تاثیر،۲۱فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ممبئی ،21فروری:مراٹھا ریزرویشن بل مہاراشٹر اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے اور اب اسے قانون ساز کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ اس بل کے ذریعے ریاست میں مراٹھا برادری کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں 10 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔ لیکن حکومت کے ذریعے اس بل کی منظوی کے بعد بھی مراٹھا ریزرویشن کے لیے تحریک چلانے والے منوج جرانگے پاٹل اس فیصلے سے ناراض ہیں اور اپنی اسی ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے اپنے ا?بائی وطن انتراولی سراٹی میں اپنی تحریک کو مزید شدت کے ساتھ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اس تعلق سے میڈیا میں ا?ئی خبروں کے مطابق منوج جرانگے پاٹل نے اسے حکومت کے ذریعے مراٹھوں کو بیوقوف بنانے سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس کے ذریعے ہمیں دھوکہ دیا ہے کیونکہ ہمارا یہ مطالبہ ہرگز نہیں تھا کہ مراٹھوں کو علاحدہ سے ریزرویشن دیا جائے، بلکہ ہم چاہتے تھے کہ مراٹھوں کو کنبی ذات کی بنیاد پر او بی سی میں شامل کیا جائے۔ حکومت نے علاحدہ طور پر ہمیں جو 10 فیصد ریزرویشن دیا ہے وہ عدالت میں قائم ہی نہیں رہ سکے گا، اس لیے حکومت کے ذریعے منظور کردہ یہ بل مراٹھوں کو بیوقوف بنانے کے لیے ہے۔

