خدا بخش لائبریری میںپہلے عالمی مورخ رشید الدین فضل اللہ اور ان کی کتاب جامع التواریخ پر لکچر

تاثیر،۶ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ: 6جنوری: خدا بخش لائبریری میں پہلے عالمی مورخ رشید الدین فضل اللہ اور ان کی جامع التواریخ پر لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے اپنے افتتاحی کلمات میں فرمایا کہ یہ خدا بخش لائبریری کی خوش قسمتی ہے کہ بیرون ممالک سے متعدد اسکالر اپنے ریسرچ کے سلسلے میں خدا بخش لائبریری تشریف لاتے ہیں اور اپنی تحقیق سے متعلق مواد سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے گراں قدر خیالات سے ہمیں نوازتے رہتے ہیں۔ آج پروفیسر جودیتھ پفیفر، بون یونیورسٹی ہمارے درمیان موجود ہیں جو عالمی تاریخ نویسی کے تعلق سے پہلے عالمی مورخ رشید الدین فضل اللہ اور ان کی کتاب جامع التواریخ پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کریں گی۔ اس سے یقیناً تاریخ نویسی کے تعلق چند نئی تحقیقات سے ہمیں شناسائی ہوگی۔
پروفیسر جودیتھ پفیفر نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ رشید الدین فضل اللہ ہمدانی فارس کے وزیر اعظم ، تاریخ دان اور ماہر طبیعیات بھی تھے۔ ان کا سب سے بڑ اکارنامہ ان کی تالیف جامع التواریخ ہے جو انہوں نے منگولیا کے ایلخانی بادشاہ اباقا خان کے کہنے پر مکمل کی۔انہیں 70 سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ تاریخ وقائع عالم اور خاص کرغازان کی بادشاہت کے تفصیلی حالات پر مشتمل ہے۔ طاقتور سلطنتیں مورخوں کے ذریعے اپنے اقتدار کے تسلسل کو قلمبند کراتی تھیں۔ جیسے منگول کے حکمران محمود غازان نے درباری مورخ رشید الدّین کو تاریخی دستاویزات دے کر کہا کہ وہ اْس کے خاندان کی تاریخ لِکھے۔ رشید الدّین نے جامع التواریخ لکھ کر اس منصوبے کو پورا کیا۔ انھوں نے بتایا کہ جامع التواریخ کے 72مخطوطات پوری دنیا میں موجود ہیں۔ خدا بخش لائبریری کے مخطوطات بھی بڑے اہم اور قیمتی ہیں۔ انھوں نے جامع التواریخ کے مصور نسخہ کا سلائڈس کے ذریعہ تعارف کرایا اور اس میں درج تصاویر پر روشنی ڈالی۔ جامع التواریخ کی اپنی اہمیت ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر فارسی اور دیگر زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ جامع التواریخ کے علاوہ رشید الدین فضل اللہ کی متعدد تصانیف ہیں جن وقف نامہ رشیدی، کتاب فی التفاسیر اور کتاب فی المباحث السلطانیہ وغیرہ کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ جامع التواریخ نے عالمی تاریخ نویسی کا ایک نمونہ پیش کیا ہے جس کے پیروی بعد کے مورخوں نے کی ہے۔