’جذباتی ایشوز پر سیاست کرنا غلط ‘

تاثیر،۱۰ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

اتر پردیش کےایودھیا میں رام مندر کے ’’پران پرتشتھا پروگرام‘‘ میں کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈروں کی شرکت سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کا دور ختم ہوگیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس پورے پروگرام کو آر ایس ایس اور بی جے پی کا ’’پولیٹکل ایونٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس پروگرام میں نہ تو سونیا گاندھی اور نہ ہی کانگریس صدر ملکارجن کھرگے شرکت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن بھی شرکت نہیں کریں گے۔ ان لیڈروں نے رام مندر ’’پران پرتشٹھا ‘‘ سے متعلق دعوت کو ٹھکرا دیا ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’گزشتہ ماہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔بھگوان رام کی پوجا کروڑوں بھارتی کرتے ہیں۔ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ رہا ہے، لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس نے ایودھیا میں رام مندر کو ایک سیاسی پروجیکٹ بنا دیا ہے۔یہ واضح ہے کہ نصف تعمیر شدہ مندر کا افتتاح صرف انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ 2019 کے معزز سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اور لوگوں کے عقیدے کا احترام کرتے ہوئے، شری ملیکارجن کھرگے، سونیا گاندھی، ادھیر رنجن چودھری نے احترام کے ساتھ اس تقریب کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔‘‘
در اصل 22 جنوری کو منعقد ہونے والی ’’مندر پران مرتشٹھا تقریب‘‘ میں شرکت کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ سمیت 6 ہزار سے زیادہ لوگوں کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔سونیا گاندھی، ملیکارجن کھرگے اور ادھیر رنجن چودھری کے علاوہ ، سننے میں آ رہا ہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی نے منگل (9 جنوری) کو الزام لگایا کہ بی جے پی لوک سبھا انتخابات سے قبل ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح کرکے ڈرامہ کر رہی ہے۔ میں لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں یقین نہیں رکھتی ہوں۔ سی پی آئی (ایس) لیڈر سیتارام یچوری نے بھی دعوت نامے کو ٹھکرا دیا ہے۔
اِدھر ایودھیا کے رام مندر میں 22 جنوری کو ہونے وا لی ’’پران پرتشٹھا تقریب‘‘ کی تیاریاں زور و شور سے کی جا رہی ہیں۔ اس پروگرام کو عوام کی نفسیات سے جوڑنے کے لئے پورے ملک میں گھر گھر پیلے رنگ میں رنگے چاول تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ملک کی معروف شخصیات کو مدعو کیا جا رہا ہے ۔ اس تقریب میں ملک اور دنیا بھر سے بڑی تعداد میں خصوصی مہمانوں کو بلایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے ’’ایودھیا درشن پلان‘‘ تیار کیا ہے تاکہ عام لوگ بھگوان رام کی مورتی کادرشن کر سکیں۔ اس پلان کے تحت ملک بھر سے کروڑوں عقیدت مندوں کو ایودھیا پہونچنےنے کی اجازت ہوگی۔ اس سلسلے میں بی جے پی نے ’’ایودھیا درشن کمیٹی‘‘ بھی تشکیل دی ہے۔ اس کے لئے پچھلے دنوں بی جے پی کی ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل سنتوش سمیت 95 ارکان موجود تھے۔ اس دوران، یوپی قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) مانویندر سنگھ کمیٹی کی صدارت میں’’ ایودھیا درشن کمیٹی‘‘ بنائی گئی ہے، جو رام مندر کے درشن کے لیے عقیدت مندوں کے لیے مکمل انتظامات کرے گی۔ اس دوران یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں رام بھکت ٹرین، بس اور دیگر ذرائع سے ایودھیا پہنچیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباََ 20 ہزار عقیدت مند ٹرین سے ایودھیا پہونچیں گے۔ اس کے علاوہ 10 ہزار عقیدت مند بس کے ذریعے اور 5 ہزار دیگر ذرائع سے ایودھیا پہنچیں گے۔ ایودھیا پہونچنے والوں کے لیے ٹرینوں اور بسوں کا خصوصی انتظام کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی عقیدت مندوں کو ایودھیا کے درشن کے لیے مفت بس سفر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ ان بسوں اور ٹرینوں میں رام دُھن بجانے کا بھی خصوصی انتظام کیا جائے گا تاکہ لوگ سفر کے دوران رام بھکتی کا بھرپور لطف اٹھا سکیں۔اس طرح ’’ پران پرتشٹھا تقریب‘‘ میں شرکت کے لئے ایودھیا پہونچنے والے عقیدت مندوں کی رہائش کے لیے تقریباً 75 ایکڑ اراضی پر ٹینٹ سٹی بنانے کاکام چل رہا ہے۔ کمیٹی ہر چھوٹی بڑی سہولت کا خاص خیال رکھے گی تاکہ عقیدت مندوں کو درشن کے دوران کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دریں اثنا دعوت نامے کے حوالے سے راجستھان کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے مضبوط رہنما سچن پائلٹ کا کہنا ہے کہ مذہب اور عقیدہ ذاتی فیصلے ہیں، لیکن بی جے پی سیاست کرتی ہے۔ مجھے اپنا عقیدہ ظاہر کرنے اور مندر جانے کے لیے کسی کے بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب بھی مجھے اچھا لگے گا میں جاؤں گا ۔ اس پر سیاست کرنا غلط ہے۔ اگر سیاست کرنی ہے تو مدعے پر کرو، سرمایہ کاری پر کرو، غربت پر کرو، مہنگائی کو کم کرنے پر کرو۔ آج عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت آدھی ہوگئی ہے، لیکن بھارتی حکومت قیمت کم نہیں کر رہی ہے۔ آپ ملک کے 80 کروڑ لوگوں کو سستا کھانا فراہم کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم بہت زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔اگر بی جے پی کچھ کام کرتی ہے، تو اسے وہ شراکت اورشرمدان کہتی ہے۔ جب دوسری پارٹیاں کرتی ہیں، تو اسے وہ ریوڑی بانٹنا کہتی ہے۔مدعے پر بحث ہونی چاہئے، مدعے پر الیکشن ہونا چاہیے۔ اس کے لئے ہم تیار ہیں۔ لیکن جذباتی ایشوز پر سیاست کر کے ووٹ اکٹھا کرنا غلط ہے۔‘‘
*********