ونس میک موہن نے ڈبلیو ڈبلیو ای کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیا

تاثیر،۲۷ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

اسٹیمفورڈ، 27 جنوری : ریسلنگ آئیکون ونس میک موہن نے ایک سابق ملازم کے ذریعہ سنگین جنسی استحصال کے الزام عائد کئے جانے کے بعد جمعہ کو ڈبلیو ڈبلیو ای کی اصل کمپنی سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔
جمعہ کو دیر گئے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، میک موہن نے ڈبلیو ڈبلیو ای کی پیرنٹ کمپنی ، ٹی کے او گروپ ہولڈنگز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایگزیکٹو چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کمپنی کے قانونی اور ٹیلنٹ کے محکموں میں کام کرنے والی ایک سابق ملازم نے میک موہن کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ ملازم نے الزام عائد ہے کہ میک موہن، جو اب 78 سال کے ہیں، نے اسے ملازمت حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے جنسی تعلقات پر مجبور کیا اور اس کی فحش تصاویر اور ویڈیوز ڈبلیو ڈبلیو ای کے دیگر ملازمین سمیت دیگر مردوں کو بھیجیں۔
میک موہن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ڈبلیو ڈبلیو ای اور ٹی کے او گروپ کے لیے “احترام کی وجہ ” سے بورڈ کو چھوڑ رہے ہیں۔
انہوں نے بیان میں کہا، ’’میں اپنے سابقہ بیان پر قائم ہوں کہ میری سابق معاون کا مقدمہ جھوٹ اور فحش من گھڑت واقعات سے بھرا ہوا ہے جو کبھی پیش نہیں آئے اور یہ سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔ میں ان بے بنیاد الزامات کے خلاف بھرپور طریقے سے اپنا دفاع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، میں اپنا نام صاف کرنے کے لئے بے چین ہوں‘‘۔
ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ میک موہن کئی دہائیوں تک ڈبلیو ڈبلیو ای میں لیڈر اور سب سے زیادہ پہچانا جانے والا چہرہ تھے۔ جب انہوں نے 1982 میں اپنے والد سے اس وقت کی ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن خریدی تو ریسلنگ کے مقابلے چھوٹے مقامات پر منعقد ہوتے تھے اور مقامی کیبل چینلز پر دکھائے جاتے تھے۔ ڈبلیو ڈبلیو ای کے میچز اب پیشہ ورانہ کھیلوں کے اسٹیڈیموں میں منعقد کیے جاتے ہیں، اور تنظیم کی بیرون ملک بڑی تعداد میں پیروکار ہیں۔