تاثیر،۲۷ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ27 دسمبر : گورنمنٹ اردو لائبریری ، پٹنہ کے زیر اہتمام مرزا اسد اللہ خاں غالب کے یوم پیدائش کے موقع پر ایک سیمینار اور مشاعرہ بہ عنوان “غالب فکر و فن کے آئینے میں” کا انعقاد آج گورنمنٹ اردو لائبریری میں ارشد فیروز ، چیرمین کی صدارت میں ہوا۔ارشد فیروز نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ انسان کی زندگی میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو انسان اس سے متاثر ہوتا ہے ، غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے اور خوشی کی حالت میں مسرور ہوتا ہے ۔ کسی عجیب بات پر حیرت ہوتی ہے ، کسی نازیبا حرکت پر غصہ آتا ہے واقعات کا ہر شخص پر اثر ہوتا ہے ۔ جذبات ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے ہر شخص اس کا اظہار بھی کرتا ہے لیکن شاعر کااحساس عام انسان کے احساس سے الگ ہوتا ہے ۔ شاعر جو دیکھتا ہے سنتا ہے اس کا اثر عام لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوتا ہے ۔ وہ اپنا ہی نہیں دوسرے کے دکھ درد اور خوشی و جذبات محسوس کرتا ہے اس کی آنکھیں ہر چیز میں شچائی تلاش کرتی ہے اور اسے حسین اور موزوں لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ غالب نے خود اپنے کلام سے متعلق پیشن گوئی کی تھی کہ جیسے جیسے زمانہ گزرے گا ان کی قدر بڑھے گی۔ غالب صاحب اردو زبان کے ایسے شاعر ہیں انکی اپیل جیسے کل تھی وہ آج بھی ہے ۔ غالب اپنے ہم عصروں کے مقابلہ میں اپنی عظمت اور بلندی سے اچھی طرح واقف تھے ۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر علیم اللہ حالی، سابق صدر شعبہ اردو، مگدھ یونیورسیٹی نے کہا کہ غالب کے تخلیقی مزاج اور معیار تک رسائی کی بہت ساری کوششیں کی گئیں مگر سبھوں کو اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ کلام گالب کی مکمل رسائی ہنوز نہیں ہو پائی ہے ۔ غالب نے اپنا سفر فارسی شاعری سے کی اور اس زبان اور اسکی نزاکت کے معیار تک پہنچنا نہایت مشکل ہے۔ غالب بنیادی طور پر فکری و فلسفیانہ تصورات کے تخلیق کار ہیں۔ وہ کائنات کے مخفی حقائق کو طشت از بام کرنا چاہتے ہیں اور اس مہم تک بہت حد تک کامیاب بھی ہیں
مہمان خصوصی کی حیثیت سے اکبر رضا جمشید، سابق ڈسٹرکٹ جج نے غالب کے سلسلہ فرمایاکہ اردو لائبریری میں ۱۹۵۹ سے آرہا ہوں آج تک غالب پر کوئی سیمینا ر نہیں ہوا ۔ پہلی مرتبہ اس لائبریری میں غالب پر سیمینار کرکے اس کے چیرمین ارشد فیروز نے بڑا کام کیا ہے، پٹنہ کالج میں جب پڑھتا تھا ۔تب انگریزی کے ایک کلاس میں بھول کر انگریزی کی جگہ دیوان غالب لے گیا تھا تب انگریز ی کے پروفیسر نے مجھ سے کہا کہ آپ انگریزی کے وقفہ میں اردو کی کون سی کتاب لائے ہیں تو انہوں نے کہا کہ دیوان غالب ۔ انگریزی کے پروفیسر نے کہا کہ غالب کا نام تو سنا ہے مگر یہ بتائے کہ شیلی کے مقابلے میں کوئی شعر ہے تو انہوں نے ایک شعر پڑھ کر سنایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ میں شراب اس لئے پیتا ہوں کہ جب تک شراب کا سرور رہے میں دنیا کو بھول سکوں۔ الغرض اردو شاعری کسی اور زبان کی شاعری سے کافی اوپر کی چیز ہے ۔ جس میں اسرار و رموز کی ایسی ایسی باتیں ملتی ہیں جو دوسری زبان کے شاعر نہیں کہ سکتے۔

پٹنہ یونیورسیٹی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر سورج دیو سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ اردو کو یہ فخر حاصل ہے کہ غالب اردو ادب میں پیدا ہوا ۔ انہوں نے اپنے زمانہ میں ہونے تغیرات پر زبردست روشنی ڈالی ۔ غالب کے اشعار کی معنویت سے آج بھی لوگ نابلد ہیں ۔ غالب کی شاعری کی اہمیت ان کے منفرد اسلوب اور اظہار کی گہرائی میں ہے۔ وہ اپنی زبان کے استعمال کے لیے جانا جاتا تھا، جو کہ سادہ اور گہرا تھا، اور ان کی نظمیں اکثر محبت، روحانیت، اور سماجی اور سیاسی مسائل جیسے موضوعات پر چھوتی تھیں۔
ویشالی مہیلا کالج ،حاجی پور کی اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں نے غالب کی شخصی انفرادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غالب کی شخصیت بیک وقت جامع الصفات تھی ۔ وہ شاعر اور فلسفی تو تھے ہی ساتھ ہی انہوں نے روز مرہ کے معمولات کو ہموار زمین پر گامزن رکھنے کیلئے حق پسندی و راست گوئی ، داد و تحسین و خودداری ، فراخ دلی ، وسعت خیال ، عہد و پیماں اور خور د و نوش کے طور طریقے بھی انہیں اپنے ہم
عصروں میں ممیز و ممتاز کرتا ہے ۔
دوردرشن سے منسلک شرف الہدیٰ نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے غالب شناسی پر بہت ہی پرمغز باتیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ غالب کا انگریزی مطلب dominant ہوتا ہے اور اسعد کو شیر کہا جاتا ہے ۔ دونوں تخلص طاقت اور بالاستی کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔ ورثے میں غالب تو یوں گراں بار افکار علمی و شعری سرمایہ چھوڑ گئے ہیں۔
۔ اس کے بعد ایک مشاعرہ بھی منعقد ہوا ۔ جس میں ڈاکٹر نعیم صبا، نذر فاطمی، ریکھا بھارتی مشرا، ڈاکٹر نصر عالم نصر، نلانشو رنجن، عرفان بلہاروی ، زینت شیخ اور نسیم اختر اپنا اپنا کلام پیش کیا ۔ پرویز عالم نے منفرد انداز میں نظامت کی ۔ اس موقع پر چیرمین ارشد فیروز غالب کی ایک غزل ترنم کے ساتھ سنائے ۔ اس موقع پر گورنمنٹ اردو لائبریری کے مجلس عاملہ کے ممبران ڈاکٹر انوارالہدیٰ، محمد نسیم احمد کے علاوہ محمد مظاہر الحق، ضیا ء الحسن ، نواب عتیق الزماں ، روی آنند، انواراللہ ، عرفان صفدری، سبیر احمد، محمد اظہر الحق اور محمد شاہد الحق نے شرکت کی ۔

