تاثیر،۲۶فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
دوحہ،26فروری:اسرائیل کی جانب سے قطر میں اپنے مذاکرات کار بھیجنے کے اعلان کے بعد اسرائیلی خفیہ ادارے ’موساد‘ کے سربراہ پر مشتمل ایک وفد آج دوحہ پہنچے گا۔ یہ وفد غزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی اور ممکنہ جنگ بندی کی تجاویز پر بات کرے گا۔امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی وفد کی آج سوموار کو قطر آمد متوقع ہے، جو جنگ بندی کے نئے معاہدے پر بات چیت کرے گا۔
اخبار نے عہدیدار کے حوالے سے مزید کہا کہ قطر میں ہونے والی بات چیت تفصیلی اور گہرائی میں ہوگی۔ ثالث ممالک ان میں شرکت کریں گے تاکہ حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے اور غزہ کی پٹی میں قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اختلافات کم کرتے ہوئے فریقین کے درمیان معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔اسرائیلی اہلکار نے امریکی اخبار کو بتایا کہ توقع ہے کہ اسرائیل موساد کے اہلکاروں کا ایک گروپ بھیجے گا تاکہ وہ فلسطینی حراست میں لیے گئے قیدیوں اور رہا کیے جانے والے قیدیوں کی شناخت جیسی درست تفصیلات پر تبادلہ خیال کرے۔انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ قطر پہنچنے والے وفد کی قیادت موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کریں گے جنہوں نے پیرس مذاکرات میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی۔جبکہ اخبار نے ایک مصری اہلکار کے حوالے سے کہا کہ پیرس مذاکرات قطر اور پھر قاہرہ میں بعد میں جاری رہنے کی امید ہے۔
یہ پیش رفت ایک سینیر اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کی جانب سے غزہ کے حوالے سے میز پر رکھی گئی ایک نئی تجویز کے بارے میں کچھ تفصیلات سامنے آنے کے بعد سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں غزہ میں قید ہر اسرائیلی قیدی کے لیے ایک دن کے لیے لڑائی روکنا شامل ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جنگ بندی میں تقریباً چھ ہفتوں تک توسیع ہو سکتی ہے، اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق 40 افراد کی رہائی متوقع ہے۔
نیز فلسطینی دھڑوں کی طرف سے رہا کیے گئے ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے دس فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔اس کے علاوہ معاہدے میں جنوبی غزہ کی پٹی سے بے گھر ہونے والے افراد کی شمال میں اپنے گھروں کو واپسی کے لیے اسرائیل کی منظوری کے ساتھ ساتھ پٹی کی تعمیر نو کی تجویز بھی شامل ہے۔اسرائیلی ذرائع نیاس امید کا اظہار کیا کہ رمضان المبارک سے پہلے مفاہمت طے پا جائے گی اور قاہرہ میں مذاکرات کا امکان ہے۔قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان آخری معاہدہ گذشتہ نومبرکے آخر میں ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں 100 کے قریب اسرائیلیوں کو رہا کیا گیا تھا جنہیں گذشتہ سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں منتقل کردیا گیا تھا۔

