تاثیر،۷ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں ، ویسے ویسے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’’انڈیا‘‘ کے درمیان سیٹوں کے قابل قبول تال میل کا معاملہ الجھتا جا رہا ہے۔ملک کی جس ریاست میں سیٹوں کی تقسیم نسبتاََ زیادہ مشکل معلوم ہوتی ہے وہ مغربی بنگال ہے۔اس بات کا خلاصہ حال ہی میں مغربی بنگال کے مرشد آباد میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کے ایک بیان سے ہوا ہے۔ ان سے صحافیوں نے پوچھا کہ ممتا بنرجی ریاست میں کانگریس کو صرف دو سیٹیں دینا چاہتی ہیں، اس پر آپ کا کیا کہنا ہے ؟ تو ادھیر رنجن چودھری آپے سے باہر ہو گئے۔انھوں نے غصے میں کہا ، ’’یہ دونوں سیٹیں ہمارے پاس ہیں۔ ہمیں ان کے رحم کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اپنے طور پر لڑ سکتے ہیں۔ وہ اتحاد نہیں چاہتی کیونکہ اگر اتحاد نہیں ہوتا ہے تو پی ایم مودی سب سے زیادہ خوش ہوں گے۔ ممتا بنرجی ان دنوں پی ایم مودی کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں……..۔‘‘
یہ بات صحیح ہے کہ ممتا بنرجی لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کو صرف دو سیٹیں دینا چاہتی ہیں۔اس کی وجہ ریاست کے پچھلے انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ریاست کی 42 سیٹوں میں سے ٹی ایم سی کو 22، بی جے پی کو 18 اور کانگریس کو دو سیٹیں ملی تھیں۔ جبکہ بائیں بازو کی جماعتیں ریاست میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 42 میں سے تقریباً 40 سیٹوں پر بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان سیدھا مقابلہ تھا۔ ان انتخابات میں کانگریس نے صرف بہرام پور اور مالدہ جنوبی کی سیٹیں جیتی تھیں۔ وہیں ریاست کی 34 سیٹوں پر کانگریس امیدواروں کو دس فیصد سے بھی کم ووٹ ملے۔ ان میں سے زیادہ تر سیٹوں پر کانگریس کو صرف 2 فیصد ووٹ ملے تھے۔ریاست کی مالدہ شمالی سیٹ پر کانگریس کو 22.52 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس سیٹ پر ٹی ایم سی دوسرے نمبر پر تھی۔ اس وقت یہ سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں گئی تھی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ممتا بنرجی کی پارٹی یہ سیٹ کانگریس کے لیے چھوڑیں گی؟ جنگی پور لوک سبھا سیٹ پر کانگریس 19.61 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی، لیکن یہ سیٹ ٹی ایم سی کے کھاتے میں گئی، جب کہ بی جے پی دوسرے نمبر پر رہی۔ ایسے میں ممتا کی جیتی ہوئی سیٹ کو چھوڑنے کا امکان کم ہی لگتا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس صرف ایک اور سیٹ پر اپنی عزت جیتنے میں کامیاب رہی۔ یہ مرشد آباد لوک سبھا سیٹ تھی، جہاں کانگریس امیدوار کو 25 فیصد ووٹ ملے۔ تاہم یہ سیٹ بھی ٹی ایم سی کے کھاتے میں گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ممتا بنرجی یہ سیٹ آسانی سے نہیں چھوڑنے والی ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا بھی یہی حال تھا۔ پانچ سیٹوں پر سی پی ایم کے امیدواروں کو دس فیصد یا اس سے زیادہ ووٹ ملے، لیکن ان 4 سیٹوں میں سے، جادو پور، کولکتہ ساؤتھ، شری رام پور، اور برٹان ایسٹ، ٹی ایم سی نے جیت حاصل کی۔ جبکہ موجودہ درگاپور سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں گئی۔
ادھیر رنجن چودھری مغربی بنگال کے بہرام پور سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور وہ اس وقت لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر اور ممتا بنرجی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بھی دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔یہ کشیدگی اس دور کی ہے جب ممتا بنرجی کانگریس میں تھیں۔ ممتا بنرجی نے 1998 میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اپنی پارٹی ’’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘‘ (ٹی ایم سی) بنالی تھی۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے ایک قومی پارٹی ہونے کے ناطے، کانگریس اب بھی اپنی آواز کو سب سے اونچا رکھنا چاہتی ہے، جب کہ موجودہ دور میںبھارت کی حقیقت بدل چکی ہے۔ اب کانگریس اتنی مضبوط نہیں رہ گئی ہے۔ایسے میں اگر بی جے پی کانگریس کی سیاسی دشمن ہے اور اسے شکست دینا چاہتی ہے، تو کانگریس کو ان علاقوں میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جہاں علاقائی پارٹیاں مضبوط ہیں۔ ممتا بنرجی اکیلے بنگال کو سنبھال سکتی ہیں۔ یہاں کانگریس کو دو قدم پیچھے ہٹ کر مورچہ سنبھالنا چاہئے۔ مغربی بنگال، اڈیشہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو اور کیرالہ جیسی ریاستوں کی220سیٹوں میں سے بی جے پی کو صرف 50سیٹیں ملتی ہیں۔ کیونکہ ان میں سے اکثر جگہوں پر علاقائی پارٹیاں بہت طاقتور ہیں۔حالانکہ بی جے پی ان ریاستوں میں اپنی طاقت بڑھانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔
ایسا مانا جاتا ہے کہ ٹی ایم سی اور کانگریس کے سرکردہ لیڈر دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد چاہتے ہیں، لیکن ادھیر رنجن چودھری ایسا نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں۔ وہ 7 سیٹوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔جب کہ ریاست میں کانگریس کے باقی لیڈر وں کو اپنی طاقت کا اندازہ ہے، اسی لیے وہ ہر حال میں اتحاد کے حق میں ہیں۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہے کہ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے پاس مسلمانوں کا بڑا ووٹ بینک ہے، جو تقریباً 27 فیصد ہے، لیکن اس اصلیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چند انتخابات میں مسلم ووٹوں میں بڑے پیمانے پر تقسیم بھی ہوئی ہے۔ اس تقسیم کو روکنے کے لئے ہی ممتا بنرجی ٹی ایم سی اور کانگریس کے درمیان اتحاد چاہتی ہیں۔ اگر مرشد آباد علاقہ میں ادھیر رنجن چودھری کا اثر ہے تو کانگریس کے پرانے بزرگ لیڈر مرحوم اے بی اے غنی خان چودھری کی وجہ سے مالدہ علاقہ میں کانگریس کا اثر اب بھی بر قرار ہے۔ اے بی اے غنی خان چودھری کی وفات کے بعد علاقے میں کانگریس کا اثر آہستہ آہستہ کم ضرور ہوا ہے۔ مالدہ شمالی لوک سبھا سیٹ سے کانگریس کی رکن اسمبلی موسم بے نظیر نور کے سال 2019 میں ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کے بعد مالدہ میں کانگریس کی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔ ان تمامتر کمزوریوں کے باوجود کانگریس کو مرشد آباد اور مالدہ میں مسلم ووٹ مل سکتے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ٹی ایم سی اور کانگریس کے درمیان اتحاد نہیں ہوتا ہے تو کانگریس کے جتنے بھی ووٹ ضائع ہوں گے، اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔
**************

