتنوں سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی۔لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی دینی تربیت کے لئے تمام گارجین حضرات کو حساس رہنے کا مشورہ دیا۔
امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اراکین شوریٰ کا خیر مقدم کیا اورامارت شرعیہ کی یک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی اورکہاکہ حضرت امیر شریعت کی قیادت میں ادارہ کا ہرشعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، انہوں نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں جملہ شعبہ جات کی کارکردگی کاخلاصہ پیش کیااور شعبہ کے ذمہ داران وکارکنان کی شب وروز کی تگ ودوپر انہیں مبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ امارت شرعیہ کے ہر چھوٹے بڑے کارکن الحمد للہ پورے سمع وطاعت کے جذبہ کے ساتھ نظام امارت کو آگے بڑھارہے ہیں،ان کے ذریعہ پیش کی گئی کارکردگی رپورٹ کو ارکان شوریٰ نے پسند کیا اورامارت شرعیہ کی ترقی واستحکام کی دعائیںدیں۔
امارت شرعیہ کے مختلف شعبہ جات شعبہ دارالقضاء،دارالافتاء ،شعبہ دعوت وتبلیغ ،شعبہ پروجیکٹ مینجمنٹ، شعبہ تعلیم، المعہدالعالی، دارالعلوم الاسلامہ،ٹیکنیکل واسپتال ،ذیلی دفاتر، شعبہ اصلاحات اراضی ، شعبہ اوقاف، بیت المال، وفاق المدارس الاسلامیہ ، امارت پبلک اسکول،شعبہ تحفظ مسلمین وخدمت خلق اورشعبہ امور مساجد وغیرہ کی رپورٹیں اس شعبہ کے ذمہ داروں نے تفصیل سے پیش کی ۔ان رپورٹوں پر ارکان شوریٰ جناب پروفیسر شکیل احمد القاسمی صاحب، جناب جاوید اقبال ایڈوکیٹ صاحب، جناب ذاکر بلیغ صاحب، شیخ مطیع الرحمن سلفی صاحب ، جناب ظفر صاحب سابق ایم ایل اے ، جناب مولانا نوشاد نوری قاسمی صاحب استاد دارالعلوم دیوبند ، جناب مولانا جاوید اختر ندوی صاحب استاد ندوۃ العلماء لکھنو ، جناب مولانا محمد عالم قاسمی صاحب ، جناب مولانا محمد ظفر صاحب راور کیلا، جناب الحا ج مولانا محمد عارف رحمانی صاحب ، جناب ماسٹر انوار صاحب ، جناب حاجی احسان الحق صاحب ،حاجی اکرام صاحب ارریہ، جناب مولانا اعجاز احمد صاحب ، وغیرہم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں امارت شرعیہ کے بڑھتے ہوئے کاموں اور اس کے استحکام پر خوشی محسوس ہورہی ہے اور ہم سب عہد کرتے ہیں کہ حضرت امیر شریعت مدظلہ العالی کی قیادت ورہنمائی میں امارت شرعیہ کے کارواں کوآگے بڑھانے میں اپنا ہرممکن تعاون پیش کریں گے۔جناب مولاناقاضی انظارعالم قاسمی صاحب،جناب مولانامفتی سعیدالرحمن قاسمی صاحب،جناب مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب،جناب مولانامفتی وصی احمد قاسمی صاحب،جناب قاضی انور قاسمی صاحب،جناب مولانا قمر انیس قاسمی صاحب ،جناب مولانا سعود عالم قاسمی صاحب جمشید پور، جناب قاری محمد شعیب عالم صاحب نوادہ،جناب مولانا عبدالسبحان قاسمی صاحب دہلی ،جناب بابافرید رحمانی صاحب مظفرپور ،جناب ڈاکٹر ساجد علی خان سیتامڑھی،مولاناامجد بلیغ رحمانی صاحب، جناب قاضی سہیل اختر قاسمی صاحب، جناب مولاناعبدالباسط صاحب ندوی ،جناب مولانا رضوان احمد صاحب ندوی ،جناب عبدالوہاب صاحب ،جناب عرفان الحسن صاحب، جناب امتیاز احمد صاحب ،جناب مفتی یحیٰ غنی صاحب اورڈاکٹر یاسر حبیب صاحب نے اپنی آراء پیش کیں ،پھر ان آراء کی روشنی میں تجاویز طے ہوئی جسے تمام اراکن نے منظوری کیا،اس میں لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دینے کی تحریک،اصلاح معاشرہ کی کوششیں،فکرامارت کو عام کرنے اور اجتماعی زندگی کو مستحکم کرنے ،مکاتب دینیہ کا گائوں گائوں میں جال پھیلانے ،تعلیمی ادارے قائم کرنے،سودی قرض کے لینے دینے (سموہ لون)سے پرہیز جیسی اہم تجاویز شامل ہیں ، جناب مولانامفتی محمد سہراب صاحب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے اجلاس کی نظامت کی اورامارت شرعیہ کی یک سالہ کارکردگی پر مشتمل اجمالی ڈاٹا جوکہ اسکرین پر دکھایاجارہاتھا اس کی وضاحت کی۔
یہ اجلاس قاری محمد یوسف صاحب کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی ،اس کے بعد نعتیہ کلمات پیش کیاگیا، پھر تجاویز تعزیت ،سابقہ کارروائی کی توثیق اورعملی پیش رفت کا خاکہ سامنے آیا اوراخیر میں حضرت امیر شریعت مدظلہ کی دعاء پر مجلس اختتام کو پہونچی ۔اس اجلا س کو کامیاب بنانے میں جناب مولانا صبغت اللہ صاحب قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء کٹک اورعمائدین شہرکے علاوہ مولانا شاہ نواز عالم صاحب مظاہری ،مولانا محمد نصیرالدین مظاہری ،مولانا محمد منہاج عالم ندوی کے علاوہ حافظ شہاب الدین صاحب،مولانا سرفراز قاسمی صاحب،قاری شفیع اللہ صاحب،حافظ علی حسن صاحب مبلغین امارت شرعیہ نے بڑی جدو جہد کی ،اجلاس شوریٰ میں شریک ہونے والے اراکین شوریٰ کا اہالیان کٹک نے گرم جوشی سے استقبال کیا اور قیام وطعام اور دیگر سہولیات کا قابل قدر خیال کیا۔اس موقع پر ریاست اڈیشہ کے واحد مسلم ایم ایل اے جناب مقیم صاحب نے اراکین شوریٰ سے ملاقات کرکے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیااور سب کی دعائیں لیں۔