روہتاس کو سیاحتی ضلع کے طور پر کیا جائیگا تیار، ڈی بھیجی ہے تجویز

تاثیر،۲ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

       سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) روہتاس ضلع اب خصوصی طور پر سیاحتی ترقی کریگا، روہتاس ضلع کے ڈی ایم نوین کمار نے محکمہ سیاحت کے سکریٹری کو روہتاس کو سیاحتی ضلع کے طور پر ترقی دینے کی تجویز بھیجی ہے جس پر مزید کارروائی شروع کر دی گئی ہے ۔ ضلع میں سیاحت کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے مشق کرنی شروع کر دی ہے، اس سے ملکی، غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو جائیگا اور روزگار کے مواقع بھی بڑھینگے، سہسرام کے نزد پہاڑی پر واقع مانجھر کنڈ میں کیفے ٹیریا اور چیکنگ روم بھی بنایا جائیگا ۔ راجگیر کی طرح وہاں پر بھی شیشے کا پل بنانے کا منصوبہ ہے ۔ ڈی ایم کی طرف سے بھیجی گئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ روہتاس ضلع اپنی بھرپور قدرتی دولت، تاریخی اور آثار قدیمہ اور مشہور تاراچنڈی شکتی پیٹھ، شیر شاہ سوری مقبرہ کے لئے مشہور ہے، بہار کے سیاحتی نقشے پر روہتاس ضلع کا سہسرام ایک منفرد مقام رکھتا ہے،  ہزاروں عقیدت مند تاراچندی درشن آتے ہیں، یہاں کی دلکش آبشاریں جیسے توتلہ بھوانی، مانجھر کنڈ، دھوان کنڈ اور سرسبز و شاداب پہاڑ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، اسکے علاوہ شیرشاہ سوری کا مقبرہ، گوردوارہ چاچا پھگومل صاحب جی، گوردوارہ تکسال سنگت، چوراسن مندر اور کرمچٹ ڈیم سیاحوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے ہیں۔ کیمور کی آبشاریں اور پہاڑیاں جسمیں ٹریکنگ اور ایڈونچر اسپورٹس کے لئے پوشیدہ دلکش مقامات روہتاس گڑھ قلعہ، دریائے سون کے نیچے کی سمت میں کیمور پہاڑی پر واقع ہے، جو ہندوستان کے قدیم ترین قلعوں میں سے ایک ہے، اس قلعے کے احاطے میں بہت سی عمارتیں ہیں، جنکی شان و شوکت قابل دید ہے، قبائلی لوگ قلعہ روہتاس گڑھ کو اپنا سب سے اہم مقام مانتے ہیں، کئی ریاستوں کے عقیدت مند قلعہ میں کدم کے درخت کی پوجا کرنے آتے ہیں‌۔ گپتا دھام ایک اہم مذہبی اہمیت کا حامل زیارت گاہ ہے، یہاں ہر سال پانچ مرتبہ میلے لگتے ہیں، میلہ بسنت پنچمی سے شروع ہوتا ہے اور پھاگن مہینے کی مہاشیو راتری، چیت اور وِشاخ شیو راتری کے علاوہ یہ میلہ پورا مہینہ شراون کے مہینے میں جاری رہتا ہے۔