تاثیر،۱ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
نیپال کے جنگلات میں ملی لاش، آدھار کارڈ سے ہوئی شناخت
مکیر/سارن(نقیب احمد)
تھانہ علاقہ کے کشہا گاؤں کا ماحول اس وقت سوگوار ہو گیا جب دو ماہ سے لاپتہ 60 سالہ شخص کی موت کی خبر لواحقین کو ملی۔میکر کی پولیس نے انہیں فون پر مطلع کیا کہ نیپال میں شیر کے حملے میں ان کی موت کی اطلاع ملی ہے۔متوفی 60 سالہ ذاکر حسین بتائے جاتے ہیں۔مقتول کے بیٹے نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ قبل ان کے والد صبح سیر کے لیے گھر سے نکلے اور شام تک گھر واپس نہیں آئے۔گھر والوں نے بہت تلاش کیا لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا۔اس سلسلے میں میکر تھانے میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی گئی۔پولیس کی کوششوں کے باوجود بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔دریں اثنا 29 دسمبر کو مکیر تھانہ کو نیپال پولیس سے والد کی موت کی اطلاع ملی۔اطلاع کی بنیاد پر اہل خانہ نیپال پہنچے اور وہاں سے لاش کو گھر لایا گیا۔بیٹے محمد سراج نے بتایا کہ نیپال انتظامیہ کی جانب سے ایک مکتوب جاری کیا گیا ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ لاش ضلع باڑہ کے تھانہ سمرہ کے جنگل میں پڑی تھی۔کہا جاتا ہے کہ ذاکر حسین بھٹکتے ہوئے نیپال کے جنگلوں میں داخل ہو گئے تھے۔جہاں شیر نے حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔ متوفی کے پاس سے برآمد شدہ آدھار کارڈ کی بنیاد پر شناخت کی گئی۔اس کی اطلاع نیپال پولیس نے رکسول تھانہ کو دی۔رکسول پولیس نے مکیر تھانہ کو مطلع کیا۔جس کی بنیاد پر مکیر تھانہ نے لواحقین کو اطلاع دی۔میت گھر پہنچتے ہی اہلیہ رابعہ خاتون،بیٹے محمد سراج،محمد معراج،محمد نثار،محمد شاہد،بیٹی سفینہ خاتون آہ و بقا کرنے لگے۔شیر کے حملے سے ہلاکت کی خبر سنتے ہی لوگوں کی بھیڑ میت کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئی۔یہ واقعہ علاقے میں موضوع بحث بن گیا ہے۔مقتول کے بیٹے نے نیپال میں اپنے والد کی موت کے واقعہ کے حوالے سے محکمہ آفات سے حکومتی تعاون کی درخواست کی ہے۔

