معقول وقت کا انتظار ضروری ہے

تاثیر،۳۰ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

   جے ڈی یو کے قومی صدرللن سنگھ نے29 دسمبر کو پارٹی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ میںجے ڈی یو کے قومی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ان کے استعفیٰ کے بعد نتیش کمار جے ڈی یو کے نئے قومی صدر بن گئے ہیں۔ کئی دنوں سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ للن سنگھ جے ڈی یو کے قومی صدر کا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں،لیکن جے ڈی یو لیڈروں کی طرف سے اس خبر کو بے بنیاد بتایا جا رہا تھا۔ پارٹی کے کچھ لوگ یہ مان رہے ہیں کہ نتیش کمار کے جے ڈی یو صدر بننے کے بعد کارکنوں میں کافی جوش ہے۔ نتیش کمار جے ڈی یو کے عالمی سطح پر مانے جانے والے لیڈر ہیں اور اب قومی صدر بننے کے بعد پارٹی کے تمام فیصلے نتیش کمار ہی لیں گے۔
پچھلے کئی دنوں سےقیاس کیا جا رہا تھا کہ للن سنگھ جمعہ کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں جے ڈی یو کی نیشنل ایگزیکٹو اور نیشنل کونسل کی میٹنگ میں ہی پارٹی کے قومی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کریں گے۔ تاہم جے ڈی یو کے تمام بڑے لیڈر اس بحث کو غلط قرار دیتے رہے۔ جمعرات کو دہلی میں جے ڈی یو لیڈروں کی ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی۔ للن سنگھ اس میٹنگ میں شامل ہونے سے عین قبل وزیراعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے تھے۔ دونوں رہنما ایک ہی کار میں ایک ساتھ دہلی میں جے ڈی یو کے دفتر پہنچے۔ جمعہ کو بھی للن سنگھ میٹنگ میں شرکت سے پہلے نتیش کمار سے ملنے آئے تھے۔ بہار کے سیاسی گلیاروں میں للن سنگھ کے استعفیٰ کی بحث گزشتہ کچھ دنوں سے زور و شور سے جاری تھی۔ بہار حکومت کے وزیر خزانہ وجے چودھری نے اس بڑے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کئی سوالوں کا جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نتیش کمار پارٹی کے عالمی سطح کے لیڈر ہیں۔ان کا فیصلہ ہمیشہ پارٹی کے حق میں ہوتا ہے۔ خود للن سنگھ کو پارلیمانی الکشن لڑنا ہے۔انھیں اپنے علاقے میں کام کرنا ہے۔اس لیے انہوں نے خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو جے ڈی یو صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی۔ جسے نتیش کمار نے قبول کر لیا ہے۔ للن سنگھ نے بھی پارٹی کےقومی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی یہی وجہ بتائی ہے۔ بہار جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش کشواہا کا بھی یہی کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے پارٹی کی قومی ایگزیکٹو کے تمام اراکین نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے درخواست کی تھی کہ وہ خود پارٹی کی ذمہ داری سنبھالیں۔ ایگزیکٹو ممبران کے مطالبے پر نتیش کمار نے جے ڈی یو کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔
اس بڑے سیاسی اپ ڈیٹ کے بعد بہار کی سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔ للن سنگھ کے استعفیٰ کے بعد بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے اپنا غیر ملکی دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ تیجسوی یادو 6 جنوری کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے پر جانے والے تھے۔  تیجسوی نے عدالت سے بھی اس کے لئے اجازت لے لی تھی۔ ایسے میں تیجسوی کے دورے کی منسوخی پر بھی کئی طرح کی بحثیں شروع ہو گئی ہیں۔ تاہم ایک بات یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ تیجسوی یادو کو زمین کے بدلے میں نوکری دینے کے معاملے میں ای ڈی کی طرف سے سمن  ملا ہے۔ ای ڈی نے تیجسوی یادو کو 5 جنوری کو دہلی ہیڈکوارٹر میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا ہے۔ تیجسوی یادو ای ڈی کے پچھلے سمن پر دہلی نہیں گئے تھے۔ دراصل، پچھلی بار تیجسوی یادو کو 21 دسمبر کو ای ڈی کے دفتر میں حاضر ہونا پڑا تھا۔ ایسے میں یہ قیاس بھی لگایا جا رہا ہے کہ تیجسوی یادو اس بار ای ڈی انکوائری میں شامل ہونے کے لیے دہلی جا سکتے ہیں۔
للن سنگھ کے استعفیٰ کے بعد سیاسی بیان بازی کا مرحلہ شروع ہو نا فطری ہے۔ یوپی جے ڈی یو کے صدر ستیندر پٹیل نےاشاروں  اشاروں میں ہی للن سنگھ کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ ستیندر پٹیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پارٹی میں نئی توانائی آگئی ہے۔حالانکہ یہ طے ہے کہ للن سنگھ کا استعفیٰ فوری طور پر نہیں ہوا ہے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس کا اسکرپٹ بہت پہلے لکھا جا چکا تھا۔ یہ بات پہلے سے ہی زیر بحث تھی کہ للن سنگھ قومی صدر کے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے اور ان کی جگہ کوئی اور عہدہ سنبھالے گا۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ پارٹی کے بہت سے لیڈر للن سنگھ سے خوش نہیںتھے۔ معاملہ نتیش کمار تک پہنچا۔ نتیش کمار تمام ایم ایل ایز، ایم ایل سیز، ایم پیز، سابق ایم ایل ایز، سابق ایم ایل سیز کے ساتھ میٹنگ کرتے رہے اور پارٹی کے اندرونی حالات کا جائزہ  لیتے رہے۔چنانچہ بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔نتیش کمار اپنی پرانی غلطی کو نہیں دہرانا چاہتے تھے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلےدنوں سے للن سنگھ کی لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سے قربتیں بڑھ گئی تھیں اور پارٹی لیڈروں کے ساتھ ان کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ نتیش کمار کے بہت قریب رہنے والے کئی لیڈروں نے للن سنگھ پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی میٹنگ میں للن سنگھ کانگریس کی ہر بات سے اتفاق کر رہے تھے، جو نتیش کمار کو پسند نہیں تھا۔ اس وقت بھی نتیش کمار کی ناراضگی نظر آ رہی تھی۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا ہے۔ یہ تمام باتیں سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔اس فیصلے کا اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی صحت پر کیا اثر پڑے گا ، یہ جاننے کے لئے معقول وقت کا انتظار ضروری ہے۔
************************