تاثیر،۲۱فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
کولکاتہ ،21فروری :بنگال کے بلے باز منوج تیواری جنہوں نے حال ہی میں تمام طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے، ایک کے بعد ایک کئی بڑے بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد کچھ معاملات میں متنازعہ بیانات دیئے ہیں۔ اب انہوں نے ایک اور بڑا انکشاف کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل 2013 کے دوران ڈریسنگ روم میں ان کی گوتم گمبھیر سے لڑائی ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس لڑائی کی وجہ سے انہیں کولکاتہ نائٹ رائیڈرز سے باہر ہونا پڑا۔منوج تیواری 2008 سے آئی پی ایل کا حصہ تھے۔ وہ آئی پی ایل کے پہلے اور دوسرے سیزن میں دہلی ڈیئر ڈیولز کا حصہ رہے اور پھر سال 2010 میں انہوں نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں شمولیت اختیار کی۔ سال 2012 میں انہوں نے ہی فائنل میں فاتح رنز بنا کر کے کے آر کو چمپئن بنایا تھا۔ لیکن 2013 میں ان کی اپنے ہی کپتان سے ایسی لڑائی ہوئی کہ انہیں کے کے آر چھوڑنا پڑا۔منوج تیواری نے کہا کہ جب میں کے کے آرمیں تھا، میری ڈریسنگ روم میں گمبھیر کے ساتھ زبردست لڑائی ہوئی تھی۔ یہ بات کبھی سامنے نہیں آئی۔2012 میں کے کے آر چمپئن بن گیا اور مجھے مزید ایک سال کے کے آر کے لیے کھیلنے کا موقع ملا۔ اگر میں 2013 میں گمبھیر سے نہ لڑتا تو شاید میں کولکتہ کے لیے مزید 2-3 سال کھیلتا۔ اگر ایسا ہوتا تو مجھے معاہدے کے مطابق جو رقم ملنی تھی وہ بڑھ جاتی، میرا بینک بیلنس مضبوط ہوتا لیکن میں نے اس کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔منوج تیواری نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ دہلی ڈیئر ڈیولز کا حصہ تھے اور انہیں پلیئنگ 11 میں موقع نہیں مل رہا تھا تو انہوں نے دہلی فرنچائز کی انتظامیہ سے انہیں ریلیز کرنے کے لیے کہا تھا۔ تیواری نے بتایا کہ جب میں دہلی میں تھا، گیری کرسٹن کوچ تھے۔ ہمارا پلیئنگ 11 ایک کے بعد ایک میچ میں فلاپ ہو رہا تھا۔ میچ میں قابل کھلاڑیوں کو موقع نہیں مل رہا تھا۔ ایسے میں میں سیدھا انتظامیہ کے پاس گیا اور کہا کہ اگر آپ مجھے پلیئنگ 11 میں شامل نہیں کر سکتے تو مجھے ٹیم سے ریلیز کردیں۔منوج تیواری نے ٹیم انڈیا کے لیے 12 ون ڈے اور 3 ٹی 20 انٹرنیشنل کھیلے۔ انہیں آخری بار سال 2018 میں آئی پی ایل کھیلتے دیکھا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بنگال کی ٹیم کے لیے کھیلتے رہے ہیں۔

