نئے سال پر اسرو نے تاریخ رقم کی، ایکسپوسیٹ لانچ کیا، بلیک ہول کے رازسے اٹھائے گا پردہ

تاثیر،۱ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

امراوتی (آندھرا پردیش)،یکم جنوری :۔ سال کے پہلے دن پیر کی صبح انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے ایکسپوسیٹ (ایکس-رے پولاری میٹر سیٹلائٹ) کو لانچ کرکے تاریخ رقم کر دی۔
اسے صبح 9.10 بجے سری ہری کوٹا خلائی مرکز سے لانچ کر ہندوستان ایسا کرنے والا دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے۔ ایکپوسیٹ بلیک ہول کے راز سے پردہ اٹھائے گا۔ درحقیقت رصد گاہ کوایکسپوسیٹ یا ایکس-رے پولاری میٹرسیٹلائٹ کہا جاتا ہے۔
یہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ہندوستان کا تیسرا مشن ہے۔ ہندوستان اب دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے جس نے ایک جدید فلکیاتی آبزرویٹری لانچ کی ہے۔ اسے خاص طور پر بلیک ہولز اور نیوٹران ستاروں کے مطالعہ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ سال 2024 کے پہلے دن فلکیات کی دنیا میں ہندوستان کے لیے ایک بڑی چھلانگ ثابت ہوگی۔ اس سے قبل، دنیا پہلے ہی سال 2023 میں ہندوستان کے چندریان -3 کی کامیابی کا جشن منا چکی ہے۔
ایکسپوسیٹ ایکسرے کے ذرائع کا پتہ لگانے اور ‘بلیک ہولز’ کی پراسرار دنیا کا مطالعہ کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ مشن تقریباً پانچ سال تک جاری رہے گا۔ اس مشن میں پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی)-سی 58 راکٹ اپنی 60 ویں پرواز بھری ۔ اس میں ایکسپوسیٹ اور 10 دیگر سیٹلائٹ کو زمین کے نچلے مدار میں نصب کرے گے۔ اسرو کے علاوہ، امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا نے دسمبر 2021 میں سپرنووا دھماکے کی باقیات، بلیک ہولز سے نکلنے والے ذرات اور دیگر فلکیاتی مظاہر کا بھی ایسا ہی مطالعہ کیا تھا۔
ملک کی چار خلائی اسٹارٹ اپ کمپنیوں نے پی ایس ایل وی -سی 58 مشن پرسیٹلائٹ کو اپنے مطلوبہ مدار میں رکھنے والے مائیکرو سیٹلائٹ سب سسٹم، تھرسٹرس یا چھوٹے انجن اور سیٹلائٹس کو تابکاری سے بچانے کی اپنی خصوصیات کا مظاہرہ کرنے کے لئے اپنے خلائی آلات (پے لوڈ) کو لانچ کرنے کی تیاری میں ہیں۔ ان کمپنیوں میں حیدرآباد کی دھرو اسپیس، بنگلورو کی بیلاٹرکس ایئرواسپیس ، ممبئی کی انسپیسٹی اسپیس لیبس پرائیوریٹ لمیٹڈ اور حیدرآباد کی ٹیکک می ٹو اسپیس شامل ہیں۔
یہ راکٹ پی ایس ایل وی -ڈی ایل ورژن ہے۔ اس کا وزن 260 ٹن ہے۔ قابل ذکر ہے کہ خلائی ایجنسی نے اپریل 2023 میں پی ایس ایل وی -سی 55 مشن میں پی او ای ایم -2 کا استعمال کرتے ہوئے اسی طرح کا ایک کامیاب تجربہ کیا تھا۔پی او ای ایم (پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول )کا ایک تجرباتی مشن ہے۔ پی ایس ایل وی کے چوتھے مرحلے کے دوران اسے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پی ایس ایل وی چار مرحلے کا راکٹ ہے۔ اس کے پہلے تین مراحل استعمال کے بعد سمندر میں گرتے ہیں اور آخری مرحلہ (پی ایس 4) سیٹلائٹ کو مدار میں بھیجنے کے بعد خلا میں کباڑ بن جاتا ہے۔