صفیہ گرلس ہائی اسکول کا سالانہ کھیل کود مقابلہ منعق

تاثیر،۲۳ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

 بہار شریف (دانش)  صفیہ گرلس ہائی اسکول کا سالانہ کھیل کود مقابلہ و تقسیم انعامات پروگرام  اسی کے وسیع وعریض احاطہ میں منعقد ہوا جس کی صدارت بہار کے معروف شاعر و ادیب بےنام گیلانی نے فرمائی اور نظامت کا فریضہ عفیفہ ناز گیلانی و امرینہ ہاشمی استانی اسکول مذکور نے بڑے ہی احسن طریقے سے انجام دیا۔ مہمان  خصوصی کے طور پر محمد خالد ،روح رواں کامرس پوائنٹ بہار شریف رونق افروز رہے۔مذکورہ پروگرام  کا اغاز  حمیہ طالبہ درجہ چھ کی تلاوت کلام پاک اور ترجمہء سورہ فاتحہ سے ہوا۔بعدہ تلاوت قرآن کے عزیزہ علین درجہ پنجم نے ایمان افروز  حدیث پاک پیش کیا اور پھر شکریہ ناز درجہ چھ نے نماز کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔اس کے بعد عورتوں کا مقام موضوع پر عتیقہ مزمل درجہ چہارم نے کچھ کہا۔اس موقع پر محمد خالد کامرس پوائنٹ نےحاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ صفیہ گرلس ہائی اسکول کا یہ پروگرام قابل تعریف و تحسین ہے ۔شاہ خورشید اکبر صاحب نے اس شکل میں مسلم معاشرے کے لئے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔اب اسکولوں کا المیہ یہ ہے کہ وہاں صرف اور صرف تعلیم دی جاتی ہے۔تربیت کا کوئی نظم نہیں ہوتا ہے۔لیکن ماشاءاللہ اس اسکول میں ڈائریکٹر کے علاؤہ جتنی بھی استانیاں ہیں انہوں نے تربیت کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔اج جو سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ والدین اپنی ذمہداری سمجھیں۔اللہ نے آپ کو اولاد کی شکل میں کتنا قیمتی تحفہ دیا ہے۔اگر آپ کے گھروں میں کچھ رقم رکھی ہو تو آپ اس کی حفاظت جی جان سے زیادہ کرتے ہیں۔ہمہ اوقات اس پر نظر رکھتے ہیں کہ کہیں کوئی چوری نہ کر لے۔اولاد جیسی دولت کی تو کوئی قیمت ہو ہی نہیں سکتی ہے۔چنانچہ اس پر بھی ہمہ اوقات نظر رکھنی چاہئے۔اسے عہد طفلی ہی سے سنجونے کی ضرورت ہے۔اس کی حفاظت کی ضرورت ہے۔اس وقت جو سب سے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ انہیں موبائل سے بہت دور رکھا جائے۔اس سے وقت بہت ضائع ہوتا ہے اور مختلف قسم کے خصوصاً ذہنی امراض پیدا ہوتے ہیں۔اس کی کثرت استعمال سے ذہن مائوف ہو جانے کا انیشہ غالب ہوتا ہے۔اس موقع پر صفیہ گرلس ہائی اسکول کے ڈائرکٹر جناب شاہ خورشید اکبر نے کہا کہ یہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ شہر میں ایک اچھے اسکول کی بنیاد ڈالوں ۔ایسے اسکول کی بنیاد ڈالوں جہاں جدید علوم کے باہمعلوم دینیہ بھی بھی بچوں کو حاصل ہو۔سب سے اہم یہ کہ آج دیگر اسکولوں میں بچوں کی اسلامی تہزیب و عقیدہ خطرے سے دوچار ہے۔کہیں حجاب پر پابندی عائد کی گئی ہے تو کہیں ایمان شکن پرارتھنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایسے ماحول و فضا میں تعلیم کے ساتھ ایمان و عقیدے اور تہزیب و تمدن کو بچانا ناگزیر ہو گیا ہے ۔سب سے آخر میں صاحب صدر جناب بےنام گیلانی نے کہا کہ اج حقیقی تعلیم کی ضرورت ہے۔بس وہی بچہ دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے جو مخلصانہ طر پر سپردگی کے جذبے کے ساتھ تعلیم حاصل کرے گا۔جو طلباء و طالبات علم سے وفا کریں گے علم ان سے وفا کرےگا جہاں تک آج کے پروگرام کا سوال ہے تو یہ نہایت ہی کامیاب نظر آتا ہے۔جس طرح انسان کے لئے حصول علم ضروری ہے اسی طرح کھیل بھی ضروری ہے ۔کھیل سے جسم توانا رہتا ہے اور ذہن بھی بھی مضبوط ہوتا ہے۔۔اسے سے قوت فہم میں اضافہ ہوتا ہے۔پھر اس اکیسویں صدی میں تو کھیل کود میں بھی بہترین کیریر کی گنجائش ہے۔
      اس کھیل کود اور تقسیم انعامات پروگرام میں بچوں کو کئی کھیل میں اپنی اپنی اہلیت کے بہترین مظاہرے کا موقع ملا ۔جیسے بیلون ریس،بیگ ریس،100میٹر ریس اور میتھ ریس جیسے کھیلوں کا انعقاد عمل میں آیا ۔مختلف کلاس کے مختلف زمرے میں بےنام گیلانی صاحب،محمد خالد،صاحب کامرس پوائنٹ ،ڈاکٹر اقبال صاحب،ڈاکٹر عمران صاحب ،عامر سہیل صاحب،ڈائرکٹر نالندہ بلڈ بینک،محمد، انضمام الحق صاحب،محمد مشیر عالم صاحب اور محمد انتخاب صاحب ،صدر یوتھ ویلفیر کمیٹی اینڈ ایجوکیشن کے ہاتھوں فاتحین کو انعام و اکرام سے نوازہ گیا ۔اس طرح کل 159شیلڈ اور میڈل طلبا و طالبات کے درمیان بطور انعامات دئے گئے۔
اس موقع پر طلباء و طالبات کے والدین و سرپرست حضرات کثیر تعداد میں موجود رہے۔ان کے علاؤہ بھی شہر کی کئی معزز شخصیات بھی موجود رہیں