تاثیر،۱ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
بھوپال، یکم جنوری : ہٹ اینڈ رن قانون کے خلاف مدھیہ پردیش میں بس ڈرائیور ہڑتال پر ہیں۔ بیشتر اضلاع میں بسوں کے پہیے رک گئے ہیں۔ بھوپال، اندور، گوالیر، جبل پور سمیت دیگر شہروں کے اسٹینڈز سے بسیں نہیں چل رہی ہیں۔ ڈرائیوروں نے ٹریفک جام سے بھی خبردار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ٹرک ڈرائیوروں نے بھی رات 2 بجے سے اپنے ٹرک کھڑے کر دئیے ہیں۔
بھوپال سے ساگر تک بس چلانے والے ایک ڈرائیور کا کہنا ہے کہ میں اپنے ساتھیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ بھی اس قانون کی مخالفت کریں۔ میں نے ا?ئی ایس بی ٹی پر بس کھڑی کر دی ہے۔ نادرا بس سٹینڈ کا بھی یہی حال ہے۔ پیر کو کوئی گاڑی نہیں چلائے گا۔ ہم 10 سال قید کا سامنا نہیں کر سکتے اور نہ ہی 7 لاکھ روپے جرمانہ ادا کر سکتے ہیں۔ اسی دوران ایک ٹرک ڈرائیور نے کہا کہ وہ نئے قانون کے خلاف احتجاج میں اپنا ٹرک پارک کرنے جا رہے ہیں۔ تمام ڈرائیور بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ ویسے بھی ہم ماہانہ 10-12 ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ قانون واپس نہ لیا تو اب کوئی اور کام کریں گے، کیونکہ گھر تو چلانا ہے۔
یہاں ٹرک-ٹینکروں کی ہڑتال کی وجہ سے پیٹرول پمپس پر ایندھن کی قلت شروع ہوگئی ہے۔ جیسے ہی لوگوں کو اس کا علم ہوا وہ پیٹرول پمپس پر پہنچنے لگے۔ ایسے میں پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ بسوں اور ٹرکوں کی اس ہڑتال کے بارے میں آل موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس، نئی دہلی کے چیئرمین سی ایل مکاتی کا کہنا ہے کہ کئی جگہوں سے اطلاعات آرہی ہیں کہ ٹرک ڈرائیور اپنی گاڑیاں چھوڑ رہے ہیں۔ ہم نے اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی خط لکھا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ قانون واپس لینے کے لیے نظر ثانی کی جائے۔ اگر حکومت نے قانون واپس لینے سے انکار کیا تو ہم سب مل کر احتجاج اور مظاہرہ کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش میں 6 لاکھ سے زیادہ بسیں اور ٹرک چلتے ہیں۔ یہ ڈرائیور، کلینر اور کنڈیکٹر سمیت 13 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ صرف دو بڑے شہروں بھوپال اور اندور میں ہزاروں لوگ اس روزگار سے وابستہ ہیں۔

