تاثیر،۲۴ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
حضرت مخدوم منعم پاکبازؒ کے 260ویں عرس کے موقع پر سلسلہ کے زیر اہتمام ’’مخدوم شاہ منعم پاکؒ حیات و خدمات‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے سمینار میں آج ملک و بیرون ملک کے مقالہ نگاروں نے حضرت کی زندگی، خانقاہ، سلسلہ، تعلیمات اور تصنیفات پر الگ الگ جہت سے روشنی ڈالی۔ سمینارکی شروعات محمد عدنان کی تلاوت سے ہوا۔ سہجاب اشرفی (پٹنہ) اور مولانا محمد ربیع الحسن چاٹگام (بنگلہ دیش) نے نعت شریف پڑھنے کی سعادت حاصل کی اور عظمت رضانے منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔
سمینار کے آغاز میں پروفیسر سید شاہ مسعودالرحمن، جنرل سکریٹری سلسلہ نے حاضرین و مقالہ نگاران کا استقبال کیا۔ مقالہ نگاروں میں عبدالہادی نے خانقاہ منعمیہ کی لائبریری کا تعارف کرایا اور یہاں کی مطبوعات و مخطوطات سے روشناس کیا۔ اسامہ غنی نے اپنے مقالے میں مخدوم منعم پاک اور خانوادۂ بلخیہ کے رشتے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر نسیم اختر نے ’’مخدوم منعم پاک: آسمان تصوف کا درخشندہ ستارہ‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ مولانا مظہرالکبریا صدیقی نے ’’مخدوم منعم پاک اور علم حدیث‘‘ کے موضوع پر گرانقدر معلومات فراہم کیں۔ بنگلہ دیش سے تشریف لائے دلاور مسعود نے بنگلہ دیش میں سلسلہ منعمیہ کے حوالے سے انگریزی میں اپنا مقالہ پیش کیا اور بتایا کہ سلسلہ منعمیہ دائمیہ بنگلہ دیش کا سب سے بڑا صوفی سلسلہ ہے جس کی پچاس سے زاید خانقاہیں اور دس ہزار سے زاید ذیلی شاخیں ہیں۔ مفتی آفتاب رشک مصباحی نے خانقاہ منعمیہ کی علمی خدمات پر اپنے اعتبار سے روشنی ڈالی اور مولانا محب اللہ مصباحی نے خانقاہ منعمیہ کی مطبوعہ اور زیر طبع کتابوں کا بھرپور تعارف کرایا۔ مولانا آفتاب عالم مصباحی نے مخدوم منعم پاک کے خلفا کے حوالے سے اپنا مقالہ حاضرین کے سامنے رکھا۔ اخیر میں مولانا توفیق احمد ازہری نے مخدوم منعم پاک کی ایک تصنیف ’’نقش نکات فصوص‘‘ کا سیر حاصل تعارف کرایا اور حضرت مخدوم کی علمی شخصیت کا ایک خاکہ حاضرین کے سامنے پیش کیا۔
صدارتی کلمات کے طور پر حاضرین سے خطاب فرماتے ہوئے خانقاہ منعمیہ کے سجادہ نشیں اور سلسلہ کے سرپرست حضرت سید شاہ شمیم منعمی نے بڑے ہی دلنشیں انداز میں حضرت مخدوم کی مذہب و ملت سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی خدمت کا جذبہ حاضرین کے سامنے رکھا اور ان کی علمی اور روحانی حیثیت پر مستقل گفتگو اور تبادلہ خیال کی اہمیت بتائی۔ صدر سلسلہ جناب ابوالحسن صاحب نے اظہار تشکر کیا۔ سمینار کی نظامت کی ذمہ داری احمد بدر (جمشیدپور) نے ادا کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر ریحان غنی،ڈاکٹر اشرف النبی قیصر،ڈاکٹر سیدمسعود عالم، سلطان آزاد، ڈاکٹر اکبر علی، عاصم صدیقی، سیدفیض الرحمن، سیدشہاب احمد منعمی اور مقامی لوگوں کے علاوہ بڑی تعداد میں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے تشریف لائے۔ عقیدمت مندان اور زایرین شریک تھے۔

