مجاہد آزادی عباس طیب جی کو 171 ویں یوم پیدائش پر یاد کیا

تاثیر،۴فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

4 فروری 2024 معروف مجاہد آزادی عباس طیب جی کے 171 ویں یوم پیدائش کے موقع پر عباس طیب جی ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیر اہتمام تسمیہ ہال بٹلہ ہاؤس دہلی میں ایک پر وقار جلسہ ڈاکٹر سید فاروق قومی نائب صدر عباس طیب ایجوکیشنل ٹرسٹ کی زیر صدارت منعقد کیا گیا ۔ اس میں مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر افروزالحق سابق وائس چانسلر ایچ اے یونیورسٹی منی پور، ڈائرکٹر و صلاح کار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور نے شرکت کی ۔ جبکہ مہمان ذی وقار کے طور پر پدم سری پروفیسر اخترالواسیع، کرنل دگل، دیاسنگھ اور ایڈوکیٹ انل نوریہ شریک ہوئے ۔
اس موقع پر ایڈوکیٹ انل نوریہ نے عباس طیب جی کی زندگی کے مختلف گوشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ انہوں نے بتایا کہ عباس طیب جی بڑودا کی عدالت میں چیف جسٹس کے عہدے سے سبقدوش ہوئے ۔ اس مقام تک پہنچنے والے وہ پہلے ہندوستانی تھے ۔ ریٹائر منٹ کے بعد ان کی گاندھی جی سے پہلی ملاقات گودھرا میں بالمیکیوں کو ان کے حقوق دلانے کے لئے منعقد کئے گئے جلسہ میں ہوئی ۔ اس کے بعد آزادی کی لڑائی میں وہ گاندھی کے ساتھ شریک رہے ۔ ڈانڈی مارچ کے وقت گاندھی نے کہا تھا کہ اگر میں گرفتار ہو جاؤں تو اس مارچ کو عباس طیب جی لیڈ کریں گے ۔ رولٹ ایکٹ ہو یا غیر ملکی کپڑوں کو ترک کرنے کی مہم ہر قدم پر عباس طیب جی گاندھی جی کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے جلیاں والے باغ سانحہ کی رپورٹ بھی ایک سال سے کم میں تیار کرکے کانگریس کو دی تھی ۔ جو اسی وقت شائع ہوئی تھی ۔ گجرات سے جن حضرات کو منتخب کرکے اے آئی سی سی بھیجا گیا تھا اس میں پہلا نام عباس طیب جی کا تھا ۔ جبکہ گاندھی چوتھے نمبر پر اور پٹیل کا نام گاندھی کے بعد تھا ۔ زندگی کے آخری سال انہوں نے مسوری میں گزارے ۔ 1936 میں یہیں ان کا انتقال ہوا ۔
پروفیسر اخترالواسیع نے عباس طیب جی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اتنی عظیم ہستیوں سے نئی نسل کو واقف کرانے کے لئے اس طرح کے جلسے ہوتے رہنے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ عباس طیب جی کی زندگی پر کتاب تیار ہونی چاہئے جو آزادی کے عظیم مجاید سیریز کے تحت شائع کی جائے ۔ اس موقع پر سکھ اسکالر اور سماجی کارکن دیا سنگھ نے کہا کہ جب تک سکھ اور مسلمان اس ملک میں ہیں تبھی تک یہ ملک سیکولر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کل آزادی کی لڑائی بھی مل کر لڑی تھی آج بھی مل کر رہنے کی ضرورت ہے ۔ کچھ لوگوں نے تاریخ کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن تاریخ ایسی بالکل بھی نہیں ہے جس سے نفرت پیدا ہو ۔ مہمان خصوصی پروفیسر افروزالحق نے کہا کہ عباس طیب جی کی زندگی روشن کی طرح ہے ۔ ایسی شخصیات دنیا میں کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ ان کی زندگی ہمارے لئے مثل راہ ہے ۔ اس تقریب میں کرنل دگل جی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
ڈاکٹر سید فاروق نے اپنے انداز میں عباس طیب جی کو خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عباس طیب جی کی قدروں کو باقی رکھنا چاہئے ۔ آج ان کے مسوری والے مکان میں لڑکیوں کے لئے اسکول چل رہا ہے ۔ ہمیں ان کی جو چیزیں بھی ملی ہیں انہیں محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی نے مہمانوں کا استقبال کی جبکہ محمد اقبال صاحب نے شکریہ کی رسم ادا کی ۔ جلسہ میں پروفیسر، ڈاکٹر، وکلا، عالم دین اور دانشور بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔