پرانی پنشن اسکیم: پرانی پنشن اسکیم کا مطالبہ زور پکڑ گیا، ریلوے ملازمین سڑکوں پر آگئے

تاثیر،۱۱ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

بھوپال،11؍جنوری: لوک سبھا انتخابات سے پہلے پرانی پنشن اسکیم کی مانگ ایک بار پھر زور پکڑنے لگی ہے۔ اس سلسلے میں ریلوے ملازمین کٹنی ریلوے جنکشن کے سامنے ویسٹ سنٹرل ریلوے ایمپلائز یونین کے بینر تلے سلسلہ وار بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ ان ملازمین کا مطالبہ ہے کہ نیو پنشن سکیم بند کر کے پرانی پنشن سکیم شروع کی جائے۔ہڑتالی ملازمین نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ریلوے بلاک کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ ملازمین کی بھوک ہڑتال کا جمعرات کو چوتھا دن ہے۔ اس سے قبل این کے جے ہمپ گیٹ اور ڈیزل شیڈ پر بھوک ہڑتال پر بیٹھی تھی۔بھوک ہڑتال پر بیٹھے ایک ملازم پرشوتم پاٹھک نے بتایا کہ 2004 کے بعد بھرتی ہونے والے ریلوے ملازمین کو نیو پنشن اسکیم میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کا مستقبل خطرے میں ہے۔ انہیں پنشن کے طور پر صرف 1000 روپے یا 1200 روپے ملیں گے، جس سے بڑھاپے میں ان کے خاندان کی کفالت میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو ریلوے کو بلاک کر دیا جائے گا۔ساتھ ہی ریلوے ملازم اوم پرکاش مشرا جو کہ پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کرنے کے لیے بھوک ہڑتال پر ہیں، نے اپنی تنظیم کے مطالبات کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام ملازمین جو این پی ایس کے تحت ہیں انہیں او پی ایس (اولڈ پنشن اسکیم) کے تحت لایا جائے، تاکہ بڑھاپے میں ان کی پنشن کو محفوظ بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ او پی ایس کو لاگو کرکے ہمارا مستقبل محفوظ بنایا جائے۔