!چڑیا چُگ گئی کھیت

مانا جا رہا ہے کہ رام مندر کی ’’پران پرتیشٹھا‘‘ کرکے اور کرپوری ٹھاکر کو ’’ بھارت رتن‘‘ ایوارڈ د ینے کا اعلان کرکے بہار میں جوسیاسی پچ تیار کی گئی ، اس پر اب دھواںدھار بیٹنگ کرنا بی جے پی کے لئے پہلے سے بہت آسان ہو گیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کو ’’انڈیا‘‘ سے الگ کرکے’’ این ڈی اے‘‘ میں شامل کرنے سے نہ صرف بہار کی سبھی 40 سیٹوں پر چناوی جیت کا راستہ ہموار ہوا ہے بلکہ قومی سطح پر’’ ابکی بار 400 کے پار‘‘ کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ہوا میں گشت کر رہی کچھ اس طرح کی باتیں ، صرف باتیں ہی نہیں ہیں۔ اس میں بہت حد تک سچائی بھی ہے۔سچائی اس لئے ہے کہ نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بی جے پی نے بہار کے پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کے رائے دہندگان کو اپنے دائرے میں سمیٹنے کی سیاست تیز کر دی ہے۔
یہ جگ ظاہر ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے جشن اور کرپوری ٹھاکر کو’’ بھارت رتن‘‘ سے نوازنے کے اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی کی سیاسی ڈور پہلے سے مضبوط ہوئی ہے۔ بہار میں اقتدار کی تبدیلی اور نئی حکومت میں ’’لوکُش‘‘ ایکویشن کے ذریعہ سوشل انجینئرنگ کا جوجال بُنا گیا ہے، وہ لوک سبھا انتخابات کے مد نظر این ڈی کے لئے بہت ہی معاون ہے۔اس سلسلے میں سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ نتیش کمار کے این ڈی اے میں شامل ہونے سے ریاست کے سیاسی تانے بانے میں 50 فیصد سے زیادہ کی عددی حصہ داری پر’’این ڈی اے‘‘ کا دعویٰ مضبوط ہوا ہے۔ ماہرین کی مانیں تو نتیش کمار حکومت کی کابینہ میں توسیع کے ساتھ ہی سوشل انجینئرنگ کی رہی سہی کمی پوری کر دی جائے گی اور اس طرح آنے والے انتخابات میں بی جے پی کی جڑیں از خود گہری اور مضبوط ہو جائیں گی۔
سیاسی ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بھلے ہی بی جے پی نتیش کمار کے ساتھ اتحاد کرکے بہار میں بر سر اقتدار ہوگئی ہے، لیکن اس کی نظریں 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ایک انفرادی پارٹی کے طور پر خود کی مضبوط واپسی پر ہیں۔بلا شبہہ ذات پات کے تانے بانے کے معاملے میں بی جے پی نے نتیش کی کابینہ میں بڑا دائو کھیلا ہے۔ اس بار بی جے پی نے سمراٹ چودھری کو نائب وزیر اعلیٰ بنا کر نہ صرف ایک مضبوط چہرہ پیش کیا ہےبلکہ اس نے او بی سی میں کوئری برادری سے براہ راست خود کو قریب کر لیا ہے۔ اسی طرح بی جے پی نے وجے کمار سنہا کو نائب وزیر اعلیٰ بنا کر اپنے ایک چناوی خیمہ کو اور مزید مضبوط کیا ہے۔
بی جے پی نے کوئری برادری سے تعلق رکھنے والے سمراٹ چودھری کو کابینہ میں جگہ دی ہے۔بہار میں اس برادری کی آبادی 4 فیصد کے قریب ہے۔ بھومیہار برادری سے تعلق رکھنے والے وجے کمار سنہا کے ذریعہ 3 فیصد کی حصہ داری رکھنے والی آبادی کو مضبوطی کے ساتھ اپنے سےجوڑاہے۔اسی طرح کہار برادری سے تعلق رکھنے والے پریم کمار کو بھی کابینہ میں جگہ د یکر انتہائی پسماندہ طبقے کا دل جیتنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ کابینہ میں اب تک بی جے پی نے بھومیہار، کوئری اور کہار برادریوں کو این ڈی اے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جیسے ہی کابینہ میں توسیع ہوگی، خیال کیا جا رہا ہے کہ سوشل انجینئرنگ کا تا نا بانا مزید مضبوط ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بی جے پی اتر پردیش کی طرح بہار میں بھی اپنی مضبوط حکومت بنانے کی کوشش میں جی جان سے لگی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اب تک بی جے پی نے بہار میں اپنے بل بوتے پر مکمل اکثریت کے ساتھ کبھی حکومت نہیں بنائی ہے۔ بی جے پی کے لئے حکمت عملی تیارکرنے والوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ بہارکی موجودہ حکومت کی مدت اگرچہ ڈیڑھ سال تک ہی رہے گی،لیکن اس مدت کو پارٹی کے لئے ایک بڑے موقع کے طور پر ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذات پات کے تانے بانے کے معاملے میں پارٹی سوورنوں (اپر کلاسز) کے ساتھ پسماندہ، انتہائی پسماندہ اور دلتوں کو اپنے ساتھ ملانے کی ہر ممکن کوشش کر ر ہی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق نتیش کمار کے بی جے پی میں شامل ہونے سے’’ لوکش‘‘ تانے بانے مضبوط ہوئے ہیں۔ اس تانے بانے کی مضبوطی کے تناظر میں یکے با دیگرے رام مندر کے افتتاح کے جشن اور کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن دینے کا اعلان کرکے بی جے پی نے بہار میں ہلچل مچا دی ہے۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بہار میں انتہائی پسماندہ طبقے کی آبادی 36 فیصد سے زیادہ ہے اور اس آبادی کے رائے دہندگان پر نتیش کمار کا مضبوط بھروسہ ہے۔مگر دوسری طرف جس طرح سے مرکزی حکومت کی اسکیموں میں اس طبقے کو ترجیح دی گئی ہے، اس بنیاد پر بی جے پی بھی اس آبادی پر مضبوط دعویٰ جتا رہی ہے۔خیر اب گھی کھچڑی میں گرے یا کھچڑی میں گھی گرے ۔ بات ایک ہی ہے۔ نتیش کمار کے سہارے ہی سہی، بی جے پی اب آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بہار کی سبھی 40 سیٹوں کو جھٹک لینے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ بہار میں درج فہرست ذات کی آبادی تقریباً 20 فیصد ہے۔ پاسوان کی آبادی چھ فیصد اور روی داس کی آبادی ساڑھے پانچ فیصد کے قریب ہے۔ چراغ پاسوان اور پشوپتی کمار پارس کی ایل جے پی کے ساتھ جیتن رام مانجھی کی پارٹی بھی این ڈی اے کی شراکت دار ہے۔ اس لئے بی جے پی ذات پات کے تانے بانے کے معاملے میں خود کو مضبوط سمجھ رہی ہے تو یہ غلط بھی نہیں ہے۔خاص طور پر ایسی حالت میں جب نتیش کمار نے خود کو ’’این ڈی اے‘‘ سے مل کر ’’انڈیا‘‘ کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے۔رہی بات ’’انڈیا‘‘ اور بہار کے ’’عظیم اتحاد کی، تو اس سلسلے میں فی الحال صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’اب پچھتائے ہوت کیا جب چڑیا چُگ گئی کھیت۔‘‘
***********************