درجہ حرارت میں کمی اور گھنی دھند کی وجہ سے لکھنؤ کی سڑکوں پرویرانی

تاثیر،۳۰ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

لکھنؤ، 30 دسمبر :لکھنؤ میں ہفتہ کی صبح درجہ حرارت 10 ڈگری درج کیا گیا۔ صبح کے وقت مغربی ہواؤں کے باعث سڑکوں پر نکلنے والے لوگوں کو شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا۔ جمعہ کی رات سے آج صبح تک درجہ حرارت 16 سے 10 ڈگری تک گرنے کے باعث سڑکوں پر دھند اور ویرانی چھائی رہی۔
لکھنؤ شہر پوری طرح سے مغربی ہواوں کی زد میں آ گیا ہے۔ گھنی دھند نے کپکپا دینے والی سردی کا آغاز کر دیا ہے۔ شہر کے وسط میں واقع ہنومان سیتو مندر میں صبح کے وقت عقیدت مندوں کی بھیڑ میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح ہنومان مندر حضرت گنج اور منوکامنا ہنومان مندر میں بھی 11 بجے تک عقیدت مندوں کی تعداد کم رہی۔ صبح سویرے اسکول جانے والی بسوں میں اسکولی طلبہ کو اونی کپڑوں میں لپٹے دیکھا گیا۔ ہجوم والے چوراہوں پر بھی، سردی کی وجہ سے ٹھیلہ فروش قریب ہی کوئلے کی آگ جلاکر اس کے سامنے بیٹھے نظر آئے ۔
محکمہ موسمیات سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ لرزتی سردی آئندہ ماہ جنوری میں بھی جاری رہے گی جس میں ہواؤں کا مکمل عمل دخل ہو گا۔ اس کے نمایاں اثرات روزمرہ کی زندگی پر نظر آئیں گے۔ لکھنؤ اور آس پاس کے اضلاع دھند کے اثر اور ہواؤں کی وجہ سے بڑھے ہوئے جھٹکوں سے لرز اٹھیں گے۔
شہر میں الاو جلانے کا مطالبہ
درجہ حرارت میں کمی سے عام شہری الاؤ کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ الاؤ جلانے کا مطالبہ کرنے والوں میں دریائے گومتی کے کنارے واقع شنی دیو مندر کے پجاری پمی گرو بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں باہر سے آنے والے سماجی کارکنوں نے ذاتی کوششوں سے ان کے علاقے میں الاؤ روشن کیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے کڑیا گھاٹ پر واقع مندر کے علاقے میں کبھی بھی الاو فراہم نہیں کیا گیا۔
نائٹ شیلٹرز کی تعداد میں اضافہ
سڑکوں پر سوکر گزر بسر کرنے والوں نے نائٹ شیلٹرز کا رخ کیا۔ نائٹ شیلٹرز (رین بسیروں )کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور آنے والے وقتوں میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ادھر عالم باغ میں سندھی برادری کے لوگوں نے ذاتی کوششوں سے نہریا چوراہے پر نائٹ شیلٹر بنایا ہے جس میں تہری بھی کھلائی جا رہی ہے۔ اسی طرح جندل گروپ جیسی پرائیویٹ کمپنیوں نے بھی کچھ نائٹ شیلٹر بنائے ہیں۔
سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ
موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی ٹماٹر، مٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ باہر سے آنے والی سبزیوں کی تاخیر سے آمد کے باعث آلو اور پیاز کی قیمتوں میں اضافے کا بھی امکان ہے۔