شارجہ میں بزمِ صدف انٹرنیشنل کے عالَمی مشاعرے میںمختلف ملکوں کے شعرا نے رنگ جمایا

تاثیر،۱۱ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

کہیں کہیں تو زمیں آسماں سے اونچی ہے یہ راز مجھ پہ کھلا سیڑھیاں اترتے ہوئے صباحت عاصم واسطی (ابو ظہبی)
ذرا سے پھل کے لیے شاخ توڑ لی تم نے یہ بھوک کی تو علامت نہیں، ہوس کی ہے سجّاد بلوچ (پاکستان)
از جانبِ عشاق و فدایانِ محبت ہنستے ہوئے آیا ہوں سرِ دار ! انا العشق علی زریون (پاکستان)
پرواز کو پر تول رہا ہو جیسے زندان کے در کھول رہا ہو جیسےمزدور کے ماتھے پر پسینے کی چمک محنت کا نشہ بول رہا ہو جیسے ظفر کمالی (ہندستان)
ہندستان اور پاکستان کے بعد خلیج کے ممالک اردو کا تیسرا گھر ہیں: صفدر امام قادری

[قسط دوم]

شارجہ؍پٹنہ۔۱۰ دسمبر۔بزمِ صدف کے اِس عالَمی مشاعرے کا حقیقتاً عروج کا وقت وہ تھا جب پاکستان کے نام ور شاعر، مترجم اور نقّاد ڈاکٹر سجّاد بلوچ مائک پر تشریف لائے۔ پاکستان کے نوجوان اور قابلِ اعتبار شعرا میں اُن کی ایک خاص شناخت ہے۔ اِسی سال اُن کا دوسرا شعری مجموعہ ’رات کی راہ داری میں‘، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوا جسے قارئین کے ایک بڑے حلقے میںداد و تحسین سے نوازا گیا۔سجّاد بلوچ ہم عصر شاعری کی عام فَضا سے الگ اور مختلف انداز کے اشعار کہنے کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔نئے مضامین کی تلاش و جستجو اور بیان کا ایک انوکھا سلیقہ اُن کے اشعار کے لیے ایک ایسی زمین تیّار کر رہا تھا جس سے سامعین اُن کے ایک ایک مصرعے پر داد دینے کے لیے مجبور ہوئے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی شاعر کو سادہ انداز میں شعر پڑھتے ہوئے اتنی داد ملتی ہو۔ سجّاد بلوچ نے اپنے ایک ایک شعر پر داد حاصل کی اور بزمِ صدف کے اِس مشاعرے کو اتنی بلندی تک پہنچا دیا جس کا آسانی سے اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اُن کے چند نمایندہ اشعار جو مشاعرے میں پسند کیے گئے، وہ حسب ذیل ہیں:

تو جو کرتا ہے خریدی ہوئی چڑیاں آزاد
یہ تو کفارہ نہیں پیڑ کی بربادی کا
بیٹھے ہیں اگلی نشستوں پہ تجھے دیکھنے کو
ورنہ ہم خالی کلاسوں میں بھی پیچھے بیٹھے
ذرا سے پھل کے لیے شاخ توڑ لی تم نے
یہ بھوک کی تو علامت نہیں ہوس کی ہے
ہماری صورتِ حالات ایسی ہے کہ اب جس دن
نئی مشکل نہیں پڑتی تو آسانی سمجھتے ہیں
کوئی بھی جیت سکا تھا نہ آج تک جس سے
تمام ہارے ہوئے اس کی ہار پر خوش ہیں
ہجرتِ خانہ بدوش بھی کوئی ہجرت ہے
ہم تو ویرانے میں آئے کسی ویرانے سے
(سجاد بلوچ)

سجّاد بلوچ نے مشاعرے کا جو ادبی معیار متعین کیا، اُس کے بعد ناظمِ مشاعرہ کے پاس کوئی اور چارۂ کار نہیں تھا۔ اُنھیں بھوپال سے تشریف فرما مترنم آواز کے مالک غزل گو اور نعت گو وِجے تیواری کو آواز دینی تھی۔ وِجے تیواری نے ہندستان کی گنگا جمنی تہذیب کی نمایندگی کرتے ہوئے امن اور شانتی کی دعاؤں کے ساتھ اپنا کلام پڑھنا شروع کیا۔ زندگی کی پیچیدہ عبارتوں کو سمجھتے ہوئے انسانیت کے مفاد میں کس طرح دنیا آگے بڑھے، اِس فکر مندی میں وِجے تیواری کے اشعار سامنے آتے رہے۔ اُنھوں نے دوہے بھی پڑھے اور غزلوں کے اشعار بھی سنائے۔ تھوڑا سا کلام ترنم کے ساتھ بھی پیش کیا۔اُن کے درج ذیل اشعار پر سامعین کرام نے خوب خوب داد دی:

زبان چلنے لگی لب کشائی کرنے لگے
نصیب بگڑا تو گونگے برائی کرنے لگے
ہمارے قد کے برابر نہ آ سکے جو لوگ
ہمارے پاؤں کے نیچے کھدائی کرنے لگے
سینے میں طوفان دبانا پڑتا ہے
آنکھوں کو انجان بنانا پڑتا ہے
اُن کا کیا ہے نکل پڑے ہیں بے پردہ
ہم کو تو ایمان بچانا پڑتا ہے
(وِجے تیواری)

مشاعرے میں بیچ بیچ میں بھی عوام کی طرف سے پاکستان کے نوجوان شاعر اور جواں دلوں کی دھڑکَن جناب علی زریون کو بلانے کی آواز اُٹھ رہی تھی۔ ناظم نے اُنھیں بصد احترام اُن کے متعدد اشعار سنا کر شایانِ شان طریقے سے ان کااستقبال کیا۔ علی زریون کے استقبال میں ایک شور بپا تھا۔ کوئی بھی اِس ماحول کو دیکھ کر یہ سمجھ سکتا تھا کہ اِس شاعر کی عوامی مقبولیت کیا ہوگی۔ علی زریون نے مشاعرے کا ماحول دیکھتے ہوئے اپنے مقبولِ عام کلام کی جگہ پر وہ شاعری پیش کی جس کے بارے میں یہ کہا سکتا ہے کہ ہر محفل میں اتنے گاڑھے کلام کے لیے جگہ نہیں ہوتی ہے۔ اپنے اشعار پر اُنھیں داد ملتی جا رہی تھی اور سہلِ ممتنع میں بات چیت کے مخصوص اندا زکے ساتھ اُن کی شاعری بڑھتی جا رہی تھی۔ ہر شعر اور ہر مصرعے پر وہ واہ واہی بٹور رہے تھے۔ کئی بار ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ شعرنہیں سنا رہے ہیں، لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ سامعین سے کچھ سن رہے ہیں اور اُنھیں کچھ سنا رہے ہیں۔شارجہ کے اِس پروگرام کے سامعین کا معیار اور سننے کے عالمانہ شعور کو بھانپتے ہوئے علی زریون نے اپنی شاعرانہ زنبیل سے وہ پونجی نکالی جو سب کے لیے انوکھی اور مختلف تھی۔ دیکھتے دیکھتے اردو کا یہ شاعر اپنا فارسی کلام بھی پیش کرنے لگا۔ زبان اتنی سادہ اور اردو آشناتھی کہ اُن شعروں پر بھی اُنھیں اتنی ہی داد ملی جتنی دوسرے اشعار پر مل رہی تھی۔ اِس مشاعرے کا یہ ایک حیرت انگیز موڑ تھا جہاں دیگر شعرا اور سامعین بھی حیران وششدر تھے۔ علی زریون نے جو اشعار سنائے، اُن میں سے چند یہاں پیش کیے جاتے ہیں:

چوم کر خاکِ درِ یار قدم دھرتا ہوں
جست بھرتا ہوں ابد پار قدم دھرتا ہوں
برزمینِ دلِ ہر سرکش و دل کش بَدَنَے
صرف میں ہوں جو لگاتار قدم دھرتا ہوں
جس جگہ سر نہیں دھرنے کی اجازت اِن کو
میں وہاں پر بھی دگر بار قدم دھرتا ہوں
مردِ جانباز کے ہوتے ہوئے مقتل ویران ؟
آ مرے یار کی تلوار ! قدم دھرتا ہوں
کہتا ہوں علی برسرِ بازار ! انا العشق
رقصم بہ گروہانِ وفادار ! انا العشق
از جانبِ عشاق و فدایانِ محبت
ہنستے ہوئے آیا ہوں سرِ دار ! انا العشق
آدمی کا خدا کو رد کرنا
کیا کہا جائے گا گھٹن کے سوا ؟
(علی زریون)

بزمِ صدف نے اِس بار نئی نسل ادبی انعام دوبئی میں مقیم نوجوان شاعر جناب شاداب الفت کو دیا تھا۔شاداب الفت مشاعرے میں علی زریون کے بعد اسٹیج پر آئے۔ میزبان ہونے کے سبب اُنھوں نے اختصار سے کام لیا مگر اُن کے اشعار نے اُن کے کلام کی پختگی اور ادبی معیار کی ثابت قدمی ظاہر کی۔ اُنھوں نے چند خوب صورت اشعار پیش کیے جن پر سامعین نے انھیں داد و تحسین سے نوازا:

یہ جو چہروں پہ ہیں آثار پریشانی کے
یہ نتایج ہیں سبھی آپ کی من مانی کے
سورج کے آس پاس کھڑا سوچتا ہوں میں
منزل تو یہ نہیں ہے، کہاں جا رہا ہوں میں
تری جانب قدم اٹھتے نہیں ہیں آج بھی میرے
نہیں معلوم کب تک یوں کرے گا حکم رانی جسم
(شاداب الفت)

اب باری تھی بزمِ صدف بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ شاعر، نقّاد، محقق داکٹر ظفر کمالی کی۔ ظفر کمالی بہ یک وقت ظریفانہ شاعر، رباعی گو اور بچّوں سے متعلق شاعری کے نقیب ہیں۔ ایک محقق کی حیثیت سے ہند و پاک میں اُن کا بڑا مقام ہے۔ بزمِ صدف نے اُن کی گو نا گوں ادبی خدمات کے اعتراف میں اُنھیں اپنا بین الاقوامی انعام دیا تھا۔ظفر کمالی نے مشاعرے میں اپنے مقام کو سمجھتے ہوئے خاص طور سے رباعیات پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ رباعیات کے چار مجموعے جس شخص نے پیش کر دیے ہوں، اُس کی مشّاقی اور ادبی حیثیت کے سلسلے سے کیا کلام ہو سکتا ہے۔ ظفر کمالی نے ۲۰؍ کے قریب رباعیاں پیش کیں جن میں درجہ ذیل کو زیادہ پسندیدگی حاصل ہوئی:

پرواز کو پر تول رہا ہو جیسے
زندان کے در کھول رہا ہو جیسے
مزدور کے ماتھے پر پسینے کی چمک
محنت کا نشہ بول رہا ہو جیسے
سوکھے ہوئے ہونٹوں کی دعا رونے لگی
دیکھاجو مرا حال دوا رونے لگی
آئی تھی ملاقات کی خاطر مجھ سے
بیٹھی جو سرھانے تو قضا رونے لگی
جلتا ہے دیا جب بھی مچلتی ہے ہوا
جب آگ لگے زور کی چلتی ہے ہوا
کب رُخ یہ کدھر کر لے بھروسہ ہی نہیں
یاروں کی طرح رنگ بدلتی ہے ہوا
حالات کی سختی سے جیالے ڈر جائیں
طوفان کی آغوش کے پالے ڈر جائیں
باطل کے مقدر میں تو لکھّی ہے شکست
پھر کیسے اندھیروں سے اجالے ڈر جائیں
(ظفر کمالی)

ظفر کمالی کی رباعیات کے بعد مشاعرے کے سب سے بزرگ بزمِ صدف انعام برائے اردو تحریک ۲۰۲۲ء حاصل کرنے والے مشہور شاعر ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کو ناظمِ مشاعرہ جناب مسعود حسّاس نے آواز دی۔ ڈاکٹر واسطی پاکستان ، برطانیہ اور ابو ظہبی میں اپنی ادبی اور علمی خدمات کے لیے معروف رہے ہیں۔ اُنھوں نے مشاعرے کے وقار میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اپنی چند ایسی غزلیں پیش کیں جن کا مزاج فلسفیانہ اور عارفانہ تھا۔ فارسی تراکیب کا حسن اور نغمگی نے تاثر دوبالا کر دیا تھا۔ اِن سب پر مستزاد اُن کے پڑھنے کا والہانہ پن۔ وہ شعروں میں ڈوب کر معنیٰ کی تہیں واضح کرتے رہے اور مشاعرے کے سامعین ایک جادوئی کیفیت میں مبتلا رہے۔ مختلف شعرا نے مشاعرے کے علمی اور ادبی مقام کو جہاں تک پہنچایا تھا، ڈاکٹر واسطی نے اُسے ایک اور جست عطا کی۔اُن کے چند اشعار

نمونے کے طور پر ملاحظہ کریں:
کہیں کہیں تو زمیں آسماں سے اونچی ہے
یہ راز مجھ پہ کھلا سیڑھیاں اترتے ہوئے
مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
وہ یوں ہوا کہ مرے ہاتھ لگ گیا سورج
سیاہ شب میں ستارہ شکار کرتے ہوئے
دینے لگا ہوں جنت و دوزخ کے حکم بھی
پروردگار روک خدا ہو رہا ہوں میں
( صباحت عاصم واسطی)

مشاعرے کی صدارت بزمِ صدف انٹرنیشنل کے ڈائرکٹر اور کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ (ہندستان) کے شعبۂ اردو کے استاد پروفیسر صفدر امام قادری کر رہے تھے۔اُنھوں نے مشاعرے میں پیش کیے گئے کلام پر اپنے تاثرات پیش کیے۔ اُنھوں نے متحدہ عرب امارات کے شعرائے کرام اور وہاں کے سامعین کے اعلا ادبی ذوق کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے شاعر سے مشاعرے کاجو معیار متعین ہوا، وہ یوں ہی ممکن نہیں تھا۔ ابتدا میں متحدہ عرب امارات کے پانچ چھے شعرا نے مشاعرے کی کامیابی میں بنیاد کی اینٹ کا کام کیا۔سامعین جو سینکروں کی تعداد میں موجود تھے، اُن کا ادبی ذوق اتنا بالیدہ تھاکہ اُنھوں نے پہلے شاعر سے ہی اچھے اشعار اور بہترین کلام پر داد و تحسین کا سلسلہ چلایا۔ ہر شاعر اِس بات سے واقف تھا کہ یہ عام سامعین نہیں ہیں۔ اکثر و بیش تر کا اعلا ادبی ذوق ہے اور اُن کے ادبی فہم پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر قادری نے یہ بھی کہا کہ مشاعرے میں صفِ سامعین میں ایسے کئی شعرا موجود تھے جنھیں مہمان شعرا کو زیادہ موقع دینے کی وجہ سے شاملِ مشاعرہ نہیں کیا گیا مگر ایسے سامعین نے مشاعرے کے معیار کی ضمانت لے رکھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ن۔ے۔عدن، سیّد مسعود نقوی، عائشہ شیخ آشی، سمیعہ ناز ملک ، صائمہ نقوی، احیا بھوج پوری اور شاداب الفت نے منتخب اشعار پیش کرکے مہمان شعرا کے لیے بھی ایک نشانہ مقرر کیا کہ اِس مشاعرے میں اعلا ادبی معیار کو ملحوظ رکھنا ہر شاعر کے لیے لازم ہو گیا۔
پروفیسر صفدر امام قادری نے اپنے صدارتی خطاب میں دوبئی اور شارجہ کے سامعین کو مبارک باد دی کہ اُنھوں نے اپنے دَور کے مقبولِ عام شعرا کو بھی مجبور کیا کہ وہ ادبی اعتبار سے گہرے اشعار سنائیں اور اِسی لیے علی زریون نے اپنے ایسے اشعار سنائے جنھیں وہ کسی دوسری تقریب میں شاید ہی پڑھتے ہوں۔ وِجے تیواری نے بھی اپنے مقبولِ عام چہرے کو پسِ پشت رکھتے ہوئے بہترین اشعار کو پیش کرکے اِس حلقۂ سامعین سے داد لینا زیادہ بہتر سمجھا۔ صدرِ مشاعرہ نے پاکستان سے تشریف فرما نوجوان شاعر سجّاد بلوچ کی تعریف کرتے ہوئے خاص طور سے یہ بات بھی کہی کہ اُنھوں نے اپنے اشعار سے مشاعرے کو وہ بلندی عطا کی جہاں سے کوئی پروگرام ناکام نہیں ہو سکتا ہے۔ اُنھوں نے ظفر کمالی کی رباعیات اور آخری شاعری داکٹر صباحت عاصم واسطی کے اشعار کے صوفیانہ آہنگ اور مشّاقی کی داد دیتے ہوئے اِس بات کا اعلان کیا کہ اِس مشاعرے کے سامعین خوش نصیب ہیں کہ اُنھوں نے اِن جیسے معتبر شعرا کو دیکھا اور اُن کی زبان سے اپنے عہد کا بہترین سرمایۂ ادب ملاحظہ کیا۔ صدارتی خطاب میں اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ خلیج کے ریگ زار میں اردو زبان کی جس مشقّت سے آبیاری ہو رہی ہے، اِسی نے ہندستان اور پاکستان کے بعد خلیج کے ملکوں کو اردو کا تیسرا گھر بنایا ہے۔ بزمِ صدف کی طرف سے اُنھوں نے تمام افراد کو ایک بہترین شام اور معیاری شاعری سے لطف اندوز ہونے کی سرشاری کے لیے مبارک باد دی اور اِس بات کا وعدہ کیا کہ متحدہ عرب امارات میں آیندہ بھی بزمِ صدف اپنے انعقادات کرتی رہے گی۔ مشاعرے کے اختتام کے موقعے سے بزمِ صدف انٹرنیشنل کے چیئر مین جناب شہاب الدین احمد اور متحدہ عرب امارات کی شاخ کے کنوینر امتیاز صدیقی نے شرکائے محفل کا تقریباً سات گھنٹوں تک مجتمع ہو کر شریکِ بزم ہونے کے لیے شکریہ ادا کیا۔