سیاست میں کب کیا ہوگا یہ کہنا مشکل ہے

تاثیر،۶ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

ایک بار پھر یہ خبر ہوا میں گشت کرنے لگی ہے کہ انڈی الائنس کے کنوینر نہیں بنائے جانے کی وجہ سے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ناراض ہیں۔حالانکہ وہ شروع سے ہی خود کو وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونے کی بات کرتے رہے ہیں۔کہا یہ جا رہا ہے نتیش کمار نے ذات کی بنیاد پر سروے اور ریزرویشن کا قومی مسئلہ اپوزیشن کو دیا۔ یہ بھی سچ ہے کہ نتیش کے اس ایشو کو راہل گاندھی سے لے کر تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے استعمال کیا۔ ذات کے سروے کی آواز ہر غیر بی جے پی کی حکومت والی ریاست میں گونجنے لگی۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں ذات کی بنیاد پر سروے کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا گیا تھا۔
یہ حقیقت ہے کہ نتیش کمار نے ہی بی جے پی کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کیا۔ ممتا بنرجی اور اروند کیجریوال کانگریس کے نام پر لڑتے رہے ہیں۔ بنگال میں ممتا بنرجی بی جے پی کی طرح کانگریس کو بھی اپنا دشمن قرار دیتی رہی ہیں۔ وہ بنگال میں کانگریس کو دو سے زیادہ سیٹیں دینے کو تیار نہیں ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے کانگریس کی حکومت ختم کرنے کے بعد ہی دہلی میں حکومت بنائی۔ اروند کیجریوال کی پارٹی کی پنجاب ریاستی اکائی کانگریس کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد پر اٹل ہے۔ اگر ایسے اپوزیشن لیڈر کانگریس کے ساتھ بیٹھنے کو تیار تھے تو نتیش نے اس میں کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود انھیں اپوزیشن اتحاد کا کنوینر نہیں بنایا جانا نتیش کمار سے کہیں زیادہ چند سیاسی مبصرین کے لئے پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔
میڈیا میں یہ بات بڑی زور و شور سے اٹھایا جا رہا ہے کہ نتیش کمار نے نہ صرف اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بڑا رول ادا کیا بلکہ انہوں نے ذات کی بنیاد پر سروے اور انتخابات کے لیے ریزرویشن کا قومی مسئلہ بھی پیش کیا۔ اس کام میں نتیش کی کامیابی کے بعد کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے فوراً اس معاملے کو پکڑ لیا۔ کانگریس نے حال ہی میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بھی اسے ایک مسئلہ بنایا تھا۔ پھر بھی، کسی نے نتیش کو وہ توجہ نہیں دی جس کے وہ حقدار تھے۔ نتیش انڈی الائنس کی میٹنگوں میں شرکت کرتے رہے اور ان کا کردار ایک عام سامع سے زیادہ نہیں تھا۔ ایسے میں اپوزیشن اتحاد سے نتیش کی ناراضگی فطری ہے۔ اس صورتحال جے ڈی یو لیڈر اچھا سگنل نہیں سمجھ رہے ہیں۔
یہ بات پوری دنیا مانتی ہے کہ دیگر اپوزیشن لیڈروں کے مقابلے نتیش کمار کی شبیہ بہت صاف ہے۔ راہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی، ممتا بنرجی، تیجسوی یادو، ہیمنت سورین اور اروند کیجریوال جیسے لیڈروں میں شبیہ کے لحاظ سے نتیش ایک چمکتے ستارے کی طرح نظر آتے ہیں۔ نتیش پر نہ تو اقربا پروری کا الزام ہے اور نہ ہی بدعنوانی کا۔ نتیش کو مخلوط حکومت چلانے کا تقریباً دو دہائیوں کا تجربہ ہے۔ وہ مرکز میں وزیر رہ چکے ہیں۔ مسلسل 18 سال تک بہار کے وزیر اعلی رہنے کے بعد انہیں حکومت چلانے کا طویل تجربہ ہے۔ اتنی صاف ستھری شبیہ اور خوبیوں کے باوجود نتیش کمار کو اپوزیشن اتحاد کا کنارہ کش ہو نا اپوزیشن اتحاد کے حق میں نہیں ہے۔
ایسے میں یہ اٹھایا جا رہا ہے اتنی خوبیوں کے باوجود اتحاد میں نتیش کے لیے کوئی قابل احترام جگہ کیوں نہیں بنائی گئی، جس کا ان کی پارٹی جے ڈی یو مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اس سوال کا جواب بھی دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ نتیش کمار کی غیر مستحکم سیاست کی وجہ سے کسی کو ان پر بھروسہ نہیں رہاہے۔ وہ کب کس سیاسی کیمپ کا حصہ بنیں گے یہ کسی کو پتہ نہیں ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے نتیش پر بھروسہ نہ کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس این ڈی اے اور نئے بننے والے اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کے ساتھ آنے اور جانے کا ریکارڈ ہے۔دوسری بات یہ بتائی جا رہی ہے کہ للن سنگھ کو جے ڈی یو صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد جب جے ڈی یو کے این ڈی اے کی طرف جھکاؤ کی خبریں آنے لگیں تو صرف نتیش ہی نہیں، جے ڈی یو کے کسی لیڈر نے اس کی تردید نہیں کی۔اس کے علاوہ ذات کی بنیاد پر سروے کے بعد، جس طرح سے اسمبلی میں آبادی کنٹرول پر نتیش کی زبان پھسل گئی یا جس طرح انہوں نے سابق سی ایم جی رام مانجھی پر غصے میں تبصرہ کیا اس کو بھی ان کی صحت سے جوڑ کر لوگ دیکھ رہے ہیں۔
ایک خاص ذہنیت کے حامل سیاسی مبصرین نہیں چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ ایسے لوگوں کا ماننا ہے کہ نتیش کمار اگر اپوزیشن اتحاد سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں تو اپوزیشن اتحاد کواپنی موت مر جا ئے گا۔وہ لوگ اپنے خیال کو جے ڈی یو کےدو تین لیڈروں کے بیانات سے جوڑتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نتیش کمار کو اب اپوزیشن اتحاد کا آرڈینیٹر نہیں بلکہ انھیں اپوزیشن کی جابنب سے وزیراعظم کا امیدوار قرار دیا جائے۔ ویسے الکشن آتے آتے اپوزیشن کی سیاست کس راستے پر جائے گی، اس سلسلے میں ابھی دعوے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ویسے وزیر اشوک چودھری کا کہنا بالکل درست ہے کہ سیاست میں کب کیا ہوگا یہ کہنا مشکل ہے۔
********************