تاثیر،۱۳فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
وزیر اعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ اپنی دیگر مصروفیات کے علاوہ آج14 فروری بروز بدھ ملک کی راجدھانی ابوظہبی میںبی اے پی ایس یعنی ’’بوچاونواسی اکشر پروشوتم سوامی ناراین سنستھان ‘ (بی اے پی ایس) نام کے ایک پر شکوہ مندر کا افتتاح بھی کریں گے۔اس مندر کو راجستھانی گلابی پتھر اور اطالوی ماربل کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ابو ظہبی کے ولی عہد نے سنہ 2015 میں پی ایم نریندر مودی کے دورہ کے دوران اس مندر کے لیے 13.5 ایکڑ زمین عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔جنوری 2019 میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے مزید 13.5 ایکڑ زمین عطیہ کی تھی۔ اس کے بعد مجموعی طور پر 27 ایکڑ زمین مندر کے لیے تحفے میں دی گئی ہے۔اس مندر کی بنیاد سنہ 2017 میں وزیر اعظم مودی نے ہی رکھی تھی۔ مندر کے سات مینار متحدہ عرب امارات کی سات امارتوں کی علامت ہیں۔اس مندر کی عمارت میں مہمان خانہ، عبادت گاہ، باغ اور دیگر ادبی جگہیں بنائی گئی ہیں۔ زمین کی حرکت، درجہ حرارت سمیت دیگر عوامل کو کنٹرول کرنے کے لئے اس عمارت میں 100 کے قریب سینسر نصب کیے گئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ 27ایکڑ کے قطعہ اراضی میں سے ساڑھے 13 ایکڑ کو مندر کا حصہ بنایا گیا ہے اور باقی ساڑھے 13 ایکڑ کو پارکنگ ایریا بنایا گیا ہے۔ مند ر کی تعمیر پر تقریباََ 400 ملین درہم خرچ کئے گئے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اس مندر کے افتتاح کے مقصد سے پی ایم نریندر مودی کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہوگا۔ دو طرفہ اور سفارتی تعلقات تو مضبوط ہو نگے ہی مشترکہ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی مفادات کو طاقت ملے گی۔ساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر امن اور خوشحالی کو فروغ بھی حاصل ہوگا۔ متحدہ عرب امارات کے بھارت میں سفیر عبدالناصر جمال الشعالی نریندر مودی کے اے ای دورہ یو کو خاص موقع قرار دیتے ہیں ۔ ان کہنا ہے کہ‘’یہ دورہ علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔ مندر کے افتتاح کے علاوہ امید ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات ’مثبت اور تعمیری‘ ثابت ہو گی۔
یو اے ای کے اس دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات میں مقیم انڈین برادری کے لوگوں سے بھی ملاقات کریں گے۔اس پروگرام کو’ ’اھلاً مودی‘‘ یعنی خوش آمدید مودی کا نام دیا گیا ہے جو کہ چند برسوں قبل امریکہ میں ہونے والے پروگرام’ ’ہاؤڈی مودی‘‘ کی یاد کو تازہ کرتا ہے۔ اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ متحدہ عرب امارات میں آباد بھارتی شہریوں کا سب سے بڑا پروگرام ہو گا، جس سے مودی خطاب کریں گے۔یہ تقریب مندر کے افتتاح سے قبل ابوظہبی کے زیدا سپورٹس سٹی سٹیڈیم میں منعقد کیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے 60 ہزار سے زائد لوگ پہلے ہی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ اس تقریب کی ترجمان نشا سنگھ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل 2015 میں وزیراعظم مودی نے یو اے ای میں بھارتی شہریوں کے ایک پروگرام سے خطاب کیا تھا۔اس کے بعد بھی مودی یو اے ای آئے ہیں، لیکن اس دوران انھوں نےبھارتی کمیونٹی سے ملاقات نہیں کی۔
اِدھردبئی میں مقیم سینیئر صحافی احتشام شاہد کےمطابق ابوظہبی میں بننے والے مندر کے بارے میںبھارت میں ایک جھوٹا بیانیہ چلایا جا رہا ہے کہ یہ خطۂ عرب میں بننے والا پہلا ہندو مندر ہے، جو کہ حقیقت سے بہت دور ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ’عرب ممالک میں مندر کئی دہائیوں سے موجود ہیں اور نہ صرف متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں بلکہ عمان اور بحرین اور دوسرے اسلامی مملک میں بھی ہیں۔‘بحرین کے دارالحکومت منامہ میں بنایا گیا شری ناتھ جی کا مندر ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔ اسے سندھی ہندو برادری نے بنایا تھا، جو تقسیم ہند سے کئی سال پہلے ٹھٹھہ (موجودہ پاکستان کے وبہ سندھ) سے آئے تھے۔پڑوسی ملک سعودی عرب میں رہنے والے اور کام کرنے والے بہت سارے ہندو بھی مقدس مواقع پر اس مندر میں پوجا کرنے آتے ہیں۔عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہندوؤں کے دو مندر ہیں۔ ایک ہندوؤں کے بھگوان شنکر کا مندر موتیشور مندر ہے اور یہ پرانے مسقط کے ’مطرہ‘ نامی علاقے میں واقع ہے۔موتیشور مندر مشرق وسطیٰ کے قدیم ترین ہندو مندروں میں سے ایک ہے۔دبئی کی ترقی پذیر انڈین کمیونٹی میں جنوبی ہندوستانیوں کے علاوہ سندھی، مراٹھی، گجراتی، پنجابی اور دیگر برادریاں رہتی ہیں اور تقریباً تمام بڑے مذاہب کی وہاں کئی دہائیوں سے عبادت گاہیں موجود ہیں۔یہاں مذہبی تقریبات، تہوار اور دیگر پروگرام صرف مندروں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ دبئی اور اس کے آس پاس کے کچھ شہروں اور خلیج کے دیگر حصوں میں دیوالی کی رات میں ویسا ہی چراغاں ہوتا ہے، جس طرح انڈیا میں دیکھا جاتا ہے۔
اِدھر سوشل میڈیا پر جہاں ایک طبقہ اسے ’مودی کا کرشمہ‘ بتانے میں لگا ہوا ہے وہیں ایک حلقہ اسے متحدہ عرب امارات اور مسلمانوں کی رواداری کی مثال بتا رہا ہے۔سدھانت سمبل نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ مندر ہندو روایات اور متحدہ عرب امارات کی رواداری اور سخاوت کے ہم آہنگ امتزاج کی علامت ہے۔‘ اس سے قبل سنہ 2019 میں جب اس وقت کے کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے دبئی کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات مختلف نظریات، مذاہب اور برادریوں کے لیے رواداری کا مرکز ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ ہمارے وطن میں ساڑھے چار سال سے عدم برداشت کا دور دورہ ہے۔‘‘جنوبی ریاست کیرالہ سے رکن پارلیمان پی وی عبدالوہاب نے گذشتہ دنوں پارلیمان میں اس حوالے سے بات بھی کی تھی۔ پارلیمنٹ میں دئےگئے ان کے بیان کو بہت سے لوگ شیئر کرتے ہوئے اس کا موازنہ ایودھیا کے رام مندر سے کر رہے ہیں۔عبدالوہاب نے پارلیمنٹ میں یہ بھی کہا تھا’’اب یہاں کی بات کرتے ہیں جہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ گیان واپی مسجد دے دو، یہ مسجد دے دو، وہ مسجد دے دو اور وہاں ایک مسلم ملک میں مندر کے لیے جگہ دی جا رہی ہے۔ آپ کھودیں گے تو بہت سی چیزیں ملیں گی، صرف تیل ہی نہیںملے گا، برائے مہربانی اپنے وزیر اعظم سے کہیں کہ اس چیز کی اجازت نہ دیں۔‘ آر کے رادھا کرشنن نے عبدالوہاب کے بیان کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے انڈیا میں مذہبی رواداری کے حال کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’نریندر مودی متحدہ عرب امارات میں 14 فروری کو ہندو مندر کا افتتاح کریں گے۔ یہ ہوتی ہے رواداری۔ چنانچہ بھارت میںمسجدوں کو کھودنا اور ڈھانا بند کریں۔
************

