اردو زبان نے ملک کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے : فخرالدین عارفی

تاثیر،۲ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

اردو کے اساتذہ زبان کے فروغ کے لیے آگے آکر اپنا تعاون پیش کریں : واصل علی چودھری 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پٹنہ ( پریس ریلیز ) یکم جنوری کو پٹنہ میں بہار اردو اکادمی کے سمینار ہال میں راشٹریہ اردو ٹیچرس کے بہار یونٹ کی جانب سے ایک کل ہند سطح کا سمینار اور مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں ملک بھر کے  اساتذہ نے شرکت کی ، اس تقریب میں ایسوسی ایشن کے قومی صدر واصل علی چودھری بھی مہمان خاص کی حیثیت سے شریک ہوئے ، دیگر ریاستوں کے کلدی عہدہ داران نے بھی اپنی اپنی ریاستوں کی نمائیندی کی ۔ جلسے میں ملک بھر کے 22 اردو اساتذہ کو قومی ٹیچرس ایوارڈ سے نوازا گیا جن میں زیادہ تعداد بہار کے اساتذہ کی تھی جن میں درجن بھر  خواتین ٹیچرس کو  بھی  ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔ اس کل ہند سمینار و مشاعرے کی صدارت اردو کے مشہور افسانہ نگار و ناقد  جناب فخرالدین عارفی نے کی ، جو خود بھی ایک طویل عرصے تک شعبہء تعلیم سے وابستہ رہے ہیں ۔ جلسے کی نظامت ڈاکٹر شکیل انور ( چھپرا ) نے کی اور فلمی دنیا کے مشہور نغمہ نگار  ڈاکٹر معظم عزم نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ اس کے بعد بیت اللہ انصاری کے مضامین کا مجموعہ “ادب کے پھول ” کا اجرا صدر جلسہ فخرالدین عارفی ، واصل علی چودھری اور ڈاکٹر معظم عزم مہمان خصوصی کے دست مبارک سے انجام پذیر ہوا ۔ اس موقعے پر کتاب پر کلیدی خطبہ صدر جلسہ فخرالدین عارفی نے پیش کیا اور کتاب کی اہمیت و افادیت نیز اہمیت پر نصف گھنٹہ تک اظہار خیال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بہار آج بھی اردو زبان کا ایک اہم مرکز ہے ۔ اردو تحریک بھی آج بہار میں کافی فعال اور متحرک ہے اور لوگ خاموشی کے ساتھ اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ ہاں کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جو  ڈھول کی طرح بج رہے ہیں ، ہنگامہ کررہے ہیں لیکن مثل ڈھول کے وہ بھی اندر سے بالکل خالی ہیں ۔ فخرالدین عارفی نے مزید کہا کہ اردو ایک خوب صورت زبان ہے اور ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی ایک خوب صورت علامت بھی ہے ، اس زبان نے تحریک آزادی میں تحریک کاروں کو بڑا حوصلہ دینے کا کام کیا ہے ۔ اس زبان نے ہی آزادی کے متوالوں کو “انقلاب زندہ باد ” کا نعرہ دیا ہے ۔ جناب واصل علی چودھری راشٹریہ صدر نے کہا کہ بہار میں اردو اساتذہ بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں اور یہ اپنی تنظیم کو مضبوط کرکے اردو زبان کے فروغ و ارتقا کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں ۔ جن اساتذہ کو قومی ٹیچرس ایوارڈ سے نوازا گیا ان کی خدمت میں سند   توصیف ، شال ، میمنٹو اور دیگر تحائف پیش کیے گےء ۔ پروگرام 11 بجے صبح سے شام 5 بجے  تک چلا ۔ پہلے اجلاس کے بعد لنچ کا وقفہ نصف گھنٹہ کا دیا گیا   ۔ پھر لنچ کے وقفہ کے بعد ایوارڈ کی تقسیم اور مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا ۔ دونوں اجلاس کی صدارت  ( فخرالدین عارفی ) نے کی ۔ اس موقعے پر بہار اردو اکادمی کے سمینار ہال میں کثیر تعداد میں اہل علم اور اردو دوست و ادب نوازحضرات موجود تھے ۔ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے فلمی دنیا کے مشہور نغمہ نگار اور معتبر شاعر پروفیسر معظم عزم نے شرکت کی  ۔ اس موقعے پر آخر میں ایک مشاعرہ کی محفل بھی آراستہ کی گئی  ، جس کی نظامت ڈاکٹر شکیل انور نے کی ، مشاعرے میں ڈاکٹر معظم عزم ، بیت الله انصاری ، ڈاکٹر شکیل انور ، اثر فریدی ، شمع ناسمین نازاں ، طلعت پروین ،وارث اسلام پوری ، جبیں شمس نظامی ، سہیل فاروقی ، نجم اللہ نجم ، زین العابدین ، شمیم پرویز اور  معین گریڈہوی وغیرہ نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا ۔
شام پانچ بجے یہ جلسہ جناب بیت الله انصاری کے شکریہ پر اختتام پذیر ہوا ۔
جاری کردہ :
بیت الله انصاری
ریاستی صدر ، کل ہند اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن ، چھپرا ( بہار )