تاثیر،۱۷ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نتیش کمار کی قیادت میں ہم لوگ قلم اور علم بانٹ رہے مگر دنگائی لوگ مذہب کے نام پر نفرت و تشدد پیدا کر رہے ہیں
پٹنہ17دسمبر(پریس ریلیز):جنتادل یو کے سینئرلیڈر اور رکن بہار قانون ساز کونسل پروفیسر غلام غوث نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف ایک بار پھر زوردار حملہ کرتے ہوئے اس پر ملک میں ذات و مذہب اور مندر مسجد کے نام پر نفرت و تشدد کا خوفناک ماحول پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ صرف نفرت کا بازار گرم کیا جا رہا ہے اور سماج کو مذہب کی بنیاد پر توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے جیسا عمل انگریز حکمرانوں نے انجام دیا تھا۔ انگریزوں کی بھی یہی پالیسی تھی کہ تقسیم کرو اور راج کرو۔ پروفیسر غوث نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جو کبھی بھی تلوار سے نہیں چل سکتا اور نہ کبھی چلا ہے بلکہ جمہوریت اور آئین سے ہی ملک کا نظام چلے گا۔ جمہوریت و آئین کے تحفظ کے لیے ملک کے عوام کی اکثریت کمربستہ ہے اور پُرعزم بھی ہے جسے مٹھی بھر فرقہ پرست قوتیں کبھی شکست نہیں دے سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں پورے بہار میں امن و بھائی چارہ کا خوشگوار ماحول قائم کیا گیا ہے اور لوگوں میں محبت عام کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سب کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کئے جا رہے ہیں۔ مذہب اور ذات یا مندر مسجد کے نام پر ترقی میں کسی طرح کی تفریق نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی سماج کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ نتیش کمار نے خواتین کو ہر شعبہ میں آگے بڑھایا ہے جس کے نتیجے میں اب ریاست میں خواتین خودکفیل ہو رہی ہیں اور تعلیم یافتہ بھی بن رہی ہیں۔ خواتین کو مختلف شعبوں میں ریزرویشن دے کر ان کی ترقی کو یقینی بنایا گیاہے اور اس معاملے میں بہار پورے ملک میں نظیر بن گیا ہے جس کی تقلید ملک کی دیگر ریاستوں میں کی جا رہی ہے اور مرکزی حکومت بھی بہار کے کئی منصوبوں کو ملک گیر پیمانے پر نافذ کرنے پر مجبور ہے۔ یہی نتیش حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کی قیادت میں ہم لوگ قلم بانٹ رہے ہیں اور تعلیم کو عام کر رہے ہیں۔ سبھی طبقہ کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب مٹھی بھر دنگائی لوگ مندر مسجد اور ذات و مذہب کے نام پر سماج میں نفرت اورتشدد کا خطرناک ماحول پیدا کر رہے ہیں جسے ناکام بنانا اور منھ توڑ جواب دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروفیسر غوث سنیچر کی شام گیا ضلع کے بودھ گیا اسمبلی حلقہ میں اپنی پارٹی جنتادل یونائٹڈ انتہائی پسماندہ سیل کی جانب سے منعقد کرپوری چرچا پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم اتحاد ہندوستان کی شاندار تاریخ اور روایت رہی ہے جسے کبھی مٹنے نہیں دیا جائے گا بلکہ اسے برقرار رکھنے کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کی جائے گی۔ ہندوستان میں پہلی مسجد ہندو راجہ چرومل نے کیرل کے مالابار ضلع میں تعمیر کرائی تھی۔ امرناتھ گپھا میں ہندو عقیدت مندوں کا جو اجتماع ہوتا ہے اس میں مسلم راجہ نے اہم کردار ادا کیا تھا اور آج بھی وہاں چھری مبارک نکالی جاتی ہے جس میں ہندو مسلم اتحاد کا بے مثل مظاہرہ ہوتاہے۔ اس کے علاوہ امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کا سنگ بنیاد ایک مسلم نے رکھا تھا۔ یہ سب ہماری تاریخ رہی ہے اور ہندو۔مسلم اتحاد کی شاندار روایت بھی رہی ہے جسے موجودہ بی جے پی حکومت مٹانے کی سازش کر رہی ہے اور بار بار یہ نعرہ بلند کر رہی ہے کہ ملک کی تاریخ بدل دیں گے۔لیکن ہم سبھی سیکولر عوام اور پارٹیوں نے یہ پختہ عزم کر رکھا ہے کہ 2024میں ہم لوگ ہی اپنی چٹانی قوت کا مظاہرہ کرکے فرقہ پرست قوتوں کو مرکز کے اقتدار سے ہٹا دیں گے اورملک کی تاریخ بدلنے سے پہلے ملک کی حکومت کو ہی بدل ڈالیں گے۔ پروفیسر غوث نے کہا کہ ملک انتہائی خطرناک دور سے گذر رہا ہے جس میں ہم سبھی امن پسند شہریوں کو آپس میں متحد و منظم رہنے کی ضرورت ہے۔ کرپوری چرچا پروگرام میں مرد سے زیادہ خواتین شریک ہوئی ہیں یہ دیکھ کر انہیں بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے اور فخر بھی ہوتا ہے کہ جب خواتین اپنے پختہ عزم کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑی ہیں تو ملک میں بڑا انقلاب برپا ہوکر رہے گا اور خواتین کی قوت کے سامنے دوسری کوئی طاقت ٹھہر نہیں سکتی۔ بہار کی بھی تاریخ رہی ہے کہ جب بھی یہاں سے کوئی تحریک چلی ہے تو اس کا اثر پورے ملک پر ہوا ہے اور ملک کا اقتدار تبدیل ہو ا ہے۔ اس لئے چند دنوں بعد ہی لوک سبھا الیکشن آنے والا ہے جس میں فرقہ پرست قوتیں چولیں بدل بدل کر آپ کے پاس آئیں گی اور مندر- مسجد یا ذات و مذہب کے نام پر آپ کو ورغلانے کی کوشش کریں گی۔ اس لئے آپ کو بہت ہوشیار رہنا ہوگا اور ایسی قوت کو منھ توڑ جواب اپنے ووٹ کے ذریعہ دینا ہوگا تاکہ جمہوریت، آئین اور پورا ملک محفوظ رہ سکے۔ اس موقع پر جے ڈی یو کے سینئر لیڈر اور جہان آباد کے رکن پارلیمنٹ چندیشور پرساد چندرونشی نے کہا کہ کرپوری چرچا پروگرام کے انعقاد سے انتہائی پسماندہ ذاتوں میں زبردست بیداری پیدا ہوئی ہے اور اب وہ اپنے آئینی و جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں اور نتیش کمار کے ذریعہ انہیں جو حقوق حاصل ہوئے ہیں اسے چھیننے اور ختم کرنے کی جو سازشیں ہو رہی ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار بیٹھے ہیں۔ اس موقع پر جے ڈی یو رہنما ودیانندویکل، پرمیلا کماری پرجاپتی اور دیگر سینئر لیڈران نے بھی کرپوری چرچا پروگرام سے خطاب کیا اور آنجہانی کرپوری ٹھاکر کو خراج عقیدت پیش کیا۔

