تاثیر،۳۱ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی ،31دسمبر:جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں بھارتی ٹیم کی شکست کے بعد سابق بلے باز سبرامنیم بدری ناتھ نے روہت شرما کی کپتانی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ روہت شرما کے بجائے وراٹ کوہلی کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان ہونا چاہیے۔ سبرامنیم بدری ناتھ کے مطابق وراٹ کوہلی بڑے بلے باز ہیں اور ٹیسٹ میچوں میں ان کا ریکارڈ بھی بہت اچھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہت نے خود کو ہندوستان سے باہر اوپننگ بلے باز کے طور پر ثابت نہیں کیا ہے۔
روہت شرما کی کپتانی میں ٹیم انڈیا کو ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس کے علاوہ ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ بھی ہار چکی ہے۔ اس عرصے کے دوران روہت شرما کی بلے سے کارکردگی اتنی اچھی نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ سبرامنیم بدری ناتھ نے ان پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سبرامنیم بدری ناتھ کے مطابق وراٹ کوہلی کا بطور کپتان ریکارڈ بہتر رہا ہے وہیں روہت شرما خود کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کے طور پر وراٹ کوہلی کا ریکارڈ کافی اچھا ہے۔ بطور کپتان انہوں نے 52 کی اوسط سے 5000 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ ان کی کپتانی میں ٹیم انڈیا نے 68 میں سے 40 ٹیسٹ میچ جیتے اور 17 میں شکست کھائی۔ انہوں نے ٹیم کو آسٹریلیا سیریز میں شاندار فتح دلائی۔ رکی پونٹنگ، گریم اسمتھ اور اسٹیو وا کے بعد وراٹ نے بطور کپتان سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتے ہیں۔ تو وراٹ کوہلی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کیوں نہیں ہیں۔ وہ زیادہ بہتر ٹیسٹ بلے باز ہیں۔ روہت شرما اور وراٹ کوہلی کے درمیان کوئی موازنہ نہیں ہے۔ وراٹ ٹیسٹ کرکٹ میں بڑے کھلاڑی ہیں۔ اس نے ہر جگہ رنز بنائے ہیں۔ پھر ان کے بجائے ایک کمزور کھلاڑی ٹیم کی قیادت کیوں کر رہا ہے؟

